سانحہ بلدیہ کا حساب مانگنے والی پیپلزپارٹی عزیربلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ جاری کرے، رہنما پاکستان تحریک انصاف

پی پی ایم کیوایم گٹھ جوڑ کے ذریعہ کراچی کو ایک بار پھر لسانی سیاست کی طرف دھکیلا جارہا ہے،علی زیدی،ڈاکٹر عارف علوی ، ، فردوس شمیم نقوی ،ڈاکٹر رمیش کمار کا انصاف ہاؤس کراچی میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب

ہفتہ مئی 21:52

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) پاکستان تحریک انصاف کے سینئر مرکزی نائب صدر علی زیدی، پی ٹی آئی سندھ کے صدر و رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عارف علوی ، پی ٹی آئی کراچی کے صدر فردوس شمیم نقوی اور پی ٹی آئی کے سینئر مرکزی رہنما و ایم این اے ڈاکٹر رمیش کمار نے بارہ مئی کوکراچی میں مزارقائد پرجلسہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے سانحہ بلدیہ کا حساب مانگنے والی پیپلزپارٹی عزیربلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ جاری کرے ۔

تحریک انصاف کے رہنماں کا کہنا ہے کہ پی پی ایم کیوایم گٹھ جوڑ کے ذریعہ کراچی کو ایک بار پھر لسانی سیاست کی طرف دھکیلا جارہا ہے وہ انصاف ہاؤس کراچی میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر سندھ اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر خرم شیر زمان، راجہ اظہر، دوا خان صابر، ڈسٹرکٹ صدر سرور راجپوت، بلال غفار، سیکریٹری اطلاعات پی ٹی آئی کراچی شہزاد قریشی ، فضہ ذیشان اور دیگر پی ٹی آئی رہنما بڑی تعداد میں موجود تھے۔

(جاری ہے)

علی زیدی کا کہنا تھا کہ بارہ مئی کو ہم نے جلسے کا اعلان کیا ہے۔ کراچی کو ایک بار پھر لسانی سیاست کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری پی پی پی کا لیڈر ہے اور ہم نے آج تک اس کی تقریروں کو درگزر کیا۔ اس نے متحدہ قومی موومنٹ کو مستقل مصیبت موومنٹ کہا۔ میں بلاول بھٹو بلکہ بلاول زرداری کو جواب دینا چاہتا ہوں۔ پہلی بات یہ ہے کہ جس کو آپ مستقل قومی مصیبت کہہ رہے ہیں، ہر حکومت میں آپ ان کے پارٹنر بن جاتے ہیں۔

جب آپ کی پارٹنرشپ ٹوٹتی ہے تو شہر میں خون خرابہ شروع ہوجاتا ہے۔ ہم اس شہر میں خون خرابہ روکنا چاہتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ بلدیہ فیکٹری میں لوگوں کے جاں بحق ہونے اور جل جانے کی بات آپ نے کی۔ ہم تو عدالت میں پٹیشن لے کر گئے تھے کہ اس کی اور عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی ریلیز کی جائے۔ اگر آپ کو بلدیہ فیکٹری کے لوگوں کی اتنی فکر ہے تو آپ اس وقت حکومت میں ہیں۔

آپ کو جے آئی ٹی ریلیز کردینی چاہئے۔ ہم نے جو تین جے آئی ٹیز مانگی ہیں، آپ کو ریلیز کردینی چاہئیں۔ آفیشل جے آئی ٹی سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔ کسی کو بھی بلیک میل نہ کریں۔ تیسری بات یہ ہے کہ ایم کیو ایم کے دھڑے مل کر ٹنکی گرانڈ پر ہی جلسہ کر رہے ہیں۔ ہم کہتے ہیں ہر ایک کو جلسہ کرنے کا حق ہے۔ ان کے بھی ایک لیڈر عامر خان نے کہا کہ ہم ایسے حالات پیدا کردیں گے کہ یہاں کوئی اور جلسہ نہ کرسکے۔

عامر خان ، معذرت کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آپ ایسے حالات پیدا کرنے میں ماہر ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ شہر کراچی میں جب لال رنگ آئے گا تو وہ گلاب کے پھول کا آئے گا۔ کوئی خونریزی نہیں ہوگی۔ آپ دونوں اس شہر کو دوبارہ لسانی سیاست کی طرف لے جا رہے ہیں۔ ہم اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ اس لیے ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم بارہ مئی کو کراچی میں جلسہ کریں گے۔

بڑا جلسہ الیکشن سے پہلے ہوگا، لیکن یہ بھی ایک اہم جلسہ ہے۔ اس جلسے کے ذریعے ہم امن و سلامتی، یکجہتی، بھائی چارے اور ایک پاکستان کا پیغام دیں گے۔ میں بارہ مئی کو تحریک انصاف کے جلسے میں کراچی کے ہر شہری کو شرکت کی دعوت دیتا ہوں۔ آپ آئیے اور جلسے میں شرکت کرکے یہ بتادیجئے کہ کراچی اب جھگڑے، فساد، فرقہ واریت اور لسانیت کی سیاست سے باہر آچکا ہے۔

آپ ثابت کردیجئے کہ آپ گزشتہ دقیانوسی نظام کے خلاف چیئرمین عمران خان کے ایک پاکستان کے لیے ان کے شانہ بشانہ ہیں۔ پی ٹی آئی سندھ کے صدر و ایم این اے ڈاکٹر عارف علوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم سندھیوں ، پنجابیوں، پٹھانوں اور مہاجروں کو الگ الگ نہیں ہونے دیں گے۔ چیئرمین عمران خان کا پیغام یہ ہے کہ قوم کے اکٹھا ہونے پر ہی تبدیلی آئے گی۔

چیئرمین عمران خان ایک پیکیج کا اعلان کریں گے۔ جس طرح گیارہ نکاتی ایجنڈا سارے پاکستان کے لیے بیان کیا گیا، اسی طرح کراچی کے لیے کراچی پیکیج ہوگا۔ کراچی اس گیارہ نکاتی ایجنڈے کا بھی حصہ ہے لیکن کراچی کی کچھ اپنی مخصوص باتیں بھی ہیں۔ کراچی میں کوڑا کرکٹ کا مسئلہ ہے، گندگی ہے، ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی نے پلاٹ بنا بنا کر بیچ دئیے۔

کراچی کا جو حشر کیا ہے اس میں پانی کی قلت،، لوڈ شیڈنگ سے براحال، ان تمام مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے چیئرمین عمران خان کراچی کو ایک پیکیج دیں گے۔ یہ پیکیج توڑنے والا نہیں ہوگا بلکہ سب کو جوڑنے والا ہوگا۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک طبقے کو تو حقوق ملیں اور دوسرا محروم رکھا جائے۔ دسیوں سال تک مہاجروں کو قتل کیا گیا اور ان پر حکومت کی گئی۔

بارہ مئی کو عمران خان کا جلسہ ہوگا اور بارہ مئی کو کراچی کے لوگ اس حوالے سے بھی یاد رکھتے ہیں کہ اس دن کراچی کے لوگوں کے ساتھ خون کی ہولی کھیلی گئی تھی۔ جب ہائی کورٹ نے اس پر تحقیقات شروع کیں تو دس ہزار گواہ کھڑے کر دئیے کہ اس پر تفتیش نہ ہوسکے۔ کراچی پیکیج عمران خان پیش کریں گے۔ پی ٹی آئی کراچی کے صدر فردوس شمیم نقوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں یہ ذلت سمجھتا ہوں کہ میں ایک مہاجر ہوں اور مہاجروں کو مستقل قومی مصیبت سے تشبیہ دے دی گئی۔

