آؤ اسکول ا سکول کھیلیں!

ہر سال دو سال کے بعد نصاب تبدیل کر دیا جاتا ہے،کبھی اردو میڈیم تو کبھی انگلش میڈیم کا ڈرامہ رچایا جاتا ہے۔کبھی نصاب کے قدیم ہونے کا رونا رویا جاتا ہے تو کبھی پنجم اور ہشتم کے امتحانات سے چند مضامین کو ختم کر دیا جاتا ہے تو کبھی پنجم اور ہشتم کے امتحانات کو ہی ختم کردیا جاتاہے

Ahmad khan lound احمد خان لنڈ پیر اکتوبر

aoo school. school khelen
ایک مدت گزری ا سکول اسکول کھیلے،لیکن اچانک آج پھر سے اسکول اسکول والے کھیل کی اچانک یاد آئی۔اسکول اسکول والے کھیل کی اچانک یاد تعلیم پر نئی حکومتی پالیسوں کے بارے میں چند اسکول سربراہان کی رائے سن کر یاد آئی ۔بچپن میں جب ہم بچے اسکول اسکول کھیلتے تو بڑی عمر والا بچہ ٹیچر بن جاتا اور اس سے بڑی عمر والا بچہ پرنسپل کے ساتھ ساتھ وزیر تعلیم کی بھی ذمہ داریاں نبھاتا اور لمحہ در لمحہ تعلیمی پالیسی بناتا اور بتاتا کہ بچوں نے کیا پڑھنا ہے ۔

ویسے تو الحمداللہ ! موجودہ حکومت میں ہمارے سارے مسئلے حل ہو چکے ہیں اور ان دنوں باقی مسئلہ عمران کی تقریر کی کامیابی یا ناکامی کی بحث یا مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کے عوامل ، دھرنے کی کامیابی یا نا کامی جیسے معمولی سے مسائل باقی ہیں۔

(جاری ہے)

الحمداللہ ہمارے سارے صوبائی اور وفاقی وزراء بھی بہت قابل افراد ہیں اور ان کی قابلیت کا تمام تر دارومدار ان کی کارکردگی کی بجائے پچھلی حکومتوں کی غلطیوں اور نااہلیوں کو عوام کے سامنے لانا ہے اور حکومت کی نظر میں یہی سب سے بڑی عوامی خدمت ہے۔


اگر ریاست خدا داد میں صرف تعلیم کی ہی بات کی جائے تو اب تک جتنے تجربات ہمارے وزرا اور سیکرٹری ایجوکیشن صاحبان تعلیم پر کر چکے ہیں اس قدر تو نیا میں سائنسدانوں نے شاید ایجادات کے لیے بھی نہیں کئے۔اس قدر تجربات کے بعد بھی اگر کوئی نتیجہ برآمد ہوتا پھر بھی ٹھیک تھا ،لیکن ہم آج بھی تعلیم کے میدان میں دنیا میں وہی پر کھڑے ہیں جہاں پر ہم 70سال پہلے تھے۔

سردار جی کا ایک لطیفہ آپ کے لیے پیش خدمت ہے۔ایک مرتبہ ایک سردار جی چائے کے کپ میں مسلسل چمچ ہلائے جارہے تھے ۔کچھ دیر کے بعد مایوس ہوکر سردار جی نے بھونڈا سا منہ بنایا اور بڑبڑائے ،"تجربہ سے آج ثابت ہوگیا کہ جب تک چائے میں چینی نہ ڈالی جائے چمچ ہلانے سے بھی چائے میٹھی نہیں ہوتی"۔سردار کے لطیفہ میں اور کچھ نہیں کم از کم سردار جی کو تجربہ کا نتیجہ تو سمجھ میں آگیا ،لیکن ہماری بدقسمتی کہ اس قدر تجربات کے بعد بھی اب تلک ککھ بھی ہمارے پلے نہیں پڑا اور پھر سے ہم تعلیم پر نئے تجربات کر رہے ہیں۔

ہر سال دو سال کے بعد نصاب تبدیل کر دیا جاتا ہے،کبھی اردو میڈیم تو کبھی انگلش میڈیم کا ڈرامہ رچایا جاتا ہے۔کبھی نصاب کے قدیم ہونے کا رونا رویا جاتا ہے تو کبھی پنجم اور ہشتم کے امتحانات سے چند مضامین کو ختم کر دیا جاتا ہے تو کبھی پنجم اور ہشتم کے امتحانات کو ہی ختم کردیا جاتاہے۔کبھی نہم ،دہم اور گیارھویں ،بارھویں کے پریکٹیکل کے نمبر متعلقہ مضمون سے الگ کر دیے جاتے ہیں تو کبھی پریکٹیکل کے نمبر باہم ملا دیے جاتے ہیں۔

