سپریم کورٹ نے شرجیل انعام میمن کی ضمانت کی درخواست نمٹادی

جمعرات اپریل 22:30

سپریم کورٹ نے  شرجیل انعام میمن کی ضمانت کی درخواست نمٹادی
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 19 اپریل2018ء) سپریم کورٹ نے سند ھ کے سابق وزیر اطلاعات و نشریات شرجیل انعام میمن کی ضمانت کی درخواست نمٹادی ہے جبکہ دوران سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دئیے ہیں کہ شرجیل میمن نے باہر جانے سے پہلے جیل نہیں دیکھی تھی،اب شرجیل میمن نے جیل دیکھ لی ہے،اب اگر وہ باہرگئے تو انکی کوشش ہوگی واپس نہ آئیں، ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دیں، معاشی دہشتگردی نہیں ہونی چا ہیے۔

شرجیل میمن اور شریک ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں واپس لینے کی بنیاد پر نمٹائی گئیں، شرجیل میمن کے ساتھ سلمان منصور، عمر شہزاد، ذوالفقارشیروانی شریک ملزمان ہیں، ملزمان کی درخواستوں کی سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی ۔

(جاری ہے)

دوران سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دئیے کہ جو حقائق سامنے آئے ہیں وہ فیصلے میں لکھ دیئے تو آپکا نقصان ہوگا،ٹرائل کورٹ حساب مانگے گی وہاں جاکر حساب دیں،اشتہار کی قیمت 400 سو روپے منٹ سے بڑھ کر 12500 فی منٹ کیسے ہوگئی، وکیل لطیف کھوسہ نے کہاپاکستان کا اچھا تشخص سامنے لانے کے لیے فلم فیسٹیول کرایا گیا، جس پر جسٹس آصف سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دیں، معاشی دہشتگردی نہیں ہونی چاہیے ،عدالت سے مفرور شخص کس طرح ضمانت مانگ سکتا ہے،شرجیل میمن نے باہر جانے سے پہلے جیل نہیں دیکھی تھی،اب شرجیل میمن نے جیل دیکھ لی ہے،اب اگر وہ باہرگئے تو انکی کوشش ہوگی واپس نہ آئیں،اشتہاری مہم کی منظوری براہ راست شرجیل میمن نے دی شرجیل میمن بیرون ملک گئے تو عدالت نے انہیں مفرور قرار دیا،قانونی تقاضے پورے کیئے بغیر اشتہار دیئے گئے،شرجیل میمن کے عدالت میں سرینڈر کرنے کے مناظر سب نے دیکھے، جسٹس کھوسہ نے کہا کہ ہمیشہ رعائت کے غلط استعمال کی وجہ سے عدالتوں کوبھی اپنا رویہ سخت کرناپڑا،جعلی سرٹیفیکیٹس دے کرڈاکٹروں نے ساکھ خراب کرلی ہے سندھ کے ایک کیس میں چیف جسٹس کوخود مداخلت کرناپڑی 04-18/--60