تحریک حریت جموںوکشمیر کی پارٹی سے وابستہ افراد کے گھروں پر چھاپوں اور گرفتاریوں کی مذمت

بھارت کو کشمیریوں کے خلاف جبر و استبداد کی پالیسیوں سے کچھ حاصل نہیں ہو گا،تحریک حریت جموں وکشمیر

ہفتہ اپریل 19:11

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اپریل2018ء) مقبوضہ کشمیر میں تحریک حریت جموںوکشمیر نے تنظیم کے رہنمائوں اور کارکنوں کے گھروں پر چھاپوں اور انکی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کو کشمیریوںکے خلاف جبر و استبداد کی پالیسیوں سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تحریک حریت کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارتی پولیس نے تنظیم کے رہنما معراج الدین ربانی کی گرفتاری کے لیے سرینگر کے علاقے زینہ کوٹ میںواقع ان کے گھر پر رات دو بجے چھاپہ مارا۔

انہوں نے کہا کہ معراج الدین ربانی کو گھر میں نہ پا کر ان کے اہلخانہ کو سخت ہراساں کیا گی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے سوزیٹھ اور زینہ کوٹ کے علاقوں میں رات کے وقت گھروں پر چھاپوں کے دوران احسان الحق پرے، جاوید احمد، عامر احمد بٹ، اقبال مجید، تنویر احمد، عادل احمد، عادل میر، عادل ڈاراور شوکت احمد وانی نامی نوجوانوں کو بلا جواز طور پر گرفتار کر لیا۔

(جاری ہے)

ترجمان نے کہا کہ گرفتار کیے جانے والے یہ تمام نوجوان تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور اس طرح سے انکے تعلیمی مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا۔ انہوںنے تحریک حریت جموں وکشمیر کے چیئرمین محمد اشرف صحرائی اور حریت رہنمائوں آغا سید حسن الموسوی الصفوی، غلام احمد گلزار، محمد اشرف لایہ، عمرعادل ڈار، سید امتیاز حیدر اور دیگر کی گھروں ، تھانوں اور جیلوں میں نظر بند ی کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے تمام نظر بندوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

دریں اثنا تحریک حریت جموں کشمیر کے رہنمائوں محمد رفیق اویوی، محمد یوسف مکرو، معراج الدین ربانی، غلام محمد ہرہ نے عوامی رابطہ مہم کے سلسلے میں مقبوضہ وادی کے مختلف مقامات پر عوامی اجتماعات سے اپنی تقاریر کے دوران محکوم کشمیریوں پر بھارتی فورسز کے بڑھتے ہوئے مظالم کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ کٹھوعہ میں کم عمر آصفہ کی آبروریزی اور قتل کے بہیمانہ واقعے نے ہر باضمیر انسان کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا ہے لیکن فرقہ پرست ذہنیت کے حامل ٹولے کی بے ضمیری نے انسانیت کو شرمسار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بے ضمر لوگ گھنائونے واقعے کے مجرموں کی کھل کر پشت ناہی کر رہے ہیں، ان کے حق میں ریلیاں نکالتے ہیں لیکن ان پر لاٹھیاں اور پیلٹ نہیں برسائے جاتے اور نہ ہی کسی کو گرفتار کیا جاتا ہے۔حریت رہنمائوں نے کہا کہ اس کے برعکس جب مقبوضہ وادی کے مسلمانوں بیگناہ نوجوانوں کے قتل کے خلاف پر امن احتجاج کیلئے سڑکوں پر نکل آتے ہیں تو انہیں گولیاںماری جاتی ہیں اور پیلٹ کے ذریعے بصارت سے محروم کیا جاتا ہے۔