بنسوں،بنسوں”ڈیم“ تو بنسوں !!

منگل جون

Ashfaq Rehmani

اشفاق رحمانی

پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کے چیف ،چیف جسٹس ثاقب نثار نے پانی کی قلت پر ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران جذباتی انداز میں کہا کہ” دل کرتا ہے ڈیم بنانے اور ملک کا قرضہ اتارنے کیلئے چولا پہن کر خود جاوٴں اور چندہ مانگوں۔ پانی کا مسئلہ قوم کیلئے عذاب بن جائیگا۔ “ اس سے پہلے متعدد بار یہ بحث سیاسی و غیر سیاسی حلقوں سمیت ملک بھر کے مخلص”ووٹرز“ کی ہر بیٹھک میں مکمل ہو چکی کہ ”کالا باغ ڈیم“ کو کوئی بھی نام دے دو، مگر اسے ملک و قوم کیلئے بننے دو،گورنمنٹ ہائی سکول نمبر2پسرور ضلع سیالکوٹ کے ساتویں جماعت کے طالبعلم ارمان سفیر جو اپنے گارڈین کی نگرانی میں فیس بک استعمال کرتے ہیں نے مجھے فیس بک پر انتہائی معصومانہ مگر حقیقت پسندانہ سوال بھیجا ہے،ارمان سفیر کے مطابق دنیا میں ایسے کتنے ممالک ہیں جہاں درجنوں ”ڈیمز“ تو موجود ہیں لیکن وہاں پانی ”سٹور “ نہیں ہوسکا، اور دینا میں ایسے کتنے ممالک میں جہاں”بارش“ نہ ہونے یا موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث”بنے ہوئے ڈیم“ کروڑوں“ افراد کا منہ چڑھا رہے ہیں،جبکہ یہ بھی پوچھا ہے کہ پاکستان میں اگر بارشیں نہیں ہوتی تو ”کالا باغ ڈیم“ کو اضافی پانی کہاں سے آئے گا؟ کیا یہ معاملہ حل کر لیا گیا ہے؟کالا باغ ڈیم بنانے کے حوالے سے چیف جسٹس آف پاکستان کے ”جذبات“ کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جانا چاہئے تاہم مذکورہ سوالات کو بھی سامنے رکھنا ہوگا۔

(جاری ہے)

ادھرترجمان دفتر خارجہ پاکستان کے مطابق بھارت کی طرف سے نت نئے ڈیم بنانے کے معاملہ” پانی کا مسئلہ ہماری شہہ رگ ہے“ کشن گنگا ڈیم پر ذمہ داری عالمی بنک کی ہے۔سپریم کورٹ نے دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف حصوں میں پانی کی قلت کے حوالے سے ازخود نوٹس کیس کی سماعت میں قرار دیا پانی کے مسئلہ سے ہم آنکھیں بند نہیں کرسکتے پانی کا مسئلہ مستقبل میں خطرناک ناسور بن سکتا ہے، چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے لیے کراچی رجسٹری سے مہم شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا پانی کا مسئلہ قوم کے لئے عذاب بن جائے گا، میری خواہش ہے کاش میں پنجابی نہ ہوتا کاش میں بلوچی یا سندھی ہوتا، سندھی کی نظر سے دیکھتا تو مسئلے کی کچھ سمجھ آتی، نواز شریف اور آصف زرداری نے اپنے ادوار میں کچھ نہیں کیا۔

کالاباغ ڈیم پر اتفاق رائے پیدا کرناہو گا چیف جسٹس نے کہا پانی کی کمی کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جو اقتدار میں ہیں اور جو چھوڑ کر گئے ہیں، زرداری اور نواز شریف آکر بتائیں پانی کے لیے کیا کیا، کیوں نہ ان لوگوں پر پانی کے مسئلے کی ذمہ داری ڈالی جائے۔ میٹروپولیٹن حکام اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا دارالحکومت کو اس وقت 58.7 ملین گیلن پانی سپلائی کیاجارہا ہے، جبکہ پانی کی طلب 120 ملین گیلن سے بھی زائد ہے، جس پرچیف جسٹس نے کہا آج سے ہماری ترجیحات میں سب سے اہم پانی ہے کراچی کے بعد اب اسلام آباد میں بھی ٹینکرز کا پانی فروخت ہورہا ہے، دارالحکومت میں 1500 روپے کا ٹینکر فروخت ہوتا ہے۔

