آٹھ سالہ آصفہ بانو کی آبروریزی، قتل کے المناک واقعہ کیخلاف مقبوضہ کشمیر میں مظاہرے

بھارتی فوج کا مظاہرین کے خلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال، متعدد زخمی ہوگئے، حریت رہنمائوں تشدد کی شدید مذمت غیر قانونی نظر بندیوں، گرفتاریوں ، ظالمانہ ہتھکنڈوں سے بھارت کشمیریوں کی جدوجہد کو دبا نہیں سکتا، مسرت عالم

جمعرات اپریل 18:42

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) مقبوضہ کشمیر میں کٹھوعہ کی آٹھ سالہ آصفہ بانو کی آبرو ریزی اور قتل کے المناک واقعے کے خلاف سرینگر اور دیگر تمام بڑے قصبوں میں آج بھی زبردست احتجاجی مظاہرے جاری رہے ۔ بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی طرف سے مظاہرین پر طاقت کے وحشیانہ استعمال کے نتیجے میں طلبہ سمیت بیسیوں افراد زخمی ہو گئے۔

کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سرینگر،، بڈگام، ناگام، چاڈورہ، گاندربل، کنگن، شوپیاں، پلوامہ، اسلام آباد، بارہمولہ، سوپور، بونیار، رفیع آباد،ڈلنہ، کپواڑہ، بانڈی پورہ، اجس اور دیگر علاقوں میں سکولوں اور کالجو ں کے طلباء سمیت بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور کم سن بچی کے مجرموں کو کڑی سزا دینے کا مطالبہ کیا۔

(جاری ہے)

مظاہرین نے آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف فلک شگاف نعرے لگائے اور پاکستانی جھنڈے لہرائے ۔

بھارتی فورسز کے اہلکاروں نے مختلف علاقوں میں مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پیلٹ چلائے اور آنسو گیس کے گولے داغے جس کے بعد فورسز اہلکاروں اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں ۔ قابض فورسزکی طر ف سے طاقت کے وحشیانہ استعمال سے طلبہ سمیت بیسیوں افراد زخمی ہو گئے۔ شدید زخمیوں کو سرینگر کے ہسپتالوں میں داخل کیا گیا۔ ننھی بچی کی آبرو ریزی اور قتل کے بہیمانہ واقعے کے خلاف کپواڑہ میں خصوصی افراد کی ایک بڑی تعداد نے احتجاجی ریلی نکالی۔

انہوں نے مجرموں کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا۔ بھارتی فورسز کی طرف سے گزشتہ روز طلبہ پر طاقت کے وحشیانہ استعما ل کیخلاف ترال قصبے میںمکمل ہڑتال کی گئی۔ دکانیں اور کاروباری مراز بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی آمد ورفت معطل تھی۔ حریت رہنمائوں محمد اشرف صحرائی ، محمد یاسین ملک ،آسیہ اندرابی ، بلال صدیقی ، شبیراحمد ڈار اور کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اپنے بیانات میں بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی طرف سے گزشتہ روزطلباء پر طاقت کے وحشیانہ استعمال کی شدید مذمت کی ہے ۔

محمد اشرف صحرائی نے مقبوضہ علاقے کی موجودہ صورتحال کو انتہائی مخدوش اور ابتر قراردیا۔ادھر کل جماعتی حریت کانفرنس کے غیر قانونی طورپر نظربند سینئر رہنماء مسرت عالم بٹ نے کہاہے کہ بھارت غیر قانونی نظر بندیوں، گرفتاریوں ، خوف و ہراس اور دیگر ظالمانہ ہتھکنڈوں سے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کمزور نہیں کرسکتا۔ا نہوںنے ان خیالات کااظہار جموںوکشمیر مسلم کانفرنس کے چیئرمین شبیر احمد ڈار کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوںنے کوٹھی باغ پولیس اسٹیشن سرینگر میں ان سے ملاقات کی ۔

مسرت عالم بٹ کو ایک مقدمے کی سماعت کیلئے جموںکی کوٹ بھلوال جیل سے سرینگر لایا گیا تھا۔ سماعت کے بعد انہیں واپس کوٹ بھلوال جیل منتقل کردیا گیا۔۔بھارتی پولیس نے حریت رہنمائوں مختار احمد وازہ اور قاضی یاسر کو اسلام آباد قصبے میں گرفتار کرلیا۔آج سرینگر میں جموںوکشمیر مسلم لیگ کے ایک اجلاس میں عبدالاحد پرہ کو پارٹی کا قائم مقام چیئرمین منتخب کرلیاگیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے ذریعے حل کیاجاسکتا ہے ۔