کرپشن کے خاتمے کی جدوجہد کو دھچکا

قانون کے موثر نفاذ میں ہی بدعنوانی سمیت دیگر مسائل کا حل مضمر ہے

بدھ 16 فروری 2022

نور الصباح ہاشمی
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے کرپشن پر سال 2021ء کی رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں کرپشن میں اضافہ ہوا ہے ۔کرپشن کی عالمی درجہ بندی میں پاکستان کی صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے اور پاکستان بہتری کے بجائے تنزلی کی طرف چلا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں حکومتی دعوؤں کے برعکس کرپشن بڑھی ہے اور 180 ممالک کی عالمی فہرست میں پاکستان کی تنزلی 16 درجے رپورٹ کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان 28 پوائنٹس کے ساتھ کرپشن کے بارے میں عالمی رینکنگ میں 140 ویں نمبر پر آ گیا ہے۔گزشتہ سال کرپشن پر سیپشن انڈکس میں پاکستان کا نمبر 124 واں تھا۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرپشن نہ ہونے کے اسکور میں تین پوائنٹ کی کمی ہوئی ہے۔

(جاری ہے)

2021ء میں پاکستان 100 میں سے صرف 28 پوائنٹ حاصل کر سکا جبکہ گزشتہ سال یہ اسکور 31 تھا۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلہ میں پاکستان میں کرپشن بڑھی ہے۔


جب موجودہ حکومت نے 2018ء میں اقتدار سنبھالا اس وقت پاکستان کا کرپشن انڈکس میں 117 واں نمبر تھا۔2019ء میں پاکستان درجہ بندی میں 120 اور 2020ء میں 124 ویں نمبر پر تھا۔اب 2022ء میں پاکستان عالمی درجہ بندی میں 140 ویں نمبر پر آ گیا ہے جو اس بات کا اشارہ ہے کہ موجودہ دور حکومت میں پاکستان کی 23 درجے تنزلی ہوئی ہے۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں جنوبی سوڈان کو دنیا کا کرپٹ ترین ملک قرار دیا گیا ہے جو عالمی درجہ بندی میں آخری پوزیشن پر ہے جبکہ فن لینڈ‘نیوزی لینڈ اور ڈنمارک کو کرپشن کیخلاف 88 اسکور کے ساتھ پہلے نمبر پر قرار دیا گیا ہے۔

سال 2021ء کی عالمی درجہ بندی میں امریکہ 67 پوائنٹس کے ساتھ 27 ویں اور بھارت 40 پوائنٹس کے ساتھ 85 ویں نمبر پر رہا۔بلاشبہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی گلوبل کرپشن رپورٹ سے موجودہ حکومت کے ان دعوؤں کو یقینی طور پر دھچکا لگا ہے جو ملک میں کرپشن کے خاتمے کی کوششوں کے حوالے سے کئے جاتے رہے ہیں۔مذکورہ رپورٹ میں سی پی آئی اسکور میں 16 درجے کی نمایاں تنزلی کی وجہ قانون کی حکمرانی اور ریاستی گرفت کی عدم موجودگی بتائی گئی ہے۔


دنیا کے مختلف ممالک میں کرپشن کی شرح‘اس کی وجوہات اور اس میں حکومتوں کے عمل دخل کا ٹھوس ثبوتوں اور شواہد کے ساتھ جائزہ لینے والا تھنک ٹینک ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل عالمی شہرت و ساکھ کا حامل ادارہ ہے جو 1993ء میں عالمی بنک کے درجن بھر سابق حکام نے باہم مل کر تشکیل دیا تھا۔اس کا ہیڈ کوارٹر جرمنی کے دارالحکومت برلن میں ہے جبکہ دنیا کے ایک سو سے زائد ممالک میں اس کی شاخیں قائم ہیں۔

اس ادارے میں متعلقہ ممالک کی کسی حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں جسے ایک آزاد‘غیر منفعت بخش غیر حکومتی ادارے کی حیثیت سے جرمنی میں رجسٹرڈ کرایا گیا۔اسے دنیا میں کرپشن جانچنے کے بیرومیٹر کا درجہ حاصل ہے اور دنیا کے مستند نمائندہ اداروں جی۔20‘اقوام متحدہ یونیسکو‘یو این ایس ڈی جی کی اسے معاونت حاصل ہے۔گلوبل سول سوسائٹی آرگنائزیشن کی حیثیت سے یہ ادارہ دنیا کے 180 ممالک میں کرپشن کی بنیاد پر ہونے والی ناانصافیوں کی نشاندہی کرکے ان کے سدباب کیلئے گائیڈ لائن مہیا کرتا ہے چنانچہ اس ادارے کی کسی رپورٹ پر انگلی اُٹھانا یا شک و شبہ کا اظہار کرنا کسی سیاست کے زمرے میں ہی شامل کیا جا سکتا ہے۔

