حکومت آئندہ الیکشن میں ڈیجیٹل دھاندلی کرنا چاہتی ہے ،جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ

وزراء کی بازاری زبان کو لگام دینے کیلئے عدلیہ سمیت تمام ادارے خاموش ہیں الیکشن کمیشن کو فتح کرنے کے لیے حکومت اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے،مولانا عبدالرحمن رفیق ودیگر کا بیان

منگل 21 ستمبر 2021 00:20

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 ستمبر2021ء) جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر مولانا عبد الرحمن رفیق ،سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد جنرل سیکریٹری حاجی بشیر احمد کاکڑ مولانا محمد ایوب مفتی عبد السلام ریئسانی مولانا مفتی عبد الغفور مدنی حافظ شبیر احمد مدنی حافظ سراج الدین حافظ مسعود احمد سیکرٹری اطلاعات عبدالغنی شہزاد میرفاروق لانگو مفتی نیک محمد فاروقی چوہدری محمد عاطف سیکرٹری مالیات میرسرفراز شاہوانی ایڈووکیٹ سالار حافظ مجیب الرحمٰن ملاخیل مولانا سید سعداللہ آغا حاجی صالح محمد اور دیگر نے کہا ہے کہ حکومت آئندہ الیکشن میں ڈیجیٹل دھاندلی کرنا چاہتی ہے ، وزراء کی بازاری زبان کو لگام دینے کیلئے عدلیہ سمیت تمام ادارے خاموش ہیں الیکشن کمیشن کو فتح کرنے کے لیے حکومت اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے ،مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی بل، وقف املاک ایکٹ، الیکشن کمیشن جیسے ایشوز ڈال دئیے گئے ہیں، انہوں نے کہا کہ ملک اور حقیقی جمہوریت کیلئے جمعیت کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، کوئٹہ میں کامیاب پروگراموں کے انعقاد نے کارکنوں کو نیا ولولہ عطاء کیا اسلام مخالف کسی بل کو نافذ نہیں ہونے دیں گے ، مغربی آقاؤں کی خوشنودی کیلئے حکمرانوں کی اسلام دشمن فیصلے وطن عزیز کی اساس اور بنیاد کے خلاف ہیں اس وقت جمعیت علماء اسلام ملک کی اسلامی تشخص اور بقاء کی جنگ لڑ رہی ہے، وقف املاک ایکٹ گھریلو تشدد بل کو مسترد کرتے ہیں،قائد جمعیت کی الولعزم قیادت پر اندھا اعتماد ہے جمعیت علماء اسلام اکابرین کی مقدس اور نظریاتی امانت ہے معمولی معمولی چیزوں ان کے اصولوں پرخچے اڑانے والے خسارے میں ہوں گے،جماعت کے اندر رہ کر ہی ان کی فعالیت ممکن ہے، جماعتوں اور تحریکوں کے اندر اتار چڑھاؤ ضرور آتا ہے مگر کامیابی کے سفر پر نظریاتی تحریک روشن مستقبل کی جانب گامزن ہوتی ہے، مدارس میں پڑھنے اور پڑھانے والے دنیا کی سیاسی صورتحال سے بخوبی آگاہ ہیں، وہ اپنی ذمہ داریوں سے واقف ہیں، جماعت کے کارکن خامیوں کے بجائے اچھائیوں کو آئیڈیل بناکر سیاسی جدوجہد میں کوئی کوتاہی نہ کریں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام میں ہم خادم ہیں مالک نہیں ہیں کیونکہ سوسالہ تاریخ میں جمعیت علماء اسلام کے تسلسل میں بہت سے اشخاص آئے اور چلے گئے مگر جمعیت کی تحریک کا بہار زندہ وتابندہ رہے گی، کارکن جماعت کے پروگراموں میں بڑھ چڑھ کرحصہ لے کر ہر قسم کی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیلئے کمربستہ ہوں۔ کنٹونمنٹ بورڈ الیکشن میں جمعیت علماء اسلام کی مہم قابل تحسین ہے مگر مقتدر حلقوں کی آشیرباد سے ہمارا راستہ روکا گیا، جمعیت علماء اسلام نے جوانمردی کے ساتھ مقابلہ کیا جو فضاء ہمارے خلاف بنائی گئی اسی فضاء میں کوئی بھی طاقت ور شخص کامیاب نہیں ہوسکے گا۔

ہماری فتح کو شکست سے تبدیل کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جو قومیں سیاسی شعور کی روشنی میں فیصلہ کرنا جانتی ہوں وہ اپنی آزادی کی حفاظت بھی خوب کر سکتی ہیں۔انہوں نے کہا جمعیت علماء اسلام کٹھ پٴْتلی حکومت کے خلاف روز اول سے برسرِ پیکار ہے جلدہی ان کا بستر گول کردم لے گی اور پاکستان کو ایک فلاحی ریاست میں تبدیل کرنے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے قوم کو بیدار کریگی جمعیت علماء اسلام سمجھتی ہے کہ یہ کٹھ پتلی حکومت ملک کی معاشی اور نظریاتی قاتل ہے اس حوالے سے ہر فرد کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اسلامی نظریے کی حفاظت کے لیے اپنا کردار اداکریں کیوں کہ اس وقت تک ہماری پالیسی پر امریکی و بیرونی سامراج کا دباؤ رہا ہے طالبان کی جدوجہد اور قربانیاں قابل فخر ہیں جنہوں نے وقت کے استعمار کو زیر کیا، جمعیت علماء اسلام ملک میں حقیقی آزادی کے تصور کے ساتھ قوم کو لائحہ عمل دے کر آزادی کے نصب العین حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی انہوں نے کہا کہ آزادی کے مقاصد کے حصول کیلئے ہماری جدوجہد جاری ہے دو قومی نظریہ اور اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں اسلامی شعائر کی حفاظت کیلئے جمعیت علماء اسلام کے کارکنوں اور قائدین نے جان کے نذرانے پیش کیئے اور جمہوری انداز میں رہنے کیلئے عوام کو شرافت کی سیاست سے روشناس کرایا جمعیت علماء اسلام نے پاکستان میں دلیل اور پرامن سیاست کے فروغ کیلئے جو وصول متعارف کروائے وہ تمام جماعتوں کیلئے مشعل راہ ہے انہوں کہا کہ ہرقسم حالات میں جمعیت کی جدوجہد کا بہار زندہ رہے گا قیام سے لے کر آج تک جماعت نے اور کھٹن راستوں پر سفرجاری رکھا ہے لیکن بدقسمتی سے جمعیت علماء اسلام اور عوام کے درمیان دوری پیدا کرنے کی کوششیں ناکام ہوئیں جمعیت علماء اسلام آئین اور جمہوریت کی پاسدار ہونے کے ناطے تمام تر ناانصافیوں اوچھے ہتھکنڈوں کے باوجود ملک کے کروڑوں محکوم اور مظلوم عوام کو امن آئین اور جمہور کادرس دے رہی ہے۔

کوئٹہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments