سینیٹ میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان کی وزیر داخلہ احسن اقبال پر حملے کی شدید مذمت

حملہ جمہوریت پر حملے کے مترادف ہے‘ پوری قوم اس حملے کے خلاف متحد ہے‘ یہ حملہ افراتفری پیدا کرکے الیکشن ملتوی کرانے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے‘ چیف جسٹس سکیورٹی کے حوالے سے اپنے احکامات پر نظرثانی کریں‘ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و بربریت اپنی انتہا کو پہنچ سکی ہے‘ ہمیں اپنی خارجہ پالیسی کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے سینیٹ کے اجلاس کے دوران قائد حزب اختلاف سینیٹر شیری رحمان اور دیگر ارکان کا اظہار خیال

پیر مئی 20:05

سینیٹ میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان کی وزیر داخلہ ..
اسلام آباد۔ 07 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) سینیٹ میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان نے وزیر داخلہ پروفیسر احسن اقبال پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان پر حملہ جمہوریت پر حملے کے مترادف ہے‘ پوری قوم اس حملے کے خلاف متحد ہے‘ یہ حملہ افراتفری پیدا کرکے الیکشن ملتوی کرانے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے‘ چیف جسٹس سکیورٹی کے حوالے سے اپنے احکامات پر نظرثانی کریں‘ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و بربریت اپنی انتہا کو پہنچ سکی ہے‘ ہمیں اپنی خارجہ پالیسی کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

پیر کو ایوان بالا کے اجلاس کے دوران قائد حزب اختلاف سینیٹر شیری رحمان نے وزیر داخلہ پروفیسر احسن اقبال پر حملے پر افسوس کا اظہار اور اس کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ احسن اقبال کا جمہوریت کے حوالے سے بہت کردار ہے جس کو سراہتے ہیں۔

(جاری ہے)

وزیر داخلہ کی سکیورٹی بہتر ہونی چاہیے تھی۔ یہ الیکشن سے پہلے حملہ ماحول کو آلودہ کرنے اور خوف کی فضا پیدا کرنے کی کوشش ہے۔

سیاسی جماعتیں ایسا نہیں ہونے دیں گی۔ ہم جمہوری عمل کو آگے لے کر چلیں گے اور کسی بزدل اور چھپ کر وار کرنے والوں کو جمہوریت پر وار کی اجازت نہیں دیں گے اور کسی سیاسی رہنما پر حملہ جمہوریت پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے قراردادیں پاس ہوتی ہیں پر عمل نہیں کیا جاتا۔ سینیٹر اعظم سواتی نے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے احسن اقبال جمہوریت کے لئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔

پوری قوم ملک کے مفاد کے خلاف کام کرنے والوں کے خلاف متحد ہے۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں مظالم کی بھی مذمت کی۔ سینیٹر میاں رضا ربانی نے واقعہ کی مذمت کی اور کہا کہ احسن اقبال کا جمہوریت کے لئے اہم کردار رہا ہے۔ کچھ طاقتیں چاہتی ہیں کہ افراتفری پیدا ہو جائے او رالیکشن ملتوی ہو جائے۔ گزشتہ الیکشن میں کچھ جماعتوں کو اس طرح کی صورتحال کا سامنا تھا۔

مشتاق احمد خان نے کہا کہ احسن اقبال پر حملہ قابل مذمت ہے۔ ڈاکٹر سکندر میندھرو اور انوار الحق کاکڑ نے بھی واقعہ کی مذمت کی۔ جہانز یب جمالدینی نے کہا کہ یہ خطرناک سلسلے کی ابتداء ہے ہمیں اس کی روک تھام کے لئے مل کر سوچنا چاہیے۔ تمام غیر جمہوری قوتوں کے خلاف اس ایوان کو متحد ہونا چاہیے۔ اگر وزیر داخلہ محفوظ نہیں تو ہم میں سے کوئی محفوظ نہیں۔

سیاسی حدوں کو عبور نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں زیادتیاں ہو رہی ہیں۔ ہمیں اپنی خارجہ پالیسیوں پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ ارکان پارلیمان کی سیکیورٹی کے لئے خصوصی اقدامات کرنے چاہئیں۔ گارڈز فراہم کرنے کی بجائے سکیورٹی واپس لی جارہی ہے۔لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے کہا کہ اس کی وجوہات پر غور کرنا چاہیے کہ ایسا واقعہ کیوں ہوا۔

معاشرے میں انتہا پسندی اور عدم برداشت ہے‘ سیکیورٹی کی صورتحال بہتر ضروری ہوئی ہے لیکن ہمیں پھر بھی احتیاط کرنی چاہیے، دشمن بھی حالات کا فائدہ اٹھا سکتا ہے اور جمہوری عمل کو پٹڑی سے اتارنے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے۔ رضا ربانی کی تجویز سے اتفاق کرتا ہوں کہ ہمیں ہوش کے ناخن لینے ہوں گے اور سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر سوچنا ہوگا۔ ریاستی مفادات کو دیکھنا ہوگا‘ کشمیر کے حوالے سے خارجہ پالیسی کو بہتر بنانا ہوگا۔

بھارتی ظلم و بربریت حد سے آگے نکل گئی ہے۔ بلوچستان میں کوئلے کی کان میں حادثہ افسوسناک ہے۔ ان کی فلاح و بہبود کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ میڈیا پر بھی ذمہ داری ہے کہ نفرت پھیلانے والی تقاریر کو روکے۔ سینیٹر غوث نیازی نے کہا کہ سیاسی کارکنوں کو اس معاملے پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور ملک کی ساکھ کا خیال کرنا چاہیے۔ سوشل میڈیا پر ملک کا اچھا تشخص اجاگر کریں۔

کشمیر کے مسئلے پر زیادہ توجہ دی جائے۔ بلوچستان میں مزدوروں کی فلاح و بہبود پر توجہ دی جائے۔ سینیٹر رحمن ملک نے احسن اقبال پر حملہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک وزیر یا حکومتی رکن پر نہیں پوری قوم پر حملہ ہے۔ یہ وہ مائنڈ سیٹ ہے جس کے خلاف ہم جدوجہد کر رہے ہیں۔ غیر ملکی انٹیلی جنس ادارے مل کر پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کر سکتے ہیں۔

چیف جسٹس سکیورٹی کے حوالے سے اپنے احکامات پر نظرثانی کریں۔ جن کو پروٹیکشن کی ضرورت ہے ان کو سکیورٹی فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے مستقبل میں دہشت گردی بڑھتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ الیکشن سر پر ہیں‘ تمام سیاسی رہنمائوں کو اپنے حلقوں میں جانے اور مہم چلانے کا حق حاصل ہے۔ سیاسی معاملات پر ذاتی دشمنی نہیں بنانی چاہیے، برداشت کا مادہ ختم ہوتا جارہا ہے جو قومی المیہ ہے۔

سینیٹر دلاور خان نے کہا کہ احسن اقبال پر حملہ کی شدید مذمت کرتا ہوں اور ان کی صحت یابی کے لئے دعاگو ہوں‘ کوئٹہ میں غریب مزدوروں کے لواحقین کی مالی مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری میں کشمیر کا مسئلہ بھرپور انداز میں اجاگر کیا جائے۔ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر رانا مقبول احمد خان نے کہا کہ احسن اقبال ایک نفیس انسان ہیں۔ ان پر حملہ قابل مذمت ہے۔ مسلم ممالک کے ضمیر کو کشمیر کے معاملے پر جگایا جانا چاہیے۔