پاکستان اور عالم اسلام کے استحکام کیلئے ضروری ہے کہ تمام مسائل کا حقیقت پسندانہ حل نکالا جائے ‘طاہرمحموداشرفی

فرقہ واریت اور فرقہ وارانہ تشدد پھیلانے والی قوتوں کو نہ روکا گیا تو امت مسلمہ شام ، عراق ، یمن کی طرح تباہی کی طرف چلی جائے گی

بدھ اپریل 20:01

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) پاکستان علماء کونسل کے مرکزی چیئرمین حافظ طاہر محمودا شرفی نے کہاکہ عالم اسلام کی بقاء ، سلامتی اور استحکام کیلئے علماء ،مفکرین کا کردار بہت اہم ہے ، 23 اپریل کو عالمی پیغام اسلام کانفرنس میں مختلف اسلامی ممالک کے نمائندے شریک ہوں گے ، عالمی اسلامی فکری اتحاد کے بارے میں اہم اعلان کیا جائے گا۔

یہ بات پاکستان علماء کونسل کے مرکزی چیئرمین اور وفاق المساجد پاکستان کے صدر حافظ محمد طاہر محمودا شرفی نے مختلف مکاتب فکر کے علماء و مشائخ اور پیغام اسلام کانفرنس کی استقبالیہ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر مولانا عبد الحمید وٹو ، مولانا قاضی مطیع اللہ سعیدی ،مولانا محمد شفیع قاسمی ، مولانا حاجی محمد طیب شاد قادری، مولانا زبیر زاہد ، مولانا عبد القیوم ، مولانا اسد اللہ فاروق ، مولانا اسید الرحمن سعید، مولانا محمد اشفاق پتافی بھی موجود تھے ۔

(جاری ہے)

حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پاکستان اور عالم اسلام کے استحکام کیلئے ضروری ہے کہ تمام مسائل کا حقیقت پسندانہ حل نکالا جائے ، اگر فرقہ واریت اور فرقہ وارانہ تشدد پھیلانے والی قوتوں کو نہ روکا گیا تو امت مسلمہ شام ،، عراق ، یمن کی طرح تباہی کی طرف چلی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کوکمزور کرنے اور پاکستان میں انتشار پھیلانے کیلئے داعش کو پاک افغان بارڈر پر پھیلایا جا رہا ہے ، داعش کی سرپرستی کرنے والے وہی عناصر ہیں جنہوں نے شام ،، عراق میں مسلح گروہ تشکیل دئیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان علماء کونسل نظریاتی اور فکری جدوجہد کر رہی ہے ، پیغام اسلام کانفرنس پاکستان سمیت ملت اسلامیہ کو اتحاد ، یکجہتی کا نہ صرف پیغام دے گی بلکہ عملی مظاہرہ ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس میں 12 سے زائد اسلامی ممالک کے قائدین شریک ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان علماء کونسل 29 ویں عرب سربراہ کانفرنس کی مکمل تائید کرتی ہے اور کانفرنس کو سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبد العزیز کی طرف سے القدس کا نام دینے پر تحسین کرتی ہے اور عرب اسلامی سربراہی کانفرنس کے فیصلوں کی مکمل تائید کرتے ہوئے یہ سمجھتی ہے کہ امت مسلمہ کے مسائل کے حل کیلئے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے جب تک عملی اقدامات نہیں اٹھائے جائیں گے اس وقت تک امت میں پائی جانے والی اضطرابی کیفیت ختم نہیں ہو گی۔