جنگلا پشاور اب پی ٹی آئی کے گلے کا پھندا بن گیا، شہبازشریف

31مئی تک لوڈشیڈنگ کم ترین سطح پرتھی،اب پاورپلانٹ کوگیس فراہم نہیں کی جاتی توہم ذمہ دارنہیں،دہشتگردی کے خاتمے کا فیصلہ سیاسی قیادت نے کیا،معاشی استحکام آیا،عمران خان 11نکات کوچھوڑیں کی کوئی کام کیا ہےتوبتائیں،اب موقع ملاتوہندوستان کےساتھ پانی کا مقدمہ لڑیں گےاوراپنے پانی پرڈیم بھی بنائیں گے۔ پریس کانفرنس

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ منگل جون 15:53

جنگلا پشاور اب پی ٹی آئی کے گلے کا پھندا بن گیا، شہبازشریف
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔05 جون 2018ء) : مسلم لیگ ن کے صدر محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ جنگلا پشاور اب پی ٹی آئی کے گلے کا پھندا بن گیا ،31مئی تک لوڈشیڈنگ کم ترین سطح پرتھی،دہشتگردی کے خاتمے کا فیصلہ سیاسی قیادت نے کیا،معاشی استحکام ہم لیکر آئے ہیں،،عمران خان کے 11نکات کی کوئی اہمیت نہیں،کام کیا ہے توبتائیں،اب موقع ملاتوہندوستان کے ساتھ پانی کا مقدمہ لڑیں گے اور اپنے پانی پرڈیم بھی بنائیں گے۔

انہوں نے آج یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت کی آئینی مدت پوری ہوچکی ہے۔نگراں وزیراعلیٰ کے فیصلے بعد میں آزاد ہوجاؤں گا۔مجھ پرایسے الزامات لگائے گئے جن کا کوئی سرپیر نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ دہشتگردی اور لوڈشیڈنگ کیخلاف فیصلہ سیاسی قیادت نے کیا۔

(جاری ہے)

31مئی تک لوڈشیڈنگ کم ترین تھی۔نگراں حکومت میں لوڈشیڈنگ ہو، توہم ذمہ دار نہیں ہوں گے۔

یا پاور پلانٹ کو گیس نہ ملے توہم ذمہ دار نہیں ہیں۔بعض لوگوں نے اس پرغضے کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے ردالفساد کے تحت وزیرستان میں امن قائم کیا ہے۔۔جنوبی وزیرستان بارڈر کا دورہ کیا ۔پاک افغان سرحد پر ہزاروں میل لمبی باڑ لگ چکی ہے۔افسران چوکیوں پرالرٹ کھڑے ہیں۔ملک کے اند رافواج پاکستان ،،پولیس اور رینجرز نے قربانیاں دیں جس سے دہشتگردی انتہائی نچلے لیول پرہے۔

دہشتگردی کا خاتمہ ہوا۔۔پاکستان میں معاشی استحکام آیا ہے۔آپ اس کوسی پیک بھی کہہ سکتے ہیں۔خیبرپختونخواہ والوں نے ہمیں سڑکیں بنا رہے ہیں۔ ان کو کیا پتا ان منصوبوں کا کیا فائدہ ہے۔آج یو این ڈی پی کی رپورٹ ہے کہ پنجاب ہرزاویے اور ہرلحاظ سے باقی صوبوں سے آگے ہے۔رپورٹ اس سال مئی 2018ء میں شائع ہوئی ہے۔انہوں نے کہاکہ ہماری 18ویں ترمیم کے بعد بجلی پیدا کرنا ہماری ذمہ داری تھی۔

عمران خان نے کہا تھا کہ بجلی میں پاکستان کو خودکفیل کردوں گا۔لیکن مائنس 6میگاواٹ بجلی پیدا کی ہے۔۔پنجاب نے بھکھی پاور1150،حویلی بہادرشاہ 1200میگاواٹ ،بلوکی ،ان منصوبوں میں 300ارب سرمایہ کاری کے ساتھ 5000ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کررہے ہیں۔ اسی طرح سی پیک کے تحت 12سومیگاواٹ بجلی کا منصوبہ ساہیوال میں چلایاہے۔اس پاور پلانٹ کے چلنے سے اربوں روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہاکہ سرمایہ کاری پنجاب نے کی ہے جبکہ بجلی پاکستان کی ہے۔انہوں نے کہا کہ غریب ترین بچے سکولوں میں ہیں۔4لاکھ لیپ ٹاپس فری دیے،20لاکھ بچوں کو سکولوں میں داخل کروایا۔اربوں روپے ان پرخرچ ہورہے ہیں۔ایسے سکول جوچل ہی نہیں رہے تھے ہم ساڑھے چار ہزار سکول این جی اوز کو دیے۔اسی طرح 200نئے کالجز، 19نئی یونیورسٹیاں بنائی ہیں۔پہلی ٹیکینکل یونیورسٹی بنائی گئی ہے۔

17اضلاع میں ہیلتھ کارڈ فراہم کیے گئے۔پہلی اسی طرح پبلک ٹرانسپورٹ فراہم کی ہے۔کسی بھی قوم کیلئے پبلک ٹرانسپورٹ کا معاشی ترقی سے چولی دامن کا ساتھ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے پنجاب میں سستی میٹروبس اور اورنج لائن ٹرین بنائی۔لیکن پی ٹی آئی کی وجہ سے اورنج لائن منصوبہ 22مہینے کا تاخیر کاشکار رہا۔جنگلا جنگلا کہنے والوں نے پشاور اکھاڑ دیا،ابھی تک بس نہیں بن سکی۔

کیا وہ لوگوں کو روزگار دیں گے؟ حکومت چلاسکیں گے؟نہ انہوں نے تعلیم میں کچھ کیا، اور نہ ہی انہوں نے صحت کے شعبے میں کچھ کیا ہے۔تمام اضلاع میں اسپتالوں کوبہترین اسپتال بنادیے ہیں۔ہسپتالوں میں تمام سہولیات موجود ہیں۔آئی سی یووارڈ، سٹی اسکین، ادویات مل رہی ہیں۔برن یونٹس چار جگہ بنائے گئے ہیں۔خدمت سنٹرز بنائے ہیں۔لیبز بنائی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ہائیڈل بجلی بھی پیدا کی ہے۔دیامیربھاشاکا کریڈٹ ن لیگ نے لیا تھا۔مشرف نے فیتہ کاٹ دیا۔زمین کا مسئلہ تھا مسلم لیگ ن نے 100ارب روپیہ دیکر زمین خرید لی ہے۔