بے نظیر بھٹو کے قتل کے بارے اقوام متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کو جاری کیا جائے,

جب تک نظریاتی جیالے اور کارکن پارٹی کے ساتھ نہیں چلیں گے پیپلز پارٹی کھویا ہوا مقام نہیں حاصل کر سکتی، آئندہ انتخابات میں پنجاب اور سندھ میں پیپلز پارٹی کو اپنی ساکھ بچانے کیلئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا پاکستان پیپلز پارٹی ورکرز کے رہنما ناہید خان اور ڈاکٹر صفدر عباسی کی اے پی پی سے بات چیت

جمعہ مئی 16:34

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 مئی2018ء) پاکستان پیپلز پارٹی ورکرز کے رہنما ناہید خان اور ڈاکٹر صفدر عباسی نے مطالبہ کیا ہے کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کے بارے اقوام متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کو جاری کیا جائے، بلاول بھٹو اپنی ماں کی روایات کا امین نہیں ہے، جب تک نظریاتی جیالے اور کارکن پارٹی کے ساتھ نہیں چلیں گے پیپلز پارٹی کھویا ہوا مقام نہیں حاصل کر سکتی، آئندہ انتخابات میں پنجاب اور سندھ میں پیپلز پارٹی کو اپنی ساکھ بچانے کیلئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔

’’اے پی پی‘‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے بے نظیر بھٹو کے ساتھ بہت وقت گزارا، بلاول سمیت تمام بچے میرے ہاتھوں میں پلے بڑھے مگر مجھے افسوس ہے کہ بلاول اپنی والدہ کی روایات کی پاسداری میں مکمل ناکام رہا ہے، ڈاکٹر صفدر عباسی کی والدہ نے اپنی ساری زندگی پارٹی کی خدمات کیلئے وقف رکھی مگر بلاول اور اس کی فیملی میں سے کسی کو تعزیت کیلئے صفدر عباسی کے پاس آنے کی توفیق نہیں ہوئی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے جائے وقوعہ سے تمام ثبوتوں کو فوری طور پر مٹائے جانے کا مقصد یہی تھی کہ اصل قاتلوں اور سازشیوں کو بچایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر کے قاتلوں پر اقوام متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم نے بڑی محنت کی، اس رپورٹ میں بہت ساری چیزوں کو بے نقاب کیا گیا ہے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس رپورٹ کو منظر عام پر لایا جائے۔

ڈاکٹر صفدر عباسی نے کہا کہ پیپلز پارٹی اب قومی جماعت نہیں رہی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کا کلین سویپ ہو چکا ہے، اب سندھ سمیت ملک کے دوسرے حصوں میں بھی پارٹی کو اپنی ساکھ بچانے کیلئے بڑے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے نظریاتی پارٹی لیڈروں اور کارکنوں سے رابطہ کرکے نئی پارٹی کی بنیاد رکھی مگر مجھے افسوس ہے کہ اعتزاز احسن،، نیئر بخاری، قائم علی شاہ سمیت دیگر کئی رہنمائوں نے ساتھ نہیں دیا، ہمیں پارٹی میں اس لئے نہیں رہنے دیا گیا کہ ہم اس کے بنیادی منشور اور نکات پر نکتہ اعتراض بیان کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست مہنگی ہو چکی ہے، بڑے بڑے جلسے کرنے کیلئے بڑی بڑی رقوم کی ضرورت ہے جو ہمارے پاس نہیں۔