کرپشن کا یہ مسئلہ تنہا پاکستان کا نہیں،بہت سے ملکوں کا ہے۔جن 180 ملکوں کی کرپشن انڈیکس جاری کی گئی وہاں کسی نہ کسی درجے میں کرپشن یا لالچ کے مرض کی موجودگی کو کلی طور پر خارج از امکان نہیں کہا جا سکتا۔ڈنمارک،فن لینڈ اور نیوزی لینڈ بھی اسی زمین کا حصہ ہیں جنہیں 180 ممالک کی فہرست میں 88 اسکور کے ساتھ بہترین قرار دیا گیا ہے۔85 اسکور رکھنے والے سنگاپور اور سویڈن،40 اسکور والے بھارت اور 28 اسکور والے پاکستان میں کرپشن کی کمی یا زیادتی کی وجوہ ان ممالک کے نظام قانون اور اس کے نفاذ کے طور طریقوں میں تلاش کی جا سکتی ہیں۔


یہ امر واقعہ ہے کہ پی ٹی آئی اور اس کے قائد عمران خان کو 2018ء کے انتخابات میں اقتدار کا مینڈیٹ ہی ان کے کرپشن فری سوسائٹی کے نعرے کی بنیاد پر حاصل ہوا تھا اور پی ٹی آئی حکومت گزشتہ چار سال سے سابق حکمرانوں کے چور ڈاکو ہونے کا ڈھنڈورا پیٹ کر سیاسی ماحول گرمائے ہوئے ہے جس میں سابق کرپٹ حکمرانوں کو این آر او نہ دینے کا تواتر کے ساتھ دعویٰ کیا جا رہا ہے اور منتخب ایوانوں میں بھی انہیں منتخب نمائندے کی بجائے قومی مجرم کہہ کر پکارا جاتا ہے۔

اگر ان تمام تر حکومتی دعوؤں اور اعلانات و اقدامات کے برعکس خود پی ٹی آئی حکومت ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق کرپشن کے دلدل میں دھنسی نظر آ رہی ہے تو عوام سابق حکمرانوں پر عائد کئے جانے والے حکومتی الزامات پر کیونکر یقین کریں گے جبکہ عوام بذات خود حکومتی پالیسیوں کے نتیجہ میں غربت‘مہنگائی‘بے روزگاری کے ہاتھوں راندہ درگاہ ہو کر ذلت کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔


بے شک پاکستان کو بھی اس ادارے میں نمائندگی حاصل ہے جس کے ذریعے پاکستان میں کرپشن کے عوامل و محرکات کا جائزہ لیا جاتا ہے تاہم اس ادارے کی رپورٹ کسی مخصوص نکتہ نظر سے ہر گز مرتب نہیں کی جاتی۔حکومت کو اب اپنے معاملات پر بہرحال نظرثانی کرنی چاہیے ۔تاہم بدلتے حالات کے مطابق درست قانون سازی اور اس کے موثر نفاذ میں ہی کرپشن سمیت متعدد مسائل کا حل مضمر ہے۔

جبکہ سات عشروں میں ہر شعبے میں سرایت کر جانے والے کرپشن کی ہلاکت خیزی سے بچاؤ کے لئے پورے سسٹم کی اوور ہالنگ کی ضرورت ہے جو راتوں رات ممکن نہیں۔اس کے لئے وسیع مشاورت اور جامع منصوبہ بندی سے ایک طویل مدتی لائحہ عمل کا متفقہ میثاق ضروری ہے جس کے لئے تمام سیاسی و سماجی مکاتب فکر کے صاحبان دانش کو مل کر کام کرنا اور سازگار فضا بنانا ہو گی۔کرپشن کا خاتمہ ملکی سلامتی اور استحکام کے تقاضوں کا بھی حصہ ہے۔اس کے لئے دلجمعی سے سنجیدہ کاوشیں ناگزیر ہیں۔

ادارہ اردوپوائنٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین :

Corruption Ke Khatme Ki Jadojehad Ko Dhachka is a national article, and listed in the articles section of the site. It was published on 16 February 2022 and is famous in national category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.