بھارتی پولیس کی طرف سے کشمیری نوجوانوں اور طلباء کی گرفتاریوں کی شدید مذمت

بدھ اپریل 13:57

سرینگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) مقبوضہ کشمیر میںتحریک حریت جموں وکشمیر نے مقبوضہ علاقے کے اطراف واکناف میں بھارتی پولیس کی طرف سے کشمیری نوجوانوںخاص طورپرطلباء کی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اورانہیں ظلم وتشدد کانشانہ بنانے کی کارروائیوںکی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قابض انتظامیہ کے ظلم و بربریت کے خلاف کشمیری عوام بالخصوص نوجوان نسل میں پائے جانے والے غم وغصے کی لہر حق بجانب ہے۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق تحریک حریت کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں پارٹی رہنماء عاشق حسین نارچور کو شیر باغ پولیس اسٹیشن اسلام آباد میں حبس بے جا میںنظر بند رکھنے، عام شہریوں اشفاق احمد کوتوال اور عاصف احمد وار کو پولیس کی جانب سے اذیتوں کا نشانہ بنانے اور منیب احمد بٹ کو گزشتہ7ماہ سے جھوٹے الزامات کے تحت مٹن جیل میں نظربندرکھنے پر شدید تشویش ظاہر کی ۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہا کہ غاصب حکمرانوں نے ہمیشہ سے ہی اپنی تاناشاہی کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو خاموش کرنے کے لیے جیل خانوں کے دروازے کھول دئے ہیں اور ظلم وبربریت کی کارروائیوں کا سہارا لے کر اپنے اقتدار کو بچانے کی ناکام کوششیں کی ہیں۔ تحریک حریت کے ترجمان نے کشمیری عوام کی طرف سے حق خودارادیت کی تحریک کو اسکے منطقی انجام تک جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ عوام نے جابر حکمرانوں کے اوچھے ہتھکنڈوں کے خلاف نہ جھکنے، نہ بکنے اور نہ تھکنے کا عہد کررکھا ہے۔ تحریک حریت کا ہر فرد اس عزم صمیم کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرے گا۔ ترجمان نے ان افراد کی فوری رہائی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسی کارروائیوں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