میرواعظ عمرفاروق نظر بند،نماز جمعہ پر پابندی جامع مسجد سرینگر مکمل بند

حریت رہنما نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کیخلاف احتجاج میں شرکت کرنا تھا

جمعہ مئی 18:39

سری نگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس نے حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق کو گھر میں نظر بند کردیا۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق حریت قیادت نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف آج احتجاج کا اعلان کر رکھا تھا اور میر واعظ عمر فاروق کو سری نگر کی جامع مسجد میں خطاب کے بعد احتجاج میں شرکت کرنا تھا۔قابض پولیس نے حریت قیادت کی جانب سے احتجاج کی کال کو ناکام بنانے کے لیے میر واعظ عمر فاروق کو نماز جمعہ کے اجتماع سے روکتے ہوئے گھر میں ہی نظربند کردیا۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ بھارتی فورسز کی جانب سے بڑھتے مظالم اور حالیہ چند روز کے دوران درجنوں نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کرنے کے خلاف مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے ہڑتال کی کال دی گئی تھی۔ذرائع کے مطابق مرکزی جامع مسجد ایک بار پھر مقفل کردی ، نماز جمعہ کی ادائیگی پر بھی پابندی لگادی۔، نظربندی ، قدغنیں اور بندشوں کا اطلاق جاری۔میرواعظ عمر فاروق نے اپنے ٹوئٹر بیان میں کہا کہ ا?ج سانحہ شوپیاں کے شہدا کا غائبانہ نماز جنازہ اور اہالیان شوپیاں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا پروگرام تھا، بزور طاقت دبانے کا عمل ہمارے جذبوں اور عزم کو اتنی ہی شدت کے ساتھ ابھارے گا۔