قومی زبان کا نوحہ

بدھ اکتوبر

Atta Ur Rahman Chohan

عطاء الرحمن چوہان

قائداعظم کے پاکستان میں ان کے فرامین اور فکر کا جس دلیری سے مذاق اڑایا جارہا ہے، اس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ ہر حکمران نے فکر قائد کو اپنی ترجیحات کی بنیاد قرار دیا لیکن کام ہمیشہ الٹ ہی کرتے رہے۔ قومی زبان کو ہی لے لیجیے،سرکاری دفاتر میں کلرک سے صدر اور وزیراعظم تک سب ہی گفتگوقومی زبان اردو یا اپنی علاقائی زبانوں میں کرتے ہیں۔

کابینہ سے نچلی سطح تک تمام سرکاری اجلاسوں کی کارروائی قومی زبان میں انجام پاتی ہے۔ سینٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کی کارروائی اردو میں چلائی جاتی ہے۔سب جج سے چیف جسٹس عدالت عظمیٰ سارے قومی زبان میں عدالتی کارروائیاں چلاتے ہیں۔ ان ساری کاموں کی رودادیں اور فیصلے انگریزی زبان میں رقم کیے جاتے ہیں۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے آسیہ بی بی کیس کا فیصلہ اردو میں جاری کرتے ہوئے کہا کہ عوامی آگاہی کی خاطر فیصلہ اردو میں جاری کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

اس پر بجا طور پر عوامی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ باقی فیصلوں انگریزی میں اس لیے جاری ہوتے ہیں کہ عوام ان کی روح کو نہ سمجھ سکیں۔ 
حد تو یہ ہے کہ وہ سرکاری ادارے جو قومی زبان کے نفاذ کے ذمہ دار ہیں وہ بھی انگریزی کو اختیار کیے ہوئے ہیں۔ سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنے فیصلے میں دستور کی شق 251 پر فوری عمل درآمد کا حکم جاری کیا تو حکومت نے اشک شوئی کے لیے کچھ اقدامات کرنے شروع کیے اور وفاقی سطح پر نفاذ قومی زبان کے کام کو تیز کرنے اور نگرانی کے لیے ایک وزارتی کمیٹی قائم کی۔

اس کمیٹی کے اجلاسوں کی کارروائیاں بھی انگریزی میں مرتب کی جاتی رہیں اور وفاقی وزارتوں اور ماتحت اداروں کو نفاذ اردو کے لیے خط و کتابت بھی انگریزی میں کی جاتی رہی۔ اس سے کمیٹی کی سنجیدگی کا اندازہ ہوگیا اور کسی ماتحت دفتر نے قومی زبان کے نفاذ پر توجہ نہیں دی۔
دستور کی شق 251 میں امور مملکت قومی زبان میں چلانے کے لیے پندرہ سال کی مدت طے کی گئی تھی۔

1973 سے 1979 چھ سالوں تک حکومت نے نفاذ اردو کے لیے کوئی تیاری نہ کی۔ اس دوران جنرل ضیاء الحق نے 4 اکتوبر 1979 کو مقتدرہ قومی زبان کا ادارہ قائم کرکے دفتری اور تعلیمی ضروریات کے لیے متبادل نظام وضع کرنے کی ذمہ داری تفویض کی۔ اس ادارے نے معین مدت کے اندر اپنا کام مکمل کرکے رپورٹ صدر مملکت کو پیش کردی۔ جنرل ضیاء الحق کی اچانک حادثاتی موت کی وجہ سے مقتدرہ کی ساری محنت رائیگاں گئی اور پاکستان میں انگریزی حسب سابق راج کرتی رہی۔

وہ ادارہ اب بھی قائم ہے، سرکاری خزانے سے بھاری بجٹ بھی ہر سال جاری ہوتا ہے۔ حکومت اپنے پسندیدہ اور حاشیہ برداروں کو نوازنے کے لیے ادارے کا سربراہ مقدر کردیتی ہے، جو نفاذ اردو کی بجائے غزلوں، افسانوں اور ادب پاروں کی اشاعت کے ذریعے اپنے من پسند ادیبوں اور شاعروں کو خوش کرتے رہتے ہیں حالانکہ فروغ اردو کے لیے نیشنل بک فاونڈیشن، اکادمی ادبیات اور دیگر کئی ادارے موجود ہیں۔

 
حکمران اور نوکرشاہی منہ زور گھوڑے کی ماند دستور پاکستان کی پرواء کئے بغیر استعماری زبان انگریزی کی گرفت دن بدن مضبوط کیے جار ہے ہیں۔ ملک میں ایک درجن سے زائد نظام ہائے تعلیم چلائے جارہے ہیں تاکہ عوام حکمرانی کے مراکز سے دور رہیں۔ وہ یہ نہ جان سکیں کہ حکمران ان سے اور ان کے ملک سے کیا سلوک روا رکھے ہوئے ہیں۔ چیف جسٹس آصف کھوسہ متعدد بار یہ کہہ چکے ہیں کہ جوڈیشری اور وکلاء کی انگریزی کمزور ہونے کی وجہ سے انصاف میں تاخیر ہو رہی ہے۔

سابق چیف جسٹس جمالی نے بھی کئی مواقع پر اس امر کا اعادہ کیا تھا کہ جوڈیشری اور وکلاء کو انگریزی میں مطلوبہ مہارت نہ ہونے کی وجہ سے عوام کو بروقت انصاف فراہم نہیں کیا جاسکتا۔
ہمارے ہاں شرح خواندگی شرمناک حد تک کم تر سطح پر ہے، جس کی بنیادی وجہ انگریزی ذریعہ تعلیم ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر ستر فیصد طلبہ انگریزی کی وجہ سے تعلیم ادھوری چھوڑ کر محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔

