انگریزی رسم الخط (رومن) اردو رسم الخط(نستعلیق) کا متبادل نہیں

جمعہ 30 جولائی 2021

Moiz Ud Din Haider

معیزالدین حیدر

اردو رسم الخط(نستعلیق(کے حوالے سے بات کی جائے تو یہ عصر حاضر میں بہت سے مسائل کا شکار نظر آتا ہے۔ اردو رسم الخط کو طرح طرح کی اعتراضات کا سامنا ہے۔ کچھ لوگ اردو کو مشکل قرار دیتے ہیں کہ اردو حروفِ تہجی میں ایک جیسی آواز والے حروف ہیں جن میں سے کسی ایک کو شامل رکھا جائے باقی نکال دیے جائیں۔ کچھ لوگ اردو املا پر اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اردو حروفِ تہجی کی اشکال بناوٹ کے لحاظ سے ثقیل ہیں۔

یہ تمام اعتراضات تو اپنی جگہ لیکن اب جو اعتراض اردو رسم الخط پر کیا جانے لگا ہے اور عوام کا رجحان بھی لاشعوری طور پر اسی جانب معلوم ہوتا ہے وہ یہ کہ نستعلیق کے بجائے انگریزی رسم الخط(رومن رسم الخط) کو رائج کیا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اردو رسم الخط اگر مسائل کا شکار ہے تو اس کو سرے سے تبدیل کر دیا جائے نہ کہ مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔

(جاری ہے)

ویسے دیگر اعتراضات کے بھی مدلل جوابات موجود ہیں۔اردو حروفِ تہجی تعداد کے لحاظ سے اصلاََ ارتیس ۸۳ ہیں اور ہندی ہائی آوزوں کو ملا کر چوّن ۴۵ ہیں۔ تعداد کے لحاظ سے یہ کچھ لوگوں کو زیادہ معلوم ہوتے ہیں شاید اس لیے بھی ان کا جھکاو رومن رسم الخط کی طرف ہے۔ تو کیا اردو رسم الخط کو حقیقتاََ رومن رسم الخط سے تبدیل کرنا ممکن ہے؟ کیا یہ اردو زبان کو سہل بنا سکتاہے؟ میری نظر میں تو یہ محض ایک بے وقوفی ہے۔


آج کل عوام الناس کا رجحان اردو لکھنے کے لیے رومن رسم الخط کو استعمال کرنے کی طرف ہوگیا ہے۔ ایسا ہمیں ا ب بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے کہ کوئی اردو رسم الخط کا استعمال کرتا ہو۔ اشتہارات میں، سوشل میڈیا پر، برقی پیغامات میں اب لوگ  اکثر رومن رسم الخط کا استعمال کرتے ہیں۔میری نظر میں یہ لوگ خطا پر ہیں۔ میری رائے میں ایسا کرنا ایک آسان کام کو مشکل بنا کر کرنے جیسا ہے۔

اول بات یہ کہ اردو کو رومن رسم الخط میں لکھنا فی الحال ممکن نہیں ہے۔ جو رسم الخط اردو کا ہے اور جو حروف اردو استعمال کرتی ہے وہ رومن حروف میں پائے ہی نہیں جاتے۔اب آپ کہیں گے کہ یہ کیا بات ہوئی بھلا؟ لوگ تو لکھتے ہیں رومن میں۔ جی بالکل لکھتے ہیں لیکن اس میں بے شمار غلطیاں ہوتی ہیں۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ جو آوزیں اردو میں پائی جاتی ہیں وہ انگریزی (رومن) حروف میں نہیں پائی جاتیں۔

اس کی مثال لیجیے؛ "خ" یہ حرف انگریزی(رو من حروف) میں نہیں پایا جاتا اس کی آواز کو ظاہر کرنے کے لیے   khلکھا جاتا ہے جو سراسر غلط ہے کیوں کہ  kh  سے کھ کی آواز پیدا ہوتی ہے خے کی نہیں۔ لکھنے والا اگر انگریزی (رومن رسم الخط) میں لکھے  تو بہت سے اردو الفاظ برابر کر دے گا جیسے خان اور کھان میں کوئی فرق باقی نہیں رہے گا۔رومن میں اس کو     khan  ہی لکھا جائے گا اور تفریق نہیں ہو پائے گی۔

جیسے یہ جملہ کہ کھانا کہاں ہے؟ اس کو رومن رسم الخط میں لکھیں گے تو یوں ہوگا "khana kahan hai"  رومن رسم الخط میں پڑھنے والا اس سوچ میں رہ جائے گا کہ خانہ لکھا ہے یا کھانا کیوں کہ خانہ اور کھانا کے لیے kh     ہی استعمال ہوگا اور جملہ کیا سے کیا ہو جائے گا۔ایسے ہی متعدد حروف ہیں جو اردو میں ایک حرف ہے لیکن اس کی آواز کو ظاہر کرنے کے لیے ایک سے زیادہ انگریزی حروف درکار ہوں گے۔

