اسٹریچر دو

جمعہ اگست

Noorulamin Danish

نورالامین دانش

یہ بالکل وہی دن تھا جب ٹی وی اور سوشل میڈیا پر حکومتی عہدیدران اپنی ایک سالہ کارکردگی کا جشن منا رہے تھے ، ہر طرف ہریالی و شادابی کے شادیانے بج رہے تھے، گزشتہ ادوار پر لعن طعن جاری تھی سیاسی وفاداریوں میں دھنسا بے سمت ہجوم خوب واہ واہ کر رہا تھا۔
اسی ہجوم میں شامل ایک مریض کی عیادت کرنے راولپنڈٰی کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال بینظیر بھٹو پہنچا، مریضوں کا جم غفیر تھا افرتفری کا عالم تھا۔

اسی اثنا او پی ڈٰی کے مرکزی دروازے پر سینکڑوں کی تعداد میں لوگ ایک دوسرے کے دست و گریباں تھے، دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ لڑائی اسٹریچرز پر ہورہی ہے، معاملات عقل و فہم سے بالاتر تھے،اسٹریچر دینے پر مامور نجی سیکورٹی کمپنی کے گارڈ کو مکمل طور پر ہجوم نے گھیرا ہوا تھا ، اس نے اپنے ہاتھوں میں درجنوں شناختی کارڈ جمع کر رکھے تھے، میں وہاں سے ایم ایس صاحب کے پاس گیا جہاں جا کر معلوم ہوا کہ اس اسپتال میں ہزاروں مریضوں کے صرف 10 سے 15 اسٹریچرز ہی دستیاب ہیں۔

(جاری ہے)


حبس اور شدید گرمی میں بلکتے ہرعمر کے افراد اسٹریچر کے لیئے ترس رہے تھے۔ایک ضعیف العمر بابا کی سے ملاقات ہوئی جنہوں نے آپریشن کے ٹانکے کھلوانے تھے اور درد سے بے حال تھے، وہ بتانے لگے کہ پچھلے تین دنوں سے آ رہا ہوں صبح سے شام اسٹریچر کے لیئے کھڑا رہتا جب کوئی امید بندھتی ہے تو او پی ڈی کا ٹائم ہی ختم ہو جاتا اور معاملہ اگلے دن پہ چلا جاتا۔


قارئین کرام جب کوئی ایک اسٹریچر خالی ہوتا تو ہر چیز سے بے پرواہ ہو کر دھکے دیتے ہوئے جھپٹتے ، المختصر یہ ہے کہ اسٹریچر کے ٹائروں سے لیکر مریض کے لیٹنے والی جگہ تک عوام چییوںٹیوں کی طرح چمٹ جاتی۔
وہاں ڈیوٹی پر مامور شخص نے بتایا کہ کئ لوگوں کی اسٹریچر کی باری آنے میں ہفتہ بھی لگ جاتا ، لوگ نماز فجر ادا کرنے کے بعد اسٹریچر کے لیئے جمع ہونا شروع ہو جاتے اور اجالا ہونے سے پہلے مجمعہ ہجوم میں تبدیل ہو چکا ہوتا۔


بابا جی کے ٹانکوں سے خون رس رہا تھا کیونکہ ٹانکے کھلوانے کے لیئے دی گئی تاریخ تلاش اسٹریچر کی نطر ہو چکی تھی۔
دنیا کے بہترین نظام صحت کے نعرے لگانے والے ریاست مدینہ کے دعویدار تو شاید کبھی اس خطہ سے علاج نہ کروائیں لیکن ایک سالہ کارکردگی کا راگ الاپنے والے حکمرانوں سے عوام الناس روٹی ، کپڑا ، مکان کی شاندار پذیرائی کیبعد آج فقط ایک اسٹریچر کی استدعا کر رہی ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Stretcher Doo Column By Noorulamin Danish, the column was published on 23 August 2019. Noorulamin Danish has written 5 columns on Urdu Point. Read all columns written by Noorulamin Danish on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.