نگران وزیر اعلی کیلئے حسن عسکری کی نامزدگی کو مستر دکر تے ہیں،(ن) لیگ کا مطالبہ

ملک میں شفاف انتخابات نہ ہوئے تو انتخابات کے بعد سیاسی بحران پیدا ہوجائیگا ‘حسن عسکری کے مسلم لیگ ن اور جمہوریت سے متعلق خیالات جانبدارانہ ہیں ،ان کے ن لیگ سے متعلق بیا نات اور مضامین موجو د ہیں نظر آرہاہے الیکشن آزادانہ اورشفاف نہیں ہوں گے،الیکشن کمیشن کے نگراں وزیراعلی سے متعلق فیصلے نے پنجاب میں الیکشن کومشکوک بنا دیا ہے‘ الیکشن زمینی مخلوق کرائے یا خلائی مخلوق (ن) لیگ ہر حال میں الیکشن میں حصہ لیں گی ‘نیب100کیس بنا لیں میں اس کیلئے حاضر ہوں قیادت کو نیب گر فتار کر سکتی ہے ووٹرز تو گر فتار نہیں ہوں گے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ‘احسن اقبال اور خواجہ سعد رفیق کی لاہور میں میڈیا سے گفتگو

جمعرات جون 20:07

نگران وزیر اعلی کیلئے حسن عسکری کی نامزدگی کو مستر دکر تے ہیں،(ن) لیگ ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جون2018ء) سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ (ن) لیگ نگران وزیر اعلی کیلئے حسن عسکری کی نامزدگی کو مستر دکر تی ہے الیکشن کمیشن اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر یں حسن عسکری کے مسلم لیگ ن اور جمہوریت سے متعلق خیالات جانبدارانہ ہیں ،ان کے ن لیگ سے متعلق بیا نات اور مضامین موجو د ہیں نظر آرہاہے الیکشن آزادانہ اورشفاف نہیں ہوں گے،،الیکشن کمیشن کے نگراں وزیراعلی سے متعلق فیصلے نے پنجاب میں الیکشن کومشکوک بنا دیا ہے‘ الیکشن زمینی مخلوق کرائے یا خلائی مخلوق (ن) لیگ ہر حال میں الیکشن میں حصہ لیں گی ‘نیب100کیس بنا لیں میں اس کیلئے حاضر ہوں قیادت کو نیب گر فتار کر سکتی ہے ووٹرز تو گر فتار نہیں ہوں گے جبکہ خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ بہتر ہوگا حسن عسکری خود ہی معذرت کر لیں۔

(جاری ہے)

وہ لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے مر کزی قائد ین خواجہ سعد رفیق ‘احسن اقبال ‘مر یم اوررنگزیب ‘رانا ثناء اللہ خان سمیت دیگر کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پنجاب کے نگران وزیراعلی کی تقرری کا معاملہ پورے الیکشن عمل کو مشکوک بنا دے گا ۔ان کا کہنا تھا کہ حسن عسکری نے غیر ملکی خبر رساں اداروں میں ایسے آرٹیکل لکھے جس سے انتخابات میں تاخیر کا جواز بنتا ہے ،حسن عسکری نے لکھا کہ گرمیوں میں الیکشن کرانا مشکل ہوتا ہے اور کئی سیاسی جماعتیں الیکشنوں میں تاخیر پر راضی ہیں جبکہ پاکستان کی تمام بڑی جماعتیں بروقت الیکشن کی حامی ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے نگران سیٹ اپ کے لیے غیر جانبدار نام دئیے ،نگران سیٹ اپ کے لیے ضروری ہے کہ یہ غیر جانب دار ہوں ہمارے نامزد کردہ افراد اچھی شہرت کے حامل تھے ،غیر جانبدار ی پر کوئی شک نہیں تھا لیکن بد قسمتی سے الیکشن کمیشن نے حسن عسکری کا نام چنا ہے۔۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حسن عسکری کے مسلم لیگ ن اور جمہوریت سے متعلق خیالات جانبدارانہ ہیں ،ان کے ن لیگ سے متعلق بیا نات اور مضامین موجو د ہیں ۔

انہوں نے مزید کہا کہ نظر آرہاہے کہ الیکشن آزادانہ اورشفاف نہیں ہوں گے،،الیکشن کمیشن کے نگراں وزیراعلی سے متعلق فیصلے نے پنجاب میں الیکشن کومشکوک بنا دیا ہے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حسن عسکری غیر جانبدار آدمی نہیں ہیں، ضروری ہے کہ سیٹ اپ نیوٹرل ہو اور عوام کو نیوٹرل ہوتا نظر بھی آئے لیکن پنجاب کے نگران وزیراعلی کی تقرری نے پورا معاملہ مشکوک بنادیا، نظر آرہا ہے یہ الیکشن شفاف اور آزادانہ نہیں ہوں گے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ تمام جماعتوں کی قیادت نے کہا ہے کہ الیکشن میں تاخیر برداشت نہیں، لیکن 