سرینگر ، شوپیاں اور پلوامہ میں زبردست مظاہرے

مقبوضہ کشمیر کو ایک قتل گاہ میں تبدیل کردیاگیا ہے،میر واعظ عمر فاروق

جمعہ مئی 20:12

سری نگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر میںلوگوںنے بھارتی فوجیوںکی طرف سے نہتے کشمیریوں کے قتل اور گرفتاریوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کیلئے سرینگر،، شوپیاں ، پلوامہ اور دیگر علاقوں میں زبردست مظاہرے کئے ۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق لوگوںنے مشترکہ حریت قیادت کے زیراہتمام نوہٹہ ، حیدرپورہ اور سرینگرکے دیگر علاقوںمیںسڑکوںپر نکل کر بھارت مخالف مظاہرے کئے اور ریلیاں نکالیں۔

مظاہروں کی قیادت حریت رہنماء میر واعظ عمر فاروق ، غلام نبی سمجھی ، محمد یوسف نقاش، حکیم عبدالرشید، شوکت احمد بخشی ، سید بشیر اندرابی، مختار احمدصوفی، مولوی بشیر احمد ، سید امتیاز حیدر، محمد سلیم زرگراور خواجہ فردو س وانی کر رہے تھے ۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فورسز کی طرف سے قتل ، گرفتاریاں اور دیگر مظالم بند کرنے کے مطالبات در ج تھے ۔

(جاری ہے)

ہزاروں کی تعداد میں لوگ حال ہی میں شوپیاں کے علاقے دربگام میںشہید ہونیوالے حزب المجاہدین کے کمانڈر سمیر احمد بٹ المعروف سمیر ٹائیگر کے اہلخانہ سے اظہار یکجہتی کیلئے انکی رہائش گاہ گئے ۔ شوپیاں اور پلوامہ میں نوجوانوں اور بھارتی پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ فورسز اہلکاروںنے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیا جس سے متعدد افراد زخمی ہو گئے۔

بھارتی پولیس نے جموںوکشمیر سالویشن موومنٹ کے چیئرمین ظفر اکبربٹ کو اس وقت گرفتار کرلیا جب انہوںنے شوپیاں کی طرف جانے کی کوشش کی۔حریت فورم کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے جامع مسجد سرینگر میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر خصوصاً جنوبی کشمیر کو ایک قتل گاہ میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور شوپیاں، ترال ، کولگام ، پلوامہ اور دیگر علاقوں میںقتل عام ، گرفتاریاں ،طاقت کا وحشیانہ استعمال ، چھاپے اور لوگوں کو ہراساں کرنا بھارتی دہشت گردی کی بدترین مثال ہیں ۔

انہوںنے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ کشمیریوں پر بھارتی مظالم کا نوٹس لیں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ حریت رہنماء مختار احمد وازہ نے اسلام آباد قصبے کے علاقے اچھہ بل میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کیلئے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے ۔

حریت رہنمائوں اور تنظیموں نے اپنے بیانات میں ضلع شوپیاں میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں ایک طالب علم عمر کمہار کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کی ہے ۔۔بھارتی فوجیوںنے بدھ کو ضلع کے علاقے ترک وانگام میں تلاشی اور محاصرے کی ایک کارروائی کے دوران مظاہرین پر گولیاں ، پیلٹ گن اور آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کر کے عمر کمہار کو شہید اور تیس دیگر نوجوانوں کو زخمی کردیاتھا۔ زخمی نوجوانوں کو سوشل میڈیا پر جاری ویڈیوز میں یہ کہتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ مجاہدین کو بچانے کیلئے اپنی جانوںکی قربانی دینے کیلئے تیار ہیں۔