عمران خان اور طاہر القادری دھرنا دینے کے لیے کیسے یکجا ہوئے؛ نواز شریف نے اہم رازوں سے پردہ اٹھا دیا

مجھے ایسے پیغامات ملے کہ مشرف پر مقدمہ قائم کرنے سے شاید اس کا تو کچھ نہ بگڑے لیکن آپ کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں، دھرنے کے دوران انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ کا پیغام مجھ پر پہنچا یا گیا کہ میں مستعفی ہو جاو،نواز شریف کی پریس کانفرس

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان بدھ مئی 14:51

عمران خان اور طاہر القادری دھرنا دینے کے لیے کیسے یکجا ہوئے؛ نواز شریف ..
اسلام آباد(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔23مئی 2018ء) سابق وزیراعظم نواز شریف اور قائد ن لیگ نے پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو بیان میں نے آج عدالت میں دیا وہ آپ کے سامنے بھی سنانا چاہتا ہوں ۔یہ بات ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کے میرے خلاف مقدمات کیوں بنائے گے۔ میں اپنے خلاف کیسز کا پس منظر بتانا چاہتا ہوں۔12اکتوبر کو پرویز مشرف نامی جرنیل نے آئین سے بغاوت کرتے ہوئے اقتدار پر قبضہ جما لیا۔

ہر دور میں آمروں کو خوش آمدید کہنے والے مصنفوں نے آگے بڑھ کر استقبال کیا۔اور اسکے ہاتھ پر بیعت لی۔8سال بعد 3 نومبر 2007کو اس نے ایک بار پھر آئین توڑ کر ایمر جنسی کے نام پر مارشل لاء نافذ کیا۔ایک جمہوری جماعت کی حیثیت سے مسلم لیگ ن نے مشرف کے غیر آئینی اقدامات سے متعلق واضح موقف اپنایا۔

(جاری ہے)

میں نے مشرف کے دوسرے مارشل لاءکو پارلیمانی توثیق دینے سے انکار کیا۔

مجھے مشورہ دیا گیا کہ اس بھاری پتھر کو اٹھانے کا ارداہ ترک کر دو۔مجھے ایسے پیغامات ملے کہ مشرف پر مقدمہ قائم کرنے سے شاید اس کا تو کچھ نہ بگڑے لیکن آپ کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔اس سے پہلے ایک بار سابق صدر آصف علی زاردی اور ایک اہم قومی سیاسی رہنما میرے پاس آئے،اور کہا کہ ہمیں پارلیمنٹ کے زریعے مشرف کے دوسرے مارشل لاء کے اقدام کی توثیق کر دینی چاہئیے۔

زرداری نے مجھے سمجھانے کی کوشش کی کہ مصلحت کا تقاضا یہی ہے۔لیکن میں نے کہا کہ ہم 65 سالوں سے ایسی مصلحتوں سے کام لے رہے ہیں۔انہی مصلحتوں نے جمہوریت کو کمزور کر دیا ہے۔2013 کے آخر میں جب غداری کا مقدمہ درج ہو رہا تھا تو مجھے اس بات کا اندازہ تھا کہ ایک ڈکٹیر کو عدالت کے کٹہرے میں لانا آسان کام نہیں ہے۔۔نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ میری ملاقات بنی گالا میں عمران خان سے ہوئی تھی جو کہ ایک خوشگوار ملاقات تھی۔

لیکن اس ملاقات میں عمران خان نے دھرنے کا کوئی اشارہ نہ دیا۔لیکن پھر مشرف کے مقدمے میں تیزی آئی اور اس کے بعد اچانک طاہر القادری اور عمران خان کی ملاقات ہوئی۔جس کے بعد انہوں نے دھاندلی کو موضوع بنا کر دھرنا دینے کا فیصلہ کر لیا۔یہ دھرنا 4 ماہ جاری رہا۔ان دھرنوں میں جو بھی ہوا وہ قوم کے سامنے ہے۔۔عمران خان اور طاہر القادری کا مشترکہ مطالبہ تھا کہ وزیراعظم مستعفی ہو جائیں۔

عمران خان اور طاہر القادری کیسے یکجا ہوئے۔کس نے ان کے منہ میں وزیر اعظم کے استعفی کا مطالبہ ڈالا اور کون ان کی چار ماہ تک حوصلہ افزائی کرتا رہا۔یہ باتیں اب ڈھکی چھپی نہیں رہی۔۔عمران خان خود کھلم کھلا یہ اعلان کرتے رہے کہ بس ایمپائر کی انگلی اٹھنے والی ہے۔کون تھا وہ ایمپائر؟ وہ جو کوئی بھی تھا اس کی مکمل پشت پناہی ان دھرنوں کو حاصل تھی،ان دھرنوں میں پارلیمنٹ ہاؤس،پریزیڈنٹ ہاؤس،پی ٹی وی یہاں تک کہ کھ بھی ان عناصر سے محفوظ نہ رہا،اس تماشے سے ملک کو بہت نقصان پہنچا۔

ان دنوں اعلان کیا گیا کہ وزیر اعظم کے گلے میں رسی ڈال کر باہر کھینچ کر لائیں گے۔دھرنوں کے زریعے مجھ پر لشکر کشی کر کے مجھے یہ پیغام دینا مقصود تھا کہ مشرف پر غداری کا مقدمہ درج کر کے نتائج اچھے نہ ہوں گے۔انہی دنوں ایک انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ کا پیغام مجھ پر پہنچا یا گیا کہ میں مستعفی ہو جاوں۔اس پیغام سے مجھے بے حد دکھ پہنچا۔مجھے رنج ہوا کہ پاکستان کس حاال تک پہنچ گیا ہے۔

میں اپنی فوج کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔میں جانتا ہوں کہ فوج کی کمزوری کا مطلب ہے کہ ملکی دفاع کا کمزوری۔میں نے فوج کی پیشہ وارانہ استعداد میں اضافے کو ہمشیہ اہمیت دی۔میرے دور میں دفاعی بجٹ میں یقینی اضافی کیا گیا۔اور 1998میں بھارت کے ایٹمی دھماکوں کا دو ٹوک جواب دینے کے لیے میں نے چند گھنٹوں کی بھی تاخیر نہیں کی۔مجھے یقین تھا کہ اگر ہم نے اپنی ایٹمی قوت کا کھلا اظہار نہ کیا تو شاید اس کا آئیندہ موقع نہ ملے۔مجھے اس بات میں بھی کوئی شک نہیں تھا کہ خطے میں شدید عدم عدم توازن قائم ہو جائے گا۔۔بھارت کی بالادستی قائم ہو جائے گیاور پاکستان سر اٹھا کرکھڑا نہ ہو سکے گا۔