کراچی سے گلگت اور گوادر سے پشاور تک ہر شخص کہے گا کہ آج پاکستان ماضی کے مقابلے میں بہتر ہے،

لوڈشیڈنگ اور دہشت گردی پر مکمل کنٹرول ہے، ہم نے دہشت گردی کی کمر توڑ دی اور اب نفرت کی کمر توڑنے کی ضرورت ہے، پولیس کی بھرتی کا معیار بہتر کیا جا رہا ہے اور پولیس جوانوں کو اینٹی رائٹ اور کاؤنٹر ٹیرارزم فورس کی تربیت دی جارہی ہے وفاقی وزیر داخلہ پروفیسر احسن اقبال کا سٹیزن چارٹر لانچنگ کی تقریب سے خطاب

جمعرات مئی 17:12

کراچی سے گلگت اور گوادر سے پشاور تک ہر شخص کہے گا کہ آج پاکستان ماضی ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مئی2018ء) وفاقی وزیر داخلہ پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت کے آخری روز بتا دوں کراچی سے گلگت اور گوادر سے پشاور تک ہر شخص کہے گا کہ آج پاکستان ماضی کے مقابلے میں بہتر ہے، لوڈشیڈنگ اور دہشت گردی پر مکمل کنٹرول ہے، ہم نے دہشت گردی کی کمر توڑ دی اور اب نفرت کی کمر توڑنے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سٹیزن چارٹر لانچنگ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ آج کوئی بھی شخص دیانتداری سے رائے دے گا کہ پاکستان 2013ء کے مقابلے میں بہت بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کوشیش کر کے اس ملک کے بڑے بڑے مسائل کو حل کر دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جہاں 18سے 20گھنٹے بجلی نہیں آتی تھی وہاں اب 18سے 20گھنٹے بجلی آنا شروع ہو گئی ہے ،انہوں نے کہا کہ ماضی میں کراچی میں روزانہ کی بنیاد پر پانچ چھ لوگ جان کی بازی ہار جاتے تھے لیکن اب اللہ کے شکر سے ایسا نہیں ہے، ہم نے دہشت گردی کی کمر توڑ دی ہے ۔

(جاری ہے)

پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ ہمیں نفرت کے رویئے کو ختم کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے ہم سب کو مل کر کام کرنا چاہیئے ۔انہوں نے کہا کہ چھ مئی کو ایک ایسے شخص نے جسے نفرت نے اندھا کر دیا تھا، اس کو جو بیانیہ دیا گیا اس نے اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو ختم کر دیا تھا، اس نے ختم نبوت کے نام پر مجھ پر قاتلانہ حملہ کیا اور یہ سوچنے کی اس میں صلاحیت نہیں کہ جس شخص پر وہ گولی چلا رہا ہے اللہ تعالی کے فضل سے اس کی رگوں میں اس باپ کا خون دوڑ رہا ہے جس کو نبی آخر زمان حضرت محمد ﷺ نے اپنے ہمسائے جنت البقیع میں جگہ دی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اچھی کارکردگی دکھانے والے افسران کو انعام ملنے چاہئیں جبکہ بری کارکردگی والوں کو سزا بھی ملنی چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ زمانے کے ساتھ نہ چلنے والے پیچھے رہ جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سٹیزن چارٹر شہریوں کو فراہم کر رہا ہے ہم اسلام آباد کو ماڈل شہر بنائیں گے اور بجٹ کا زیادہ تر حصہ اسلام آباد میں سہولیات کی فراہمی پر خرچ کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ پولیس کی بھرتی کا معیار بہتر کیا جا رہا ہے اورپولیس جوانوں کو اینٹی رائٹ اور کاؤنٹر ٹیرارزم فورس کی تربیت دی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پولیس کیلئے الگ ہسپتال قائم کیا جائے گا اور سول انتظامیہ کی رہائشی سہولیات دی جائیں گی ۔انہوں نے کہا کہ ڈھائی ارب کی لاگت سے ٹرانسپورٹ منصوبہ کیلئے رکھے گئے ہیں اور ساڑھے تین ارب کی لاگت سے پینے کا صاف پانی فراہم کیا جائے گا جبکہ ساٹھ کروڑ سے پانی کے زیر زمین پائپ ڈالے جائیں گے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ چڑیا گھر کیلے 20 کروڑ اور پارکوں کیلئے بھی رقم مختص کی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار اتنی ترقی ہوئی ہے، اسلام آباد کو ٹورسٹ کیلئے بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سول اور پولیس کے اداروں میں محنتی افراد کو ایوارڈ ملنے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا فرض ہے لوگوں کی خدمت کرے اور عوام کو بھی حرام اور حلال میں فرق کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔

انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اور عدلیہ کا فرض ہے کہ مل کر ملک کیلئے کام کریں، عدالتی اور نیب کے نوٹسز کے باعث کوئی افسر کام کرنے کو تیار نہیں ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ ملک کا انتظامی پہیہ جام کر دینے سے ہم دنیا کا مقابلہ نہیں کر سکتے ہمیں تیزی سے آگے بڑھنے کو ترجیح دینا ہوگی ۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ سیاستدانوں سمیت تمام طاقت کے حامل اداروں کو سر جوڑ کر سوچنے کی ضرورت ہے، مقننہ، پارلیمنٹ اور عدلیہ کا پرچم بلند ہوگا تو ہم ترقی کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ سیف سٹی پراجیکٹ پر کام جاری ہے، جس میں پولیس کا اہم کردار ہے، ایک ہزار جوانوں پرمشتمل اینٹی رائٹ پولیس کے منصوبے پرکام جاری ہے جبکہ ایک ہزارافراد پر مشتمل اینٹی ٹیررازم فورس کام کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پولیس کی گاڑیوں کوسمارٹ گاڑیوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ انسپکٹرلیول کے افراد کی تربیتی کورس متعارف کرا دیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی سیکورٹی صوررتحال بہتر ہے اور ماضی کے مقابلے میں بہتر پاکستان قوم کو دے کر جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نیشنل انٹرنل سیکورٹی پالیسی میں بہت سے مثبت اقدامات کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام میں محبت اور یگانگت کا فروغ میرا مشن ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں ٹرانسمیشن سسٹم کی بہتری پر بجلی کی فراہمی بہتر ہو جائے گی تاہم بجلی کی پیداوار میں کوئی کمی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ 10000میگاواٹ بجلی چار سالوں میں سسٹم میں آئی ہے اور بھاشا اور منڈا ڈیم کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ تاریخ کے جبر کے بغیر ہمیں ڈیم بنانا ہونگے، ڈیم کا بننا ہمارے ملک کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ای سی ایل پالیسی پر تمام فیصلے کابینہ کی منظوری سے ہوتے ہیں اور یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہماری اقتصادی ترقی دشمن ملکوں کو کھٹک رہی ہے ہمیں انتخابات میں نفرت سے باز رہنا ہے۔ قبل ازیں وفاقی وزیر داخلہ پروفیسر احسن اقبال نے وزارت داخلہ میں ای پاسپورٹ منصوبے کا افتتاح کیا ۔اس موقع پر وزارت داخلہ اینڈ ٖٖڈائریکٹوریٹ آف امیگریشن کے سینئر حکام بھی موجود تھے۔