لاہور، الیکشن بھی سینیٹ الیکشن کی طرح دولت کی بنیاد پر کرپٹ اور بد عنوان مافیا نے جیت لیا تو عوام کو نظام سے مایوسی ہوگی،سراج الحق

ان کا جمہوریت سے اعتماد اٹھ جائے گا ، مسترد شدہ لوگ بھیس بدل کر اور دوسری پارٹیوں میں جاکر عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں ، تین تین بار یاں لینے والے عوام کو ریلیف دینے اور ڈلیور کرنے میں ناکام رہے ہیں،امیر جماعت اسلامی پاکستان

اتوار اپریل 21:50

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ اگر آئندہ الیکشن بھی سینیٹ الیکشن کی طرح دولت کی بنیاد پر کرپٹ اور بد عنوان مافیا نے جیت لیا تو عوام کو موجودہ نظام سے مایوسی ہوگی اور ان کا جمہوریت سے اعتماد اٹھ جائے گا ۔ مسترد شدہ لوگ بھیس بدل کر اور دوسری پارٹیوں میں جاکر عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں ۔

تین تین بار یاں لینے والے عوام کو ریلیف دینے اور ڈلیور کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔موجودہ حکومت بھی تمام تر دعوئوں اور وعدوں کے باوجود لوڈشیڈنگ تک ختم نہیں کر سکی ۔ حکمرانوں نے عوام کے مینڈیٹ کا احترام کیا ،نہ اپنے وعدوں کا پاس ۔ عوام کو غربت ، مہنگائی ، بے روزگاری ، بدامنی اور لوڈشیڈنگ کے تحفے دینے والے یہی حکمران ہیں ۔

(جاری ہے)

جماعت اسلامی نے کرپشن کے خلاف جو جہاد شروع کیاہے ، اسے منطقی انجام تک پہنچائیں گے ۔

ملک سے اخلاقی ، مالی اور سیاسی کرپشن کا خاتمہ کر کے رہیں گے ۔ ان خیالات کااظہار انہوںنے مدرسہ تفہیم القرآن مردان میں ضلعی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اجتماع سے امیر جماعت اسلامی خیبر پی کے سینیٹر مشتاق احمد خان ، نائب امیر جماعت اسلامی راشد نسیم اور ضلعی امیر مولانا عطاء الرحمن نے بھی خطاب کیا ۔ اجتماع میں جماعت اسلامی کے کارکنان اور عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ عوام پر مسلط ظالم جاگیرداروں اور کرپٹ سرمایہ داوں کا نظام غریب کے لیے موت کا پیغام ہے ۔ اسٹیٹس کو کی نمائندہ جماعتوں پر چند سرمایہ داروں اور جاگیرداروں نے قبضہ کر رکھا ہے ۔ یہ پارٹیاں عام آدمی کی مشکلات اور پریشانیوں میں اضافہ کر رہی ہیں ۔ موجودہ حکومت مسائل حل کرنے کی بجائے خود سب سے بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے ۔

سرمایہ داروں کی نمائندہ حکومت سو فیصد ناکام ہوچکی ہے ۔ سینیٹر سرا ج الحق نے کہاکہ پاکستان میں ستر سال میں ایک دن کے لیے بھی اسلام کا عادلانہ نظام سیاست اور معیشت نافذ نہیں ہوا ۔ سودی نظام پاکستان کے آئین کی خلاف ورزی ہے ۔ موجودہ حکمرانوں نے سودی نظام کو دوام بخشاہے ۔ سودی نظام ظلم کا نظام اور اللہ اور رسول اللہ ؐ سے کھلی جنگ ہے جس کی وجہ سے ملک میں غربت ، مہنگائی اور بے روزگاری نے پنجے گاڑ رکھے ہیں ۔

بچہ بچہ ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کا مقروض ہے ۔ انہوںنے کہاکہ سودی نظام کے مقابلے میں ایم ایم اے کی حکومت زکوة کا اسلامی نظام لائے گی ۔ آج ملک میں 9 لاکھ لوگ انکم ٹیکس دیتے ہیں ۔ زکوة کا نظام آتے ہی 9 کروڑ لوگ زکوة دیں گے ۔ انہوںنے کہاکہ موجودہ نظام صرف وی آئی پیز اور سرمایہ داروں کو تحفظ دیتاہے اور عام آدمی کا استحصال کرتاہے یہی وجہ ہے کہ نوجوان احساس کمتری کا شکار اور اپنے مستقبل کے بارے میں سخت مایوسی اور پریشانی میں مبتلا ہیں ۔

انہوںنے کہاکہ ہماری حکومت میں نوجوانوں کو باعزت روزگار کے لیے بلا سودی قرضے ملیں گے اور جب تک حکومت روزگار کا بندوبست نہیں کرسکے گی ، نوجوانوں کو بے روزگاری الائونس دیا جائے گا ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ پاکستان کے قومی ادارے سٹیل ملز ، پی آئی اے ، واپڈا اور ریلوے تباہی و بربادی کی تصویر بنے ہوئے ہیں اور ان کرپٹ سرمایہ داروں کے ذاتی ادارے انڈے بچے دے رہے ہیں ۔

خود غرض حکمرانوں نے ملک و قوم کو مسائل کی دلدل میں دھکیل دیا ہے جس سے نکلنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ آئندہ انتخابات میں کرپٹ لوگوں کو آگے آنے کاموقع نہ دیا جائے ۔ انہوںنے کہا کہ کرپشن فری پاکستان کے لیے سیاسی جماعتوں اور حکمرانوں کا کرپشن سے پاک ہوناضرور ی ہے اور الیکشن کمیشن ہی کرپٹ اور بد دیانت لوگوں کا راستہ روک سکتاہے ۔ انہوںنے کہاکہ نوے فیصد لوگ ملک میں شریعت کا نظام چاہتے ہیں کیونکہ عوام جانتے ہیں کہ صرف نظام مصطفیؐ ہی ملک و قوم کو موجودہ مسائل سے نجات دلاسکتاہے ۔