پشاور، بس ریپڈٹرانزٹ منصوبے پر صوبائی کابینہ کو بریفننگ

واحد منصوبہ ہے جو قلیل عرصے اور کم لاگت سے مکمل ہوگا،پرویز خٹک مجموعی لاگت میں بسوں کی خریداری، اراضی، کمرشل پلازہ، نکاسی آب، فٹ پاتھ اورسڑکوں کی کشادگی کو شامل کیا گیا،

جمعرات اپریل 23:11

پشاور، بس ریپڈٹرانزٹ منصوبے پر صوبائی کابینہ کو بریفننگ
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) صوبائی کابینہ کو بس ریپڈٹرانزٹ) بی آرٹی ) منصوبے پر خصوصی بریفنگ دی گئی۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویزخٹک نے بی آرٹی پر ہونے والی پیش رفت کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ واحد منصوبہ ہے جو قلیل عرصے اور کم لاگت سے مکمل ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ بس ریپڈ ٹرانزٹ کی مجموعی لاگت میں بسوں کی خریداری، اراضی، کمرشل پلازہ، نکاسی آب، فٹ پاتھ اورسڑکوں کی کشادگی کو شامل کیا گیا جبکہ پنجاب اور اسلام آباد وغیرہ کے میٹرو منصوبوں میں صرف سٹرکچر(جس میں بسیں بھی شامل نہیں ہیں) کی لاگت کو ظاہر کیا گیا ہے۔

اگر پشاور ریپڈ بس کی صرف تعمیر کی لاگت کو لیا جائے توتخمینہ 30ارب روپے کے لگ بھگ بنتا ہے جو کہ اب بھی لاہور اور اسلام آباد کے میٹرو منصوبوں سے کم ہے۔

(جاری ہے)

وزیراعلیٰ کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں صوبائی وزراء، ایدیشنل چیف سیکرٹری، انتظامی سیکرٹریز اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔بریفنگ کے دوران کابینہ کو بتایا گیا کہ بی آر ٹی منصوبے میں عوام کی سہولت کے پیش نظر معمولی ردوبدل کیا گیا جس میں گلبہار، فردوس چوک، ائیر پورٹ روڈ، تہکال فلائی اوور شامل ہیں ۔

30اپریل تک ملبہ ہٹا دیا جائے گا اور اطراف کی سڑکیں پختہ کر دی جائیں گی جس سے ٹریفک کی روانی میں حائل رکاوٹیں دور ہو جائیں گی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سی2013ء میں پشاور کے ٹریفک کے مسائل کے حل کیلئے 20سالہ حکمت عملی وضع کی گئی۔ بی آر ٹی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔27کلو میٹر طویل اس منصوبے کا ڈیزائن ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے تیار کیا گیا۔

صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی نے 57بلین روپے کا تخمینہ لاگت تیار کرکے اسے پلاننگ کمیشن آف پاکستان سے کلیئر کیا۔ سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی نے مئی2017ء میں اس منصوبے کیلئی49.346ارب روپے کی منظوری دی۔اس منصوبے کی بڈنگ دستاویزات کی منظوری ایشیائی ترقیاتی بینک نے دی اور یہ مراحل میڈیا کی موجودگی میں پایہ تکمیل کو پہنچے۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ بی آر ٹی میں عوام کی سہولت کیلئے پارکنگ پلازے بھی بنائے جائیں۔

کابینہ کو مزید بتایا گیا کہ پجگی تا ورسک روڈ رنگ روڈ 10مئی تک تیار ہو جائیگا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ رنگ روڈ کی ورسک تا حیات آباد تک تعمیر کیلئے تیز تر بنیادوں پر کام کیا جائے۔ اس منصوبے کی تکمیل سے پشاور کی اہم شاہراہوں پر ٹریفک رش مزید کم ہو جائیگا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس نوعیت کے مزید رنگ روڈ اور منصوبوں کیلئے بھی منصوبہ بندی کی جائے تاکہ صوبائی دارالحکومت میں ٹریفک کا مسئلہ مستقل بنیادوں پرحل کیا جاسکے۔

وزیراعلیٰ نے متنبہ کیا کہ بی آر ٹی منصوبے میں غفلت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور غفلت کے مرتکب افسران کو عہدوں سے فارغ کر دیا جائے گا۔کابینہ نے سول پروسیجر کوڈ ترمیمی بل2018ء کی بھی منظوری دی جس کے تحت اب(time-barred) کیسز میں بھی کمی بیشی کیلئے رعایت دی جا سکے گی۔اس سے قبل90روز کا عرصہ گزرنے کے بعد کیسز قابل سماعت نہیں ہوتے تھے۔ تاہم اس پر عملدرآمد صوبائی اسمبلی کی منظوری سے مشروط ہوگا۔

کابینہ نے جنگلات کیلئے مخصوص اراضی پر چھوٹے پیمانے پر بجلی پیداکرنے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن کا2فیصد جنگلات کی ترقی پر خرچ کرنے اور ٹرائوٹ مچھلی کی افزائش کے منصوبے شروع کرنے کی بھی منظوری دی۔ کابینہ نے موٹر وہیکل آردیننس1965 کے تحت ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی تشکیل نو کی بھی منظوری دی۔کابینہ کا آئندہ اجلاس منگل24اپریل2018ء کو دوبارہ طلب کیا گیا ہے تاکہ باقی ماندہ ایجنڈے کی منظوری بھی دی جا سکے۔