بلدیاتی نظام پر سندھ حکومت اور اپوزیشن کی راہیں جدا

پیپلز پارٹی قیام امن اور معاشی ترقی کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کے تحفظات دور کرے

جمعہ 18 فروری 2022

رحمت خان وردگ
بلدیاتی قانون کی مخالفت میں احتجاج میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شدت دکھائی دے رہی تھی کیونکہ پرامن دھرنے کا ایک ماہ پورا ہونے کے بعد جماعت اسلامی نے احتجاج کا دائرہ بڑھا کر کراچی کو جن 5 اہم ترین مقامات سے دھرنے دے کر بند کرنے کا اعلان کیا اگر ایسا ہوتا تو ناصرف نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ جاتا بلکہ تمام کاروباری و معاشی سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہوتیں لیکن ڈیڈ لائن کے ایک روز قبل رات گئے سندھ حکومت کے وزراء و مشیر جماعت اسلامی کے دھرنے میں پہنچے اور مذاکرات کے ذریعے بلدیاتی قانون میں مجوزہ ترمیم پر اتفاق رائے ہو گیا جس کا معاہدہ ہو جانے کے بعد جماعت اسلامی نے ناصرف احتجاجی دھرنوں کا دائرہ کار بڑھانے کا پروگرام منسوخ کر دیا بلکہ سندھ اسمبلی کے باہر دیا گیا ایک ماہ طویل دھرنا بھی ختم کرنے کا اعلان کرکے بلدیاتی قوانین میں اپنی مجوزہ ترامیم منظور ہو جانے کی نوید دیتے ہوئے اپنی کامیابی کا اعلان کر دیا۔

(جاری ہے)


جماعت اسلامی اور سندھ حکومت کے درمیان بلدیاتی قانون میں جن ترامیم پر اتفاق رائے ہوا ہے ان کی عنقریب سندھ اسمبلی کے اجلاس میں منظوری لی جائے گی لیکن یہاں یہ قابل غور امر ہے کہ جماعت اسلامی کے چارٹر آف ڈیمانڈ اور ایم کیو ایم و پاک سرزمین پارٹی کے مطالبات میں فرق ہے اور بلدیاتی قانون میں تبدیلی کے لئے ایم کیو ایم اور پاک سرزمین پارٹی اب بھی احتجاج کرنے کے پروگرام پر عمل پیرا ہیں۔

سندھ اسمبلی نے بلدیاتی قانون منظور کیا جس پر سندھ میں برسراقتدار جماعت پیپلز پارٹی کے علاوہ تمام اپوزیشن جماعتوں نے اعتراضات اُٹھاتے ہوئے یکسر مسترد کر دیا اور صوبائی حکومت سے اس قانون کو تبدیل کرنے کا مطالبہ سامنے آیا۔جماعت اسلامی نے ایک ماہ تک سندھ اسمبلی کے باہر پرامن دھرنا دے کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔جماعت اسلامی کے سندھ اسمبلی کے باہر دھرنے میں صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ و دیگر نے جماعت اسلامی سے مذاکرات کرکے مشترکہ کمیٹی قائم کرکے مذاکرات کا آغاز کیا لیکن جماعت اسلامی نے قانون میں ترمیم پر اتفاق رائے ہو جانے تک پرامن دھرنے کو ختم کرنے سے انکار کر دیا اور دھرنا جاری رکھا۔


بلدیاتی قانون میں ترمیم کے لئے دیگر جماعتیں بھی احتجاج کی باتیں کرتی رہیں اور پھر ایم کیو ایم نے احتجاجی مظاہرہ کیا جو شاہراہ فیصل سے ہوتا ہوا پریس کلب جانے کے بجائے وزیر اعلیٰ ہاؤس کی جانب رواں دواں تھا کہ راستے میں پولیس و انتظامیہ نے انہیں پریس کلب جا کر احتجاج کرنے پر رضا مند کرنے کی کوشش کی لیکن وزیر اعلیٰ ہاؤس کے قریب مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں ہوئیں اور بھاری شیلنگ سے مظاہرین کو منتشر کیا گیا جس پر ایم کیو ایم کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ پولیس تشدد سے ان کا ایک کارکن جاں بحق ہوا ہے جبکہ حکومت نے پولیس تشدد سے ہلاک کی تردید کی۔

لیکن اس واقعے کے بعد حالات خرابی کی جانب جاتے نظر آئے اور حکومت و اپوزیشن کی جماعتوں میں بات چیت کے بجائے معاملہ سڑکوں پر حل ہوتا نظر آ رہا تھا اس سلسلے میں ایم کیو ایم کو بھی احتجاج پر ہی کاربند رہنا چاہئے تھا اگر کسی بھی وجہ سے پی ایس ایل جیسے اہم ایونٹ کے مہمانوں کی موجودگی میں اگر ایم کیو ایم احتجاج کے لئے وزیر اعلیٰ ہاؤس کی جانب چلی آئی تو سندھ حکومت کو اس طرز عمل کے بجائے بات چیت سے معاملے کو حل کرنا چاہئے تھا۔