کبھی نہم دہم کا امتحان الگ کر دیا جاتا ہے تو کبھی باہم امتحان لیا جاتا ہے۔کبھی کل نمبر 680،کبھی 850،کبھی 1050تو کبھی 1100کر دیے جاتے ہیں۔کبھی بی ایس چار سالہ پروگرام شروع کر واکے تعلیمی معیار کا تختہ نکالا جاتا ہے تو کبھی بی اے اور ایم اے ختم کرنے اعلان کیا جاتا ہے۔ہماری تعلیمی پالیسی بنانے والے آج تک اول تو کوئی جامع تعلیمی پالیسی بنا ہی نہیں پائے اور جو پالیسی بنائی بھی جاتی ہے وہ نچلے درجے کے مسائل سے مطابقت ہی نہیں رکھتی۔

ایک طرف جہاں تعلیم کا بیڑا پالیسی بنانے والوں نے غرق کر رکھا ہے ،وہاں دوسری طرف ہمارے معزز اساتذصاحبان نے بھی جہالیت پھیلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔آج بھی ہمارے تقریباَ50فیصد اساتذہ اسکول صرف حاضری لگانے آتے ہیں اور چیک اینڈ بیلنس کا نظام اس سے بھی زیادہ مضحکہ خیز ہے۔
اسکولوں کے سربراہان گریڈ انیس اور بیس کے افسران ہیں اور ان کو چیک کرنے والے AEO'Sاور DOصاحبان گریڈ 16اور 18 کے افسران ہیں،اور ریٹائرڈ فوجی صاحبان تو ہے ہی کنٹریکٹ پر۔

ایسی صورتحال میں ایک جونئیر آفیسر ،سینئر آفیسر کو کیا احکامات جاری کر سکتا ہے۔ہمارے سرکاری اسکول تو درکنار ہمارے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی آج بھی 80فیصد لائبریریاں فعال ہی نہیں اور 99فیصد طلباء و طالبات کو تو لیب میں استعمال ہونے والے آلات کے نام تک ہی نہیں آتے ۔ہمارے ہاں ہر سال بچوں کوا سکولوں میں داخل کروانے کے لیے مہم چلائی جاتی ہے اور ہر سال کروڑوں روپے اس مد میں ضائع ہونے کے باوجود اسکولوں میں طلباء کی تعدادبڑھنے کی بجائے کم ہوتی ہے۔

ہمارے سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھنے والے 60فیصد بچوں کو علوم کے متعلق ابتدائی معلومات ہی نہیں ہیں۔ہر سال کروڑوں روپے اساتذہ کی ٹریننگ پر خرچ کرنے کے باوجود ہمارے 75فیصد اساتذ اکرام پڑھانے کے بنیادی طریقوں سے ہی نا بلد ہیں۔بچپن میں توہم سب بچے مل کر سکول سکول کھیلتے تھے ،لیکن آج ہماری حکومت اور تعلیمی نظام مل کر ایک بار پھر سکول سکول کھیل رہا ہے۔

اس قدر جلی کٹی باتوں کے بعداختتام پر عاقب شہزاد صاحب کی ایک مختصر نظم:
 میرے وطن کے شریف لوگوں ،حکم یہ ہے کہ زباں نہ کھولو
 گر جو کچھ بھی بولنا ہو تو جھوٹ بولو ،سچ نہ بولو
چاہے جتنے بھی زخم کھاؤ ، فریب کھاؤ ، یا دل دُکھا ہو
 خامشی سے یوں گھر ہی رو لو، باہر زخم اپنا نہ کھو لو 
جو چاک بھی ہو تمھارا سینہ ، گر ہو مشکل ہو تمھار ا جینا 
 حال دل کا جو کوئی پوچھے ، زباں اپنی کبھی نہ کھولو
چوٹ جتنی شدید کھاؤ ، کبھی نہ اُس کو زباں پہ لاؤ
 گر جو آنکھیں لہو سے تر ہوں ،آنکھوں سے نہ بولو
چوری کر کے وطن کی دولت مظلومیت کا لبادہ اوڑھے
 اب بھی ظالم کہہ رہے ہیں ،سر جھکا لو ،کچھ نہ بو لو 

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

aoo school. school khelen is a Educational Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 07 October 2019 and is famous in Educational Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.