12 مئی وکلا برادری اور کراچی کے شہریوں کے لیے تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے،حافظ نعیم الرحمن

سانحہ 12 مئی 2004 اور 2007 سمیت دیگر واقعات میں ملوث قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے، اظہار یکجہتی کیمپ سے خطاب

ہفتہ مئی 22:38

12 مئی وکلا برادری اور کراچی کے شہریوں کے لیے تاریخ کا سیاہ ترین باب ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2018ء) امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ 12 مئی وکلا برادری اور کراچی کے شہریوں کے لیے تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے جب ایم کیو ایم نے مشرف کی سرپرستی میں شہر قائد میں بے گناہ لوگوں کے خون سے ہولی کھیلی تھی ،جنرل مشرف نے کراچی کے قتل عام کو طاقت کا مظاہرہ قرار دیا تھا ،بدقسمتی سے آئین وقانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی کی جنگ میں اپنی جان قربان کرنے والے آج بھی انصاف سے محروم ہیں ، اس جدوجہد میں وکلا سمیت دیگر شہید ہونے والوں کے لواحقین تاحال انصاف کے منتظر ہیں ،شہداء کے لواحقین اور ورثاء چیف جسٹس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے سوال کرتے ہیں کہ انہیں انصاف کب ملے گا ، ہم چیف جسٹس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سانحہ 12 مئی میں ملوث تمام عناصر کے خلاف نوٹس لیں اورسانحہ 12 مئی 2004 اور 2007 ، سانحہ نشتر پارک سمیت دیگر واقعات میں ملوث قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ججزز کی بحالی ، عدلیہ کی آزادی کی جدوجہد ، 12 مئی کے شہداء کے لواحقین اور وکلاء سے اظہار یکجہتی اور شہداء کے قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف سٹی کورٹ کے باہر اظہار یکجہتی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر امیر ضلع جنوبی عبدالرشید ، اسلامک لائرز موومنٹ کراچی کے صدر شاہد علی خان اور دیگر نے بھی خطاب کیا ،کیمپ پر سانحہ 12مئی کے حوالے سے علامتی جنازے بھی رکھے گئے تھے ۔

اس موقع پرجماعت اسلامی ضلع جنوبی کے جنرل سکریٹری سفیان دلاور ، ول فورم کی رہنما مسز شوکت ایڈوکیٹ ، عبد الصمد خٹک ، باسط علی ، اختر حسین ، جاوید اسرار بخاری، سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری سمیت دیگر وکلاء رہنما نے بڑی تعداد میں موجود تھے ۔حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ NA246کے ضمنی انتخابات میں ایم کیو ایم کے غنڈہ گردوں نے جماعت اسلامی کے کارکنان کو شہید کیا تھا لیکن ہم نے خراب حالات میں بھی کراچی کی عوام کا ساتھ نہیں چھوڑا اور ان حالات میں بھی جماعت اسلامی نے عوامی مسائل پر ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کی حکومت کے عوام دشمن اقدامات کے خلاف آواز اٹھائی ۔

انہوں نے مزید کہا کہ سانحہ بارہ مئی سمیت دیگر تمام بڑے سانحات کو نظرانداز کر کے دہشت گردی کو فروغ دیا جارہا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ 12مئی 2007 اور 2004کے المناک واقعات پر کراچی میں سیاسی جماعتوں کے جلسے و جلوس 56 سے زائد افراد کے قاتلوں اور سانحے کے ذمہ داروں کے ساتھ اقتدار میں رہنے والوں نے شہداء کی یاد منانا شہداء کے نام پر سیاست کے مترادف ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ 2008 سے لیکر آج تک اقتدار میں رہنے والی پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم کو اپنے ساتھ اقتدار میں شامل کرکے گزشتہ 8 برس کراچی میں ایم کیو ایم کی دہشت گردی اور قتل و غارت گری کو سیاسی اور حکومتی تحفظ دیا پیپلز پارٹی آج کس منہ سے سانحہ 12مئی کے شہداء کی بات کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے جلسے صرف اور صرف اقتدار کی جنگ ہیں اور شہر پر قبضہ کر نے کی کوشش کی جا رہی ہے ، پیپلز پارٹی نے آج تک اس سانحے کی تحقیقات کیوں نہیں کرائی اور 56 سے زائد شہدا اور دہشتگردوں کو سزائیں کیوں نہیں دلوائیں ۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ سانحہ 12 مئی کے موقع پر وزیر داخلہ وسیم اختر شہر کو امن کا گہوارہ بنانے کے بجائے مشرف کے دہشتگرد ونگ ایم کیو ایم کی سپورٹ کر رہے تھے ، وہ بھی 12 مئی کے مجرموں کو تحفظ فراہم کرنے میں برابر کے شریک تھے ، ایم کیو ایم نے 12 مئی کو کراچی میں خون کی ہولی کھیلی ، میڈیا ہائوس ، وکلاء کا قتل عام اور خواتین وکلاء تک کا خیال نہ کیا ۔

انہوں نے مزید کہا کہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے عدلیہ کی بحالی کے بعد سانحہ 12 مئی کے شہداء اور وکلاء برادری کی قربانیوں کو فراموش کر دیا ، جبکہ12 مئی کو ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں نہتے لوگوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا گیا ، لیکن افسوس کہ افتخار چوہدری نے اعلیٰ عدلیہ کی بحالی اور قانون کی حکمرانی کیلئے شہادتیں پیش کرنے والوں کو انصاف فراہم کرنے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے ۔

عبد الرشید نے کہا کہ 12 مئی کو شہید ہونے والے 56 شہداء عدلیہ کی آزادی اور وقار کے لئے شہید ہوئے تھے ، عدلیہ کے وقار کو زندہ رکھنے والے شہداء آج انصاف کے منتظر ہیں ، آج 10 سال گزرنے کے باوجود بھی شہداء کے ورثاء انصاف کے منتظر ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ وکلاء نے عدلیہ کی آزادی کے لئے بہت جدوجہد کی ، ان کا کردار قابل ستائش ہے ، جماعت اسلامی ہمیشہ عدلیہ کی آزادی اوران کے مسائل پر ساتھ دیا ہے اور دیتی رہے گی ۔

شاہد علی خان نے کہا کہ 12 مئی کے شہداء سے اظہار یکجہتی کیلئے جماعت اسلامی کی جانب سے احتجاجی کیمپ لگانا قابل ستائش ہے، وکلا عوام کے مسائل پر آواز اٹھاتے ہیں، لیکن ہمارے مسائل پر جماعت اسلامی نے آواز اٹھا کر قانون دوستی کا ثبوت دیا ہے ، جماعت اسلامی کی جانب سے کے الیکٹرک اور نادرا سمیت دیگر عوامی مسائل پر جدوجہد کے باعث ہی کراچی کی عوام کو کچھ ریلیف ملا ہے ، جماعت اسلامی نے کراچی کے شہریوں کے مسائل کی ترجمانی کی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں اسلامی حکومت قائم نہیں ہے ، یہ ملک اسلام کے نام پر وجود میں آیا تھا ،ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک اسلامی اور خوشحال پاکستان کے لیے ہمیں جماعت اسلامی کی جدوجہد میں شامل ہونا ہوگا ۔