جماعت اسلامی کی طرف سے کشمیری نظربندوں کی فوری رہائی کا مطالبہ

بھارت اپنے اٴْن تمام وعدوں کے ساتھ وفا کرنے میںبری طرح ناکام رہا ہے جو اسکے حکمرانوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کئے تھے

بدھ مئی 14:08

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر نے وادی کشمیر اور بھارت کی جیلوںمیں غیر قانونی طورپر نظربندکشمیریوںکے ساتھ اظہا ر یکجہتی کرتے ہوئے تمام سیاسی نظربندوں کی فوری غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق جماعت اسلامی کے ترجمان ایڈوکیٹ زاہد علی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ کشمیری نظربندوں کی نظربندی کو صرف اس لئے طول دیا جارہا ہے کیونکہ وہ کشمیری عوام کی خواہشات کی ترجمانی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں جو ’حق خودارادیت‘جیسے مسلمہ حق سے صدیوں سے محروم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت اپنے اٴْن تمام وعدوں کے ساتھ وفا کرنے میںبری طرح ناکام رہا ہے جو اسکے حکمرانوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کئے تھے اور آج بھی نہتے کشمیریوں کو اپنا حق خوارادیت مانگنے پر بدترین ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ جو بھی کشمیری اپنے بنیادی حق ’حق خودارادیت‘ کی بازیابی کا مطالبہ کرتا ہے یا تو اٴْسے ملک دشمن تصور کیا جاتا ہے اورہر اٴْٹھنے والی آواز کو پابند سلاسل کردیا جاتا ہے۔

ترجمان نے کہاکہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کا مطالبہ کرنے پر قابض انتظامیہ نے حریت رہنمائوں مسرت عالم بٹ، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، ڈاکٹر محمد شفیع شریعتی، مقصود احمد بٹ، محمد امین ڈار، غلام قادر بٹ، محمد ایوب ڈار، نذیر احمد شیخ،محمد امین وانی، محمد اسحاق پالہ، مشتاق احمد ملہ، شبیر احمد بٹ، عبدالاحد نائیک، منظور احمد بٹ، ناصر مرزا،لطیف احمد وازہ، نثار احمد گنائی اور رئیس احمد میر کو مسلسل غیر قانونی طورپر نظربند کر رکھا ہے جبکہ جماعت اسلامی کے رہنماء بشیر احمد لون اورگلزار احمد شال بھی مسلسل غیر قانونی طورپر نظربند ہیں ۔

انہوںنے کہاکہ حریت رہنماء شبیر احمد شاہ، الطاف احمد شاہ، شاہد الاسلام، ایاز اکبر، معراج الدین کلوال اورپیر سیف اللہ بھی عوامی خواہشات کی ترجمانی کرنے پر مسلسل غیر قانونی طورپر نظربند ہیں۔ جماعت اسلامی نے تمام سیاسی نظربندوں کو فوری رہا ئی کا مطالبہ کرتے ہوئے جیلوں میں کشمیری نظربندوں کو تمام بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ۔