آصفہ بانوکو انصاف ملنا چاہیے،بھارتی حکومت انتہاپسندی،درندگی اورکشمیریوں کی نسل کشی میں مصروف ہے،جس کا اقوام متحدہ کو نوٹس لینا چاہیے‘سانحہ کٹھوعہ کے خلاف کشمیری یوتھ سراپا احتجاج

جمعرات اپریل 14:52

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آئی این پی۔ 19 اپریل2018ء) سانحہ کٹھوعہ کے خلاف کشمیری یوتھ سراپا احتجاج،آصفہ بانوکو انصاف ملنا چاہیے،بھارتی حکومت انتہاپسندی،درندگی اورکشمیریوں کی نسل کشی میں مصروف ہے،جس کا اقوام متحدہ کو نوٹس لینا چاہیے،کشمیری یوتھ کے چیئرمین محمد اقبال میر،چیف آرگنائزر راجہ عبدالرشید،نائب صدر اشرف تبسم،سیکرٹری اطلاعات بشیر قریشی،ڈپٹی جنرل سیکرٹری رضوان احمد میر و دیگر نے مقامی ہوٹل میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

تقریب میں نوجوانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور اس موقع پر مقررین نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں جاری بھارتی بربریت،سانحہ شوپیاں،کلگام اور سانحہ کٹھوعہ ، سانحہ کنن پوش پورہ کے حوالے سے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر عملاً فوجی چھاونی میں تبدیل ہو چکا ہے،جہاں بھارتی فورسزاورہندوستان کی انتہاپسندتنظیموں نے بے گناہ کشمیریوں کی نسل کشی شروع کر رکھی ہے،خواتین اور بچیوں کو بھی بخشا نہیں جارہا آٹھ سالہ آصفہ بانو کو بے حرمتی کے بعد قتل کرنا بھارتی سفاکیت کا منہ بولتا ثبوت ہے،انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر کے حکمرانوں کو مقبوضہ جموں وکشمیر میں جاری بھارتی مظالم پر ایک دفعہ پھر آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کرنا چاہیے جس میں سیاسی جماعتوں کے علاوہ تاجر تنظیموں سول سوسائٹی اور سماجی تنظیموں کے ذمہ داران کو شامل کیا جائے تاکہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے اندر جاری بھارتی مظالم کے خلاف ٹھوس آوازبلند ہوسکے۔

(جاری ہے)

ہماری بدقسمتی رہی ہے کہ ہم نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کو نفل کی طرح لیا،جبکہ سیاسی سرگرمیوں کو فرض سمجھ کر آگے بڑھتے رہے ہیں جو تحریک آزادی کشمیر کے ساتھ بہت بڑا کھلواڑ ہے،قومی دنوں کے اندر بھی دیکھا گیا ہے کہ ہم کتنے مخلص ہیں جبکہ سیاسی جلسوں کیلئے بڑھ چڑھ کراورایک دوسرے سے آگے بڑھنے کیلئے سبقت لیتے ہیں اور میڈیا کے اندرخوب تماشہ لگاتے ہیں اس سے ہمارامخلص پن کھل کر سامنے آتا ہے،انہوں نے کہا کہ بھارتی مظالم کے خلاف کشمیرلبریشن سیل کو مزید موثرکردارادا کرنا ہوگا،مقبوضہ کشمیر کے اندر جاری مظالم کو بے نقاب کرنے کیلئے صرف مہاجرین اورآزادکشمیر کے اندر گنے چنے لوگوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ آزادکشمیر میں بسنے والا ہرشہری اس کا ذمہ دار ہے اوراسے اپنی ذمہ داری سے غافل نہیں ہونا چاہے یقیناً یہ کمزوری ہمارے حکمرانوں کی پیدا کردہ ہے جس کی بظاہر کوئی دلچسپی نظرنہیں آتی مگرسیاسی جلسوں میں بڑھ چڑھ کرنظرآتی ہے۔

ہمارا المیہ ہے کہ ہم نے فرض کو نفل اور نفل کو فرض سمجھ رکھا ہے ۔ ہمیں اس اہم مسئلے پر ٹھوس حکمت عملی اپنا کربھارت کے ہر عزائم کو خاک میں ملانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بھارتی فورسز نے جب بھی ایل او سی پر کشیدگی بڑھائی تو پاک فوج نے بڑی بہادری کے ساتھ دشمن کے دانت کھٹے کیے پاک فوج کو سلام جو سرحدوں پر چوکس کھڑی ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ حکمرانوں کو چاچے مامے اور بھانجے کی سیاست سے نکل کر ریاست کی ترقی کیلئے کردارادا کریں ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے تکمیل پاکستان تک کشمیریوں کی بھارت سے آزادی کیلئے جدوجہد جاری رہے گی۔اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف چپ کا روزہ توڑے اور کشمیریوں کو ان کا پیدائشی حق دلوانے کیلئے اپنا کرداراداکریں۔