حکمرانوں کیساتھ ساتھ بیوروکریٹ بھی ریاستی وسائل کی بندربانٹ ، لوٹ کھسوٹ میں شامل ہیں ‘ قانون صرف کتابوں اور فائلوں تک محدود ہے ‘ 4441مربع میل کے اندر چند سو افراد کا راج ہے ‘آزاد کشمیر میں سکولوں کی حالت اصطبل جیسی ہے ‘ ہسپتال کھنڈرات کا منظر پیش کررہے ہیں ‘ سڑکیں آثار قدیمہ میں تبدیل ہوچکی ہیں

محمود احمد مسافر کی مظفرآباد سے اسلام آباد روانگی سے قبل میڈیا سے بات چیت

جمعرات مئی 17:30

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2018ء) آزاد کشمیر کے خدائی خدمت گار محمود احمد مسافر نے کہا ہے کہ حکمرانوں کیساتھ ساتھ بیوروکریٹ بھی ریاستی وسائل کی بندربانٹ ، لوٹ کھسوٹ میں شامل ہیں ‘ قانون صرف کتابوں اور فائلوں تک محدود ہے ‘ 4441مربع میل کے اندر چند سو افراد کا راج ہے ۔ حکمرانوں ، بیوروکریٹس کے اخباری بیانات سورج پر تھوکنے کے مترادف ہیں ۔

آزاد کشمیر میں سکولوں کی حالت اصطبل جیسی ہے ۔ ہسپتال کھنڈرات کا منظر پیش کررہے ہیں ۔ سڑکیں آثار قدیمہ میں تبدیل ہوچکی ہیں ۔ آزاد کشمیر دنیا میں واحد خطہ ہے جو قدرتی صاف پانی کا بڑا ذخیرہ ہونے کے باوجود بھی آزاد کشمیر کے عوام صاف پانی سے محروم ہیں ۔ دن بدن ہیپاٹائٹس اے ، بی سی ، سی حکمرانوں ، بیورورکریسی کی غفلت ، سستی ، لاپرواہی کیوجہ سے بڑھتا جارہا ہے کم ہونے کا نام نہیں لے رہا ۔

(جاری ہے)

جمعرات کو مظفرآباد سے اسلام آباد روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 25سال مسلسل ریاست کے اندر ریاستی عوام اور اپنے حقوق کیلئے جدوجہد کی ۔ 9سو کلو میٹر پیدل مارچ کیا ۔ درجنوں بار بھوک ہڑتال کی اور کئی بار احتجاجی کیمپ لگائے ۔ ریاست بدر ہونا پڑا اور جیل کی سیر کرنی پڑی اس کے باوجود حکمرانوں اور بیوروکریسی کو ذرا بھی ریاستی عوام پر رحم کرنے کا خیال نہ آیاپتہ نہیں کس طرح آزاد حکومت نے 20سال تک پڑھائی جانیوالی ممتاز معاشرتی علوم جماعت پنجم سکولوں میں پڑھانا بند کردی اگر ان کا بس چلتا تو اس کتاب پر بھی پابندی نہ لگاتے ۔

انہوں نے کہا کہ حکمران اور بیورکریسی کا مافیا اپنے اولادوں اور عزیزوں کو نوازنے کیلئے محکموں کے اندر محکمے بنا کر نوکریاں بانٹ رہے ہیں ۔ کوئی بھی ریاستی بیوروکریٹ ایسا نہیں جس کی ایماء پر درجن دو درجن عزیز و اقارب نہ نوازے گئے ہوں ۔ آزاد کشمیر کے ڈیڑھ اضلاع پر مشتمل رقبے کو دس اضلاع میں تقسیم کرکے بھی عوام میں تقسیم کرو کی پالیسی پر عملدرآمد کیا ہے ۔

اگر آزاد کشمیر میں احتساب نام کی کوئی چیز ہوتی تو آدھے حکمران اور بیوروکریٹ جیلوں کے مہمان ہوتے ۔ آڈٹ رپورٹیں چیخ چیخ کر کہتی ہیں کہ یہاں لوٹ سیل کا میلا لگا ہوا ہے لیکن کوئی بھی کارروائی کرنے کیلئے تیار نہیں صرف اپنی تجوریاں بھرنے کیلئے دن رات ایک کئے جارہے ہیں ۔ احتساب بیورو یہاں مذاق بیورو کے نام سے اپنی شناخت کروا چکا ہے ۔

تسلیم ہونیوالی لوٹ کھسوٹ پر بارگینگ کے نام پر قومی دولت لوٹنے والوں کو چھوٹ دینا لمحہ فکری ہے ۔ جمہوریت کی علمبردار ریاست میں اگر آنیوالی نسلوں کیلئے کچھ کرنے کا نام لیا جائے تو اسے گناہ کبیرہ سمجھ کر نام لینے والوں کو سزائیں دی جاتی ہیں۔ حکمران اور بیوروکریسی پاکستان کی سلامتی اور ریاستی عوام کی بنیادی ضروریات مہیا کرنے کے بجائے اپنی تجوریاں بھرنے میں مصروف ہیں یہ رویہ اب برداشت نہیں کیا جائیگا۔