میرے آبا و اجداد نے اپنی گردنیں کٹائیں، اپنی جائیدادیں اور جاگیریں چھوڑ کر آئے اور پاکستان کو آباد کیا۔ اردو بولنے والے اتنے ہی پاکستانی ہیں جتنا کہ کوئی سندھی، پنجابی اور بلوچی بولنے والا ہے۔ کسی بھی سیاسی لیڈر کا مہاجر قوم کو مستقل قومی مصیبت کہنا ایک قابل مذمت بات ہے۔ یہی فاروق ستار اور عامر خان جنہوں نے کہا کہ ہم سے ماضی میں غلطیاں ہوئی ہیں، آج پھر ٹنکی گرانڈ میں جلسہ ہورہا ہے اور وہ پھر تعصب کی سیاست کرنے لگے۔

انہوں نے جاگ کراچی کی بجائے جاگ مہاجر کا نعرہ لگایا۔ آپ متحدہ قومی موومنٹ نہیں بلکہ آپ مہاجر قومی موومنٹ ہیں۔ اگر آپ مہاجر نہیں بلکہ متحدہ ہیں تو آپ نے جاگ مہاجر کا نعرہ کیوں لگایا۔ یہ واقعات اتنے شدید تھے کہ ہم نے چیئرمین عمران خان کو کراچی آنے کی دعوت دی اور کہا کہ کراچی کے خلاف سازش ہو رہی ہے۔ آپ کا آنا ضروری ہے۔ چیئرمین عمران خان نے اس کا مثبت جواب دیا اور وہ آرہے ہیں۔

بارہ مئی کو چیئرمین عمران خان آئیں گے اور اس شہر میں جو امن آیا ہے، ہم اس کا جشن منائیں گے۔ ہمارا پیغام ایک قوم اور ایک نظام کا پیغام ہے۔ ہمارا دوسرا پیغام یہ ہے کہ کراچی کو قومی دھارے میں لانا ہے۔ کراچی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ یہاں حالات کشیدہ ہونے سے لوگ بے روزگار ہوتے ہیں، لاشیں گرتی ہیں اور خاندان کے خاندان تباہ ہوجاتے ہیں۔

آئندہ ہم یہ دور نہیں آنے دیں گے۔ پاکستان میں امن کا راج ہوگا۔ جلسے میں عمران خان شاندار تقریر کریں گے، کراچی پیکیج دیں گے، مختلف پارٹی رہنما تقریر کریں گے، آرٹسٹ پرفارم کریں گے ،لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی اور آتش بازی ہوگی۔ایم این اے ڈاکٹر رمیش کمار کا کہنا تھا کہ کراچی کے عوام یہ سمجھ چکے ہیں کہ تبدیلی کا وقت آچکا ہے۔ ہم کراچی میں رہنے والے مختلف کمیونٹی کے لوگوں کو تقسیم نہیں کریں گے۔

قائد اعظم بھی تعصب کے خلاف تھے اور ملک کو ایک دیکھنا چاہتے تھے اور چیئرمین عمران خان نے بھی دو نہیں ایک پاکستان کا نعرہ دیا ہے۔ کراچی سے آغاز ہوگا تو ہم آگے سندھ تک جائیں گے ۔ پورے سندھ کا مقدر کراچی سے وابستہ ہے۔ کراچی کے عوام کو عمران خان کا ساتھ دینا چاہئے۔ لوگ زبردستی بھی جلسے کر رہے ہیں لیکن ہم اس پر یقین نہیں رکھتے۔ ہم تبدیلی چاہتے ہیں۔ جو لوگ الیکشن لڑنا بھی چاہتے ہیں، وہ بھی سمجھ لیں گے کہ ہمیں پی ٹی آئی کے سامنے آنے کے لیے ایک بھرپور منشور چاہئے۔ کراچی میں کچرے کا ڈھیر لگا ہے، پانی کی کمی ہے، یہ سب نہیں چاہئے۔ کراچی کے عوام کو تبدیلی کے لیے خود آگے بڑھنا چاہیے۔