ْ ایجوکیشن کالج باغ کی طالبات نے وزیر جنگلات سردار میر اکبر خان کو مناظرے کا چیلنج کر دیا

جمعرات جون 16:13

باغ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) ایجوکیشن کالج باغ کی طالبات نے وزیر جنگلات سردار میر اکبر خان کو مناظرے کا چیلنج کر دیا۔ چوبیس گھنٹے کے اندر اگر وائس چانسلر نے کالج آف ایجوکیشن کے اندر پرنسپل رہائش خالی نہ کی تو ہم زور بازور خالی کروا دیں گی۔ وائس چانسلر کی رہائش کی وجہ سے آئے روز مختلف طرح کے لوگ ، جن میں بنکوں کے نمائندے ، مختلف فرموں اور کمپنیوں کے نمائندے ، این جی اوز کے لوگ اور نوکریوں کے طلبگاروں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔

جس سے ہماری چادر اور چار دیواری کا تقدس بری طرح پامال ہو رہا ہے۔ اس کو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ کالج آف ایجوکیشن کی 75فیصد عمارت پر یونیورسٹی کا قبضہ ہے جبکہ کالج کی بچیاں کھلے آسمان تلے بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ۔

(جاری ہے)

موجودہ حکومت نے کالج آف ایجوکیشن ، گرلز کالج کی بلڈنگ کو ویمن یونیورسٹی کے لیے اُن کی ضرورت کے پیش نظر کچھ حصہ مختص کیا تھا لیکن یونیورسٹی نے تقریباً 75فیصد حصہ پر قبضہ کر رکھا ہے اور مزید پوری بلڈنگ پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔

یونیورسٹی کی طرف سے ان اداروں کو یونیورسٹی میں ضم کرنے کی تحریک کی گئی ہے جو آزاد کشمیر بھر کی طالبات کے لیے معیاری اور سستی تعلیم کے دروازے بند کرنے کے مترادف ہے یہ تحریک اُس دو ر میں ہوئی جس میں پرنسپل وقت جنہیں وائس چانسلر نے بعد از ریٹائرمنٹ یونیورسٹی میں کنٹریکٹ بنیادوں پر ایڈجسٹ کرنے کی لالچ دی اور پرنسپل موصوف نے بچیوں کے مستقبل کی پرواہ نہ کرتے ہوئے صرف ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے ہاں میں ہاں ملائی اور اس طرح یہ مسلہ پیدا ہوا۔

ان خیالات کا اظہار کالج آف ایجوکیشن اور گرلز پوسٹ گریجویٹ کالج باغ کی طالبات کے ایک مشترکہ وفد نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وفد ، ثانیہ رشید، سیدہ عروبہ ، حنا بتول ، سیدہ اقصیٰ ، ماریہ لیاقت، سیدہ ثناء ، مریم عزیز، طوبیٰ ، عافیہ شہزاد شامل تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے حقوق کے لیے سڑکوں کا رخ کیا تو وزیر جنگلات سردار میر اکبر خان نے کہا کہ ان کو ایک منظم سازش کے تحت مخصوص گروہ سڑکوں پر لا رہا ہے ہماری روایات ایسی نہیں ہیں ۔

ہم وزیر جنگلات سردار میر اکبر خان کو مناظرے کا چیلنج کرتی ہیںکہ وہ آئیں ہمارے ساتھ مذاکرات کریں۔ جب ویمن یونیورسٹی کی بچیاں اور جملہ سٹاف وائس چانسلر کی مبینہ کرپشن پر گرفتاری کے خلاف رہائی کے لیے سڑکوں پر نکلیں تو اُس وقت ان کی غیرت کیوں خاموش تھی۔ ہم اپنی عزت و آبرو کو خوب سمجھتی ہیں ، ہمیں ڈرایا دھمکایا نہ جائے۔ ہم اپنے حقوق کے لیے آخری حد تک جانے کے لیے تیار ہیں ۔

ان اداروں کو کسی صورت نہ تو کسی ادارے میں ضم اور نہ ہی کسی جگہ منتقل ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے حقوق کے لیے جب سڑکوں پر آئے تو ڈپٹی کمشنر ، صدر انجمن تاجراں ، مولانا منان گوہر ، اور راجہ اعجاز کی اپیل پر ہم نے اپنا احتجاج مؤخر کیا ۔ انہوں نے یقین دہانی کروائی تھی کہ یہ ادارے نہ تو کسی ادارے میں ضم ہونگے اور نہ ہی دوسری جگہ شفٹ ہونگے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ احتجاج ہمارا ذاتی احتجاج ہے ہم پڑھی لکھی باشعور ہیں ہمارے اساتذہ اور پرنسپل کو مختلف ذرائع سے دھمکیاں دی جارہی ہیں ۔ ہمارے اس احتجاج کی وجہ سے اگر ہمارے اساتذہ یا پرنسپل کے خلاف کو قدم اُٹھایا گیا تو ہم سرا پا احتجاج بن کر وزیر اعظم ہائوس مظفرآباد، صدر ہائوس اور چیف جسٹس آزاد کشمیر اور پاکستان کی انسانی حقوق کی تنظیموں اور نیشنل اور انٹرنیشل میڈیا پر اپنے حقوق کے لے احتجاج ریکارڈ کروائیں گی۔

یونیورسٹی انتظامیہ اور طالبات نے گزشتہ سال پورا ایک ماہ پُل بند رکھا اور ٹائر جلا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا اور اُن کے خلاف نہ کوئی ضلعی انتظامیہ حرکت میں آئی اور نہ ہی کوئی کارروائی ہوئی۔ کیا ہم یہ سمجھیں کہ اُن کے پیچھے ضلعی انتظامیہ اور حکومت کھڑی تھی۔ اور ہم لاوارث ہیں کیا اہم اس ملک کی بچیاں نہیں ، جب ہمارے سارے معاملات ڈپٹی کمشنر سے طے ہو چکے تھے اور ہم نے اپنا احتجاج مؤخر کر دیا تھا تو اس کے باوجود گزشتہ روز یونیورسٹی کی طالبات اور اساتذہ سے ہمارے اساتذہ اور طالبات کے خلاف نا زیبا زبان استعمال کی گئی اس احتجاج کی ضرورت کیوں پیش آئی۔

ان سے احتجاج کس نے کروایا اس کی بھی تحقیقات ہونی چاہیے۔ انہوںنے مزید کہا کہ اداروں کے درمیان جو چپلقش جاری ہے اس کے پیچھے اس کے پیچھے وائس چانسلر کے گھنائونے عزائم شامل ہیں ۔ ہم یونیورسٹی کے خلاف نہیں نہ ہم یونیورسٹی طالبات کے خلاف ہیں نہ ویمن یونیورسٹی کا سنجیدہ طبقہ کالج آف ایجوکیشن کے خلاف ہے بلکہ اس ساری صورتحال کے پیچھے وائس چانسلر کی نااہلی اور سازش شامل ہے ۔ اس کی ایک واضع مثال کالج آف ایجوکیشن کو ضم کرنے کی تحریک ہے جو موصوف نے صدارتی سیکرٹریٹ کو ارسال کی ہے جس کا ثبوت صحافیوں کو مہیا کر رہی ہیں۔