جمہوریت میں احتجاج سیاسی جماعتوں کا حق ہے اور صبر و تحمل اور بردباری سے مذاکرات کو اولین ترجیح رکھ کر معاملات حل کرنا سیاسی حکومت کی دانشمندی کا ثبوت ہے جس طرح ایم کیو ایم کے احتجاج پر تشدد کیا گیا یہ طرز عمل تو آمروں کے دور میں ہوتا ہے۔
جماعت اسلامی اور سندھ حکومت کے درمیان بلدیاتی قانون میں ترمیم پر اتفاق رائے خوش آئند ہے لیکن بہتر یہی ہے کہ سندھ کی صوبائی حکومت اس معاملے میں اپوزیشن کی تمام جماعتوں سے بات چیت کرکے تمام ممکنہ حد تک اتفاق رائے سے بلدیاتی قانون تشکیل دے تاکہ سندھ میں آباد تمام سٹیک ہولڈرز بلدیاتی قانون پر مطمئن ہوں۔

کراچی میں اس سلسلے میں پائی جانے والی بے چینی کا پرامن مذاکرات سے خاتمہ حکومت سندھ کی اخلاقی ذمہ داری ہے اور کراچی میں امن و امان برقرار رہنا ہی عوام و ملکی معیشت کے لئے سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔ قبل ازیں بھی تحریر کیا جا چکا ہے کہ سندھ میں ناظمین جس قدر بااختیار ہوں گے اتنا ہی عوام کے ساتھ ساتھ خود پیپلز پارٹی کا فائدہ ہے اگر خیبر پختونخواہ میں ناظمین کا براہ راست عوام کے ووٹوں سے انتخابات ہو سکتا ہے تو سندھ میں کیوں نہیں؟سب سے بہتر ہے کہ سندھ بھر میں ناظمین کا براہ راست انتخابات کا طریقہ کار منظور کیا جائے اور ناظمین کو بااختیار بنا کر تمام ممکنہ حد تک اختیارات و وسائل فراہم کئے جائیں تاکہ وہ منتخب ہو کر کسی مداخلت کے بغیر اپنے علاقے کی عوام کی خدمت کر سکیں اور مسائل کے حل کے لئے انہیں کسی کی محتاجی نہیں ہونی چاہئے۔


جماعت اسلامی سے مذاکرات کے بعد اس بات پر اتفاق رائے ہو گیا ہے کہ کراچی کا منتخب ناظم ہی کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کا چیئرمین ہو گا۔اسی طرح پولیس و انتظامیہ کو بھی منتخب ناظم کے ماتحت ہونا چاہئے تاکہ وہ اپنے علاقے کے انتظامی و قانونی معاملات میں اداروں سے کام لے کر مسائل تیزی سے حل کر سکیں۔البتہ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لئے ہر ضلع میں ترقیاتی بورڈ کی تشکیل کی جائے جس میں منتخب ناظمین کے ساتھ ساتھ مقامی اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور ڈپٹی کمشنر بھی اس کمیٹی کے رکن ہوں یہ ترقیاتی بورڈ مقامی ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دیکر منصوبوں کی تکمیل کی مکمل مانیٹرنگ کرے اور ترقیاتی اخراجات کی ادائیگی متعلقہ ڈپٹی کمشنر کی ذمہ داری ہونی چاہئے اس طریقے سے تمام منتخب ناظمین اپنے علاقے میں منتخب نمائندوں کے ساتھ اتفاق رائے سے منصوبوں کی تشکیل و تکمیل کر سکیں گے اور سرکاری وسائل کا استعمال بھی شفاف طریقے سے ممکن ہو سکے گا۔

سندھ حکومت کو اس سلسلے میں بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ فوری طور پر بات چیت کا آغاز کرنا چاہئے اور تمام اپوزیشن جماعتوں کو بھی چاہئے کہ بلدیاتی قانون میں تبدیلی پر اتفاق رائے کے لئے مذاکرات کو ہی اولین ترجیح دیں۔
مذاکرات سے فرار اختیار کرنے والے کسی بھی فریق کا رویہ کسی صورت درست قرار نہیں دیا جا سکتا اس سلسلے میں ہٹ دھرمی سے امن و امان کے مسائل پیدا ہونے کا اندیشہ ہے جس سے یقینی طور پر ملک کی معیشت کو نقصان پہنچے گا اور کراچی کے شہریوں کے لئے مشکلات میں اضافہ ہو گا۔

وفاق میں حکمراں جماعت نے اڑھائی برس تک پنجاب میں بلدیاتی نمائندوں کو بلا جواز طریقے سے معطل رکھا یہ طرز عمل رکھنے والی جماعت سندھ میں احتجاج کس طرح کر سکتی ہے؟بہرحال اس طرح کے طرز عمل کا مکمل خاتمہ ضروری ہے اور تمام صوبوں میں منتخب ہونے والے بلدیاتی نمائندوں کو ہر صورت ان کی مدت تک کام کرنے دیا جائے چاہے کسی کی بھی حکومت آ جائے ہر حکومت پابند ہو کہ ہر صورت بروقت بلدیاتی انتخابات کا انعقاد یقینی بنائے کیونکہ بلدیاتی نظام ہی بنیادی جمہوریت ہے۔

ادارہ اردوپوائنٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین :

Baldiyati Nizaam Par Sindh Hakomat Aur Opposition Ki Rahain Juda is a national article, and listed in the articles section of the site. It was published on 18 February 2022 and is famous in national category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.