جو بچے رٹے کا سہارا لے کر ڈگریاں حاصل کرلیتے ہیں وہ آج تک کوئی قابل ذکر کارنامہ انجام نہیں دے سکے۔ حد تو یہ ہے کہ پی ایچ ڈی سکالر بھی چند سطور درست انگریزی یا اردو لکھنے کی صلاحیت سے عاری ہیں۔ ممتاز دانشور ڈاکٹر منظور اعجاز ن حال ہی میں ’ٹائی کوٹ والی جاہل قوم‘ کے عنوان سے کالم لکھ کر زمینی حقائق سے پردہ اٹھایا۔ پاکستان اردو سائنس بورڈ کے سابق سربراہ ڈاکٹر خالداقبال یاسر نے گزشتہ دنوں اسلامی نظریاتی کونسل کے زیراہتمام ایک مذاکرے میں کہا کہ آج کل جامعات کے طلبہ نہ انگریزی میں سیکھنے کے قابل رہے ہیں اور نہ ہی اردو ان کے پلے پڑتی ہے۔

 
پاکستان میں کاروبار کرنے والی ملکی اور غیر ملکی کمپنیاں بھی انگریزی زبان اختیار کئے ہوئے ہیں، حد تو یہ ہے کہ اشیاء خورد ونوش اور جان بچانے والی ادویات کے ساتھ ملنے والا تعارفی مواد، طریقہ استعمال اور حفاظتی تدابیر تک انگریزی میں شائع کی جاتی ہیں۔ بھلا اسے کون پڑھے گا اور کون عمل کرے گا؟ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو نہ تو درست طور پر بیماری کا پتا ہوتا ہے اور نہ علاج اور ادویات کے بارے میں کوئی معقول معلومات ہوتی ہیں۔

یہاں تک کہ ملک میں صفائی اور حفظان صحت کی مہمات بھی انگریزی زبان میں چلائی جاتی ہیں۔ جس کی وجہ سے نہ عوام ان سے آگاہ ہوتے ہیں اور نہ ان سے کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے۔ 
حکومتی رویے اپنی جگہ عوام بھی اپنی قومی غیرت اور حمیت سے عاری ہو چکے ہیں۔ چائے اور پان کے کھوکھے تک کا نام انگریزی میں لکھا ہوتا ہے۔ جس خاندان میں ایک بھی انگریزی جاننے والا نہ ہو ان کے شادی کے دعوت نامے انگریزی میں جاری ہوتے ہیں۔

ان پڑھ لوگ بھی شناختی کارڈ، بینک کھاتوں اور دیگر دستاویزات پر انگریزی میں دستخط کرنے میں اعزاز سمجھتے ہیں۔ جس محلے میں ایک بھی انگریزی خوان نہ ہو وہاں بھی گھروں پر لگی تختیوں پر انگریزی لکھی ہوتی ہے۔ تعارف نامہ جس کی جیب سے نکلے گا وہ انگریزی میں چھپا ہوگا۔ 
انگریزی کی تباہ کاریوں سے ہم نہ معیشت میں ترقی کرسکے، نہ تعلیمی ترقی ہوئی نہ سماجی روئیے بہتر ہوئے اور نہ سیاسی پختگی حاصل ہو سکے۔

موروثی سیاست، فرسودہ تعلیمی ڈھانچہ اور کالے قوانین کی حاکمیت صرف قومی زبان سے اعتراض کا نتیجہ ہے۔ ہمارے ہاں انگریزی زبان کی بجائے علم کا درجہ قرار پاچکی ہے۔ جس کی وجہ سے انگریزی جاننے کو ہی قابلیت کا معیار قرار دیا جاتا ہے اور انگریزی جاننے والے کو ہی معزز قرار دیا جاتا ہے۔ یہ دراصل قومی غیرت و حمیت سے عاری قوم کی نشانی ہے۔ 
یہ سب کیوں ہوا؟ اس بحث میں پڑے بغیر اگر ہم نے ترقی یافتہ قوموں کی صف میں کھڑا ہونا ہے اور یقینا کھڑا ہونا ہے تو ہمیں اس بدیسی زبان سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے۔

اس کے پشتیبان خواہ کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں، وہ قائداعظم محمد علی جناح سے زیادہ معتبر نہیں ہوسکتے۔ ان کے قلم میں کتنی ہی طاقت کیوں نہ ہو وہ دستور پاکستان سے زیادہ طاقتور قرار نہیں پاتے اور نہ ہی ان کے فیصلے عدالت عظمیٰ کے فیصلوں سے زیادہ قومی اور قابل اطاعت ہیں۔
 دستور پاکستان کی روح سے قومی زبان پاکستان کے عوام کا بنیادی انسانی حق ہے اور اسی دستور کی رو سے پاکستان کا نظام مملکت عوامی منشا اور مرضی کے مطابق چلایا جائے گا۔

اب پاکستان کی عوام اپنی پستی اور بربادی کی اصل وجوہات سے بخوبی آگاہ ہو چکے ہیں اور معلومات کی فراہمی کے جدید ذرائع عوام کی آگاہی میں مسلسل اضافہ کررہے ہیں۔ ایسے میں عوام کو نہ مزید بیوقوف بنایا جاسکتا ہے اور نہ ملک پر چند بیوروکریٹس اور حکمرانوں کی نسلوں کو پاکستان پر قابض رکھا جاسکتا ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Qaumi Zaban Ka Noha Column By Atta Ur Rahman Chohan, the column was published on 09 October 2019. Atta Ur Rahman Chohan has written 2 columns on Urdu Point. Read all columns written by Atta Ur Rahman Chohan on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.