سوال یہ ہے ناقص پالیسیوں کی وجہ سے سملی ڈیم میں پانی نہیں جارہا، پرتوجہ دی جاتی توکسی حد تک معاملہ بہترہوسکتا تھا لیکن گزشتہ 2 حکومتوں نے پانی کے مسئلے کے حل کیلئے کچھ نہیں کیا۔ میٹرو پولیٹن کارپوریشن حکام نے بتایا اسلام آباد میں پانی کی قلت پرقابوپانے کیلئے تربیلا سے پانی لانے کے سوا کوئی چارہ نہیں، یہ 70 ارب روپے کا منصوبہ ہے، جس کیلئے صرف 500 ملین جاری کئے گئے ہیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کیا حکومتوں نے پانی کے ایشو کومد نظررکھتے ہوئے اس کیلئے فنڈز کا بندوبست کیا پانی کے مسئلے کے ذمہ دار صاحب اقتدار لوگ ہیں، دوسری جانب درخت لگانے کا کام بھی صرف کاغذوں کی حد تک محدود ہے، پانی کا مسئلہ واٹر بم بنتا جارہا ہے، پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں اضافہ نہیں کیاگیا، لیکن ہم کیا کریں روز بیٹھ کر حکومت کا آڈٹ نہیں کرسکتے، ووٹ کوعزت دو کا مطلب یہ ہے لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق دیئے جائیں، لیکن یہا ں ایسی صورتحال نہیں ، تاہم ہم پانی کے مسئلے پر بلی کی طرح آنکھیں بند نہیں کرسکتے، ہمیں عملی طور پر کچھ کرنا ہوگا، اربوں روپے کا پانی ہم منرلز کے ساتھ سمندر میں ضائع کر رہے ہیں، اگر اس معاملے پرتوجہ نہ دی گئی تو پانی کا مسئلہ مستقبل میں خطرناک ناسور بن سکتا ہے۔

سماعت کے دوران اعتزاز احسن نے کہا پانی کے تحفظ کے لئے ملک بھرمیں پانی کے ذخیرے بننے چاہئیں۔ اتفاق پیدا ہوجائے تو کالاباغ کا پانی چاروں صوبوں کا پانی ہے، کالاباغ ڈیم کا نام سنتے ہیں سندھ اور کے پی میں احتجاج شروع ہو جاتا ہے ،مسائل سے لڑ کر ہی ان کا حل نکالا جاتا ہے، ذاتی طور پر کالاباغ ڈیم کا حامی ہوں، چیف جسٹس ثاقب نثار نے مزیدکہا کہ” دریا راوی میں گندا پانی ڈالا جا رہا ہے، پانی کو عزت دو“ حالیہ بارش نہ ہوتی تو 15 دن بعد یہاں پانی نہ ہوتا، مون سون کی بارشوں کا پانی زیادہ ہو جاتا ہے، پانی ذخیرہ کرنے کا کام تب ہوگا جب دل میں درد ہو گا۔

آئندہ نسلوں کو بچانے کے لئے ایک نسل کو قربانی دینی پڑتی ہے، ہم نے لگڑری گاڑیاں خرید لیں، میں تقریر نہیں حقائق بیان کررہا ہوں ، جن ڈیموں پر اختلاف نہیں وہ کیوں نہیں بنے۔ شمالی علاقہ جات میں چھو ٹے پانی کے منصوبے لگانے سے کس نے منع کیا، سیاست سے ہٹ کر پانی کے مسئلے کا حل نکالنا ہوگا، 21 ہزار روپے فی سکوئر فٹ خرچہ لاہور کے ہسپتال پر آتا ہے، یہ پیسہ کیوں نہیں ڈیمز بنانے پر خرچ ہوتا، پانی کے مسئلے کے لئے ماہرین کی خدمات کی ضرورت ہے۔

ٹینکر مافیا کے ہائڈرنٹس بند کروائیں۔ یہ پانی کسی مافیا کا نہیں سرکار کا ہے۔ پانی کے معاملے پر عدالت نے اعتزاز احسن کو عدالتی معاون مقرر کردیا اور حکم دیا اعتزاز احسن پینے کے پانی کے ذخیروں پر رپورٹ مرتب کرکے اکیس جون تک دیں۔ چیف جسٹس نے کہا ذخیرہ بننے چاہیں لیکن پانی کون ذخیرہ کرے گا۔ اربوں روپے کا پانی سمندر میں جاتا ہے، زندگی کا وجود پانی کے ساتھ ہے۔ بھارت کی وجہ سے نیلم دریا بھی ختم ہو جائے گا، میں بطور ثالث کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہوں۔ پانی کے مسئلے کو بطور قوم حل کرنا پڑے گا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Bansu Bansu Dam Tu Bansu Column By Ashfaq Rehmani, the column was published on 12 June 2018. Ashfaq Rehmani has written 199 columns on Urdu Point. Read all columns written by Ashfaq Rehmani on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.