مقبوضہ کشمیر‘ ساتھی وکیل کی گرفتاری کے خلاف ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکلاء کاعدالتی بائیکاٹ

بدھ مئی 13:08

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر میں ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن سے وابستہ دکلاء نے اپنے ساتھی وکیل کی گرفتاری کے خلاف عدالتوں کا بائیکاٹ کیاہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری جی این شاہین نے سرینگر میں صحافیوں کو بتایا کہ شبیر احمد بخاری کو آئی جی پی کشمیر نے 12مئی کو ٹیلیفون پر کال کرکے ان کے سامنے پیش ہونے کے لیے کہااور مذکورہ وکیل نے رضاکارانہ طور پر خود کو پولیس حکام کے سامنے پیش کیاجب سے اس کاکوئی اتہ پتہ نہیں ہے۔

انہوںنے کہا وکلاء ان کی فوری رہائی کے لیے احتجاج کرنے پر مجبور ہوئے۔ انہوںنے شبیراحمد بخاری کی گرفتاری کو غیر ضروری ،غیر قانونی اور عدلیہ اور وکلاء پر حملہ قراردیاہے۔ انہوں نے کہاکہ بخاری انسانی حقوق کے کارکن ہیں اور ان کی گرفتاری عدلیہ کی آزادی پر حملہ اورپیشہ ورارنہ فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش ہے۔

(جاری ہے)

بار ایسوسی ایشن نے بھارتی فورسز کی طرف سے اسلامی یونیورسٹی آف سائنس و ٹیکنالوجی اونتی پورہ کے طلباء پر بار بار حملوں اور جارحیت کی بھی مذمت کی۔

بار ایسوسی ایشن بڈگام نے بھی احتجاج کی حمایت کی ہے۔ دریںا ثناء جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے سرینگر میں جاری ایک بیان میںشبیر احمد بخاری کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے اسے افسوسناک قراردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شبیر احمد بخاری کو پولیس نے بلاکر جیل میں ڈال دیا ہے۔