جو کہ بلا وجہ محنت ہے جب کہ ایک سیدھا سادا حرف موجود ہے تو اس کو رومن رسم الخط میں لکھ کر کیوں مزید مشقت کروں۔ انگریزی (رومن رسم الخط) میں نونِ غنّہ کو ظاہر کرنے کے لیے بھی کوئی حرف موجود نہیں جب عوام انگریزی (رومن رسم الخط) میں ایسا کوئی اردو  لفظ لکھتے ہیں جس میں نونِ غنّہ آتا ہو تو اسے ظاہر کرنے کے لیے      n لکھتے ہیں اور بعضے تو یہ بھی نہیں کرتے۔

یہ بھی سراسر غلط ہے کیوں کہ کوئی فرق نون اور نونِ غنّہ میں باقی نہیں رہے گا۔ ویسے انگریزی(رومن رسم الخط) میں نون غنّہ کو ظاہر کرنے کے لیے علامت موجود ہے لیکن عوام الناس شاید ہی اس سے آشنا ہوں۔ ان کی لکھائی سے تو ایسا ظاہر نہیں ہوتا کہ وہ آشنا ہیں۔
ایسا ہی ترکی والوں نے کیا ہے ان کی زبان اصلاََ عربی رسم الخط کی روشِ املا پہ تھی۔ مصطفا کمال اتا ترک کے زمانے میں ترک زبان کو رومن رسم الخط میں تبدیل کیا گیا لیکن وہ حروف جو اصلاََ رومن تھے ترک زبان کے لکھنے اور پڑھنے کے لیے ناکافی تھے اس لیے متعدد نئے حروف متعارف کروائے گئے جو رومن حروف کی ہی ایک نئی صورت تھی۔

ترک زبان میں رومن حروف بھی مفتوح، مضموم اور مکسور ہوگئے اور بعضے تو منقوط اور شوشے دار بھی ہو گئے۔ ایسا اس لیے ہوا کیوں کہ رومن میں وہ حروف ہی نہ تھے جو ترک زبان کی سی آوازیں پیدا کر سکیں۔
جو حروف انگریزی استعمال کرتی ہے ان میں اردو لکھنا ممکن ہی نہیں ہے۔ اس بات پر زور دینا کہ رومن میں لکھنا آسان ہے کوئی معقو ل بات نہیں بل کہ اردو کے ساتھ کھلا تعصب ہے۔

اردو الفاظ پوری طرح رومن رسم الخط میں لکھنا ممکن نہیں اس کی مثال اوپر دے چکا ہوں۔ بھلا ژاژ خائی، نژاد جیسے حروف رومن رسم الخط میں لکھنا اور پڑھنا ممکن ہے؟ اس کا سیدھا مطلب یہ ہوا کہ مجھے اردو الفاظ رومن رسم الخط میں لکھنے کے لیے دوگنی محنت لگے گی اور دماغ کے گھوڑے بھی دوڑانے پڑیں گے۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ اردو رسم الخط کو رومن رسم الخط سے تبدیل کیا جائے تو اس کے لیے نئے حروف متعارف کروانے ہوں گے جیسا ترکی والوں نے کیا۔

سرے سے لوگوں کو نئے حروف سیکھنے ہوں گے اور بلا وجہ انتشار پھیلے گا۔ جو لوگ  اردو رسم الخط کو مشکل قرار دیتے ہیں ان کے سر پہ ایک اور مشکل آن کھڑی ہوگی۔جو بھی ہے کم از کم اردو حروف کی پہچان تو ہے لوگوں کو۔ نئے حروف سیکھنا تو اس سے بھی مشکل کام ہوگا۔ تعداد کے حوالے سے بات کی جائے تو رومن رسم الخط میں نئے حروف کے اضافے کے بعد رومن حروف کی تعداد بھی بڑھ جائے گی اس سے پھر اردو حروف کی تعداد پر اعتراض کرنے والوں کا رونا جاری رہے گا۔

رہی بات اردو حروف کی اشکال کی کہ وہ مشکل ہیں تو اس بات کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں وہ اس لیے کہ رومن رسم الخط میں اردو الفاظ لکھنے کے لیے زیادہ حروف درکار ہیں اور اس کا کوئی متفق طریقہ کار بھی موجود نہیں۔
سب سے آسان حل یہ ہے کہ اگر اردو کو ہی صحیح طریقے سے لکھنا سکھایا جائے اور اردو رسم الخط کا استعمال کرنے پر ہی زور دیا جائے تو یہ زیادہ بہتر اور آسان ہے بجائے اس کے کہ نیا رسم الخط متعارف کروایا جائے۔

نیا اس لیے کہا کیوں کہ ایک بات تو طے ہے کہ انگریزی (رومن رسم الخط) میں اردو لکھنا ممکن ہی نہیں۔ اردو کے لیے نستعلیق ہی سب سے آسان رسم الخط ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی توجہ اسی طرف مائل کریں اور اردو رسم الخط کو ہی اچھی طرح سیکھ لیں۔ اسی میں عافیت ہے ورنہ ایسا حال ہو جائے گا کہ تین میں نہ تیرہ میں۔ باقی اردو رسم الخط پر اعتراض کرنے والے ہزار ہیں تو وہ کرتے رہیں ان کے اعتراضات سے اردو کو کوئی فر ق نہیں پڑتا۔ کچھ لوگ ابھی ذندہ ہیں جو اردو کو باقی رکھنا جانتے ہیں۔

ادارہ اردوپوائنٹ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

تازہ ترین کالمز :

متعلقہ عنوان :