افغانستان سے نیٹو انخلاء تک مقبوضہ کشمیر میں افسپا کو برقرار رکھنا ناگزیر ہے،بھارتی آرمی چیف کی نئی منطق

بدھ جنوری 13:24

نئی دہلی (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ یکم جنوری 2014ء) بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بکرم سنگھ نے ایک بار پھر مقبوضہ کشمیر سے کالے قوانین کے خاتمے کی مخالفت کرتے ہوئے نئی منطق پیش کی ہے کہ افغانستان سے نیٹو انخلاء تک افسپا کو برقرار رکھنا ناگزیر ہے،اس قانون کی جزوی منسوخی سے بھی مجاہدین کے خلاف جاری کارروائیوں کو دھچکا لگے گااور سرحد پار موجود400مجاہدین صورتحال کا فائدہ اٹھائیں گے جو سلامتی کے ماحول کو درہم برہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،اس مرحلے پر کسی قسم کی لا پرواہی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

اپنے ایک انٹرویو میں انھوں نے یہ بات دہرائی کہ مقبوضہ جموں و کشمیر سے متنازعہ قانون افسپا کی واپسی مجاہدین مخالف کاروائیوں پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کی جزوی واپسی بھی مجاہدین کے خلاف فوج کی کاروائی کیلئے دھچکا ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ لائن آف کنٹرول کے اس پار بقول ان کے مجاہدین کا ڈھانچہ بدستور قائم ہے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ افسپا کو اس وجہ سے بھی واپس نہیں لیا جانا چاہئے کہ سال 2014میں افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی تک یہ حکمت عملی کے اعتبار سے انتہائی اہم ہوگا۔

ایک سوال کے جواب میں جنرل بکرم سنگھ نے کہا کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں مجاہدین کی بڑی تعداد سرگرم ہے اور ان کا خاتمہ کرنا ابھی باقی ہے ۔ اس ضمن میں ان کا کہنا تھا انٹیلی جنس رپورٹوں کے مطابق جموں کشمیر میں 400 سے زائد مجاہدین موجود ہیں، اس مرحلے پر کوئی لاپرواہی برتی گئی تو مجاہدین اس صورتحال سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ افسپا کی موجودگی مجاہدین مخالف مہم کو جاری رکھنے اور ا سے منطقی انجام تک پہنچانے کے حوالے سے انتہائی اہم ہے ۔

انہوں نے کہا کہ سرحد پار موجود مجاہدین کا بنیادی ڈھانچہ ریاست میں سلامتی کے ماحول کو درہم برہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، لہذا مجاہدین کو کسی بھی طرح سے صورتحال کا فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔ جنرل بکرم سنگھ نے بتایا کہ افسپا ایک ایسا قانون ہے جو مجاہدین مخالف کاروائیوں کو موثر طریقے سے انجام دینے کیلئے ایک ضروری قانونی تحفظ ہے۔

انھوں نے کہا کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کی واپسی اور دیگر پیش رفت پر نظر رکھی جارہی ہے اور افسپا کا موجود رہنا اس لحاظ سے بھی اہم ہے۔ فوجی سربراہ نے مزید بتایا کہ امریکی افواج سال 2014میں پاک افغان خطے سے واپس جارہی ہے اور بھارت کو اس بات کا خدشہ ہے کہ اس اقدام سے وہاں سرگرم مجاہدین خطے کے دیگر علاقوں تک پھیل سکتے ہیں۔ جموں کشمیر کی سلامتی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے جنرل بکرم سنگھ نے کہا کہ صورتحال قابو میں ہے اور دراندازی کی سطح کو کم کرلیا گیا ہے۔

انہوں نے اعدادوشمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ سال 2001میں جہاں 1852مجاہدین دراندازی کرنے میں کامیاب ہوئے تھے ، وہیں سال 2013میں یہ تعداد صرف 90رہی جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سرحدوں کی کڑی نگرانی اور دراندازی مخالف نظام کے مثبت نتائج برآمد ہورہے ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شمال مشرقی ریاستوں کے لئے فوج کی ماونٹین سٹرائیک کور کا قیام عمل میں لانے کا عمل شروع ہوچکا ہے اور ایک انفینٹری ڈویژن اور دو انفینٹری بریگیڈ کے ہیڈکوارٹر یکم جنوری 2014سے کام کرنا شروع کریں گے۔