مسئلہ کشمیر کو ٹھوس اور موثر حکمت عملی کے سا تھ عالمی سطح پر اجاگر کرنے کیلئے ضرورت ہے ‘

اس مقصد کیلئے ہر طبقہ فکر کو گروہی اور فروعی اختلافات میں الجھنے کی بجائے قومی سوچ و یکجہتی سے اپنا اپنا کرادار ادا کرنا ہو گا جموں وکشمیر تحریک حق خودارادیت انٹرنیشنل کے چیئرمین راجہ نجابت حسین کی بات چیت

منگل مئی 18:34

چکسواری(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) جموں وکشمیر تحریک حق خودارادیت انٹرنیشنل کے چیئرمین راجہ نجابت حسین نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو ٹھوس اور موثر حکمت عملی کے سا تھ عالمی سطح پر اجاگر کرنے کیلئے ضرورت ہے اس مقصد کیلئے ہر طبقہ فکر کو گروہی اور فروعی اختلافات میں الجھنے کی بجائے قومی سوچ و یکجہتی سے اپنا اپنا کرادار ادا کرنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی و دینی جماعتیں اور ان کے قائدین قابل احترام ہیں۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں حریت قیادت اور باالخصوص نوجوان آج تحریک آزادی کشمیر کے لئے ایک نئے عزم و ولولے سے جدو جہد جاری رکھے ہوئے ہیں اور ہر روز اس تحریک میں اپنا مقدس خون شامل کر رہے ہیں۔آزاد کشمیر کی قومی قیادت کو بھی آزادی کے اس بیس کیمپ میں جدو جہد آزادی اور خطے کی تعمیر و ترقی کیلئے اپنا کردار مکمل اتحاد و یکجہتی سے ادا کرنا ہو گا۔

(جاری ہے)

وہ یہاں مرکزی سنی علماء مشائخ کونسل کے چیف پیٹرن علامہ عبد الخالق نقشبندی ، اور چیئرمین مرکزی سنی علماء مشائخ کونسل مفتی محمد وسیم رضا کی طرف سے افطار ڈنر میں بات چیت کر رہے تھے ۔ افطار ڈنر میں جموں وکشمیر لبریشن سیل حکومت آزاد کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل فدا حسین کیانی کے علاوہ معروف صحافی ، چیف ایڈیٹر صدائے چنار محمد امجد چوہدری ، علامہ پروفیسر معروف الرشید، راجہ ساجد محمود کنٹری کوارڈینیٹر (JKSDMI)،فاروق چوہدری ،غلام مرتضیٰ اتاری، حاجی محمد اقبال ،چوہدری عبد المنان، چوہدری ظفر اقبال ، ندیم روپیال ، شبیر حسین چوہدری نے شرکت کی ۔

راجہ نجابت حسین نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ممالک جتنی بھی تنظیمیں کشمیر کاز کے لئے متحرک ہیں ان سب کا ایک بنیادی نکتہ پرمکمل اتفاق ہے کہ ڈیڑھ کروڑ سے زائد کشمیریوں کی جدو جہد اپنے اس بنیادی حق خودارادیت کیلئے ہے جس سے عالمی قوتوں نے اقوام متحدہ کے فورم پر تسلیم کر رکھا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان کی تنظیم جموں وکشمیر تحریک حق خودارادیت انٹرنیشنل برطانیہ کے علاوہ یورپی ممالک میں منظم طریقے کام کر رہی ہے ، برطانوی اور یورپی پارلیمنٹ کے ممبران کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ تحریک کے رابطے اور مسئلہ کشمیر کے لئے کام میں ہم آہنگی موجود ہے ۔

تحریک حق خودارادیت کی کوششوں سے برطانوی پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر پر ماضی میں بحث ہو چکی ہے اور مسقتبل قریب میں ایک اور بحث کے لئے ہم اراکین پارلیمنٹ سے رابطے میں ہیں ۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل جموں وکشمیر لبریشن سیل حکومت آزاد کشمیر فدا حسین کیانی نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں روزانہ کی بنیاد پر مظاہرے ، شٹر ڈائون ، گرفتاریاں اور نوجوان ، طلبہ ، طالبات ، معصوم بچوں کی قربانیاں اس بات کا واضح اعلان ہیں کہ کشمیریوں نے اپنی جدو جہد کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستانی فورسز نے جبر و تشدد کا ہر حربہ آزما لیا ہے ۔فدا کیانی نے کہا کہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں انسانی حقوق کے علمبرداروں کے لئے چیلنج ہیں ، اور انہیں یہ بات معلوم ہونی چاہے کہ خطے کے اندر امن کے تمام راستے کشمیر سے ہو کر گزرتے ہیں۔جب تک کشمیریوں کو اپنا بنیادی حق نہیں مل جاتا خطے کے اندر پائیدار امن کا کوئی تصور نہیں ہو سکتا۔

تقریب کے میزبان چیف پیٹرن مرکزی سنی علماء مشائخ کونسل علامہ عبد الخالق نقشبندی ، اور چیئرمین مرکزی سنی علماء مشائخ کونسل مفتی محمد وسیم رضانے اس موقع پر راجہ نجابت حسین کی برطانیہ اور یورپی ممالک میں مسئلہ کشمیر کیلئے کی جانے والی کاوشوں کو سراہتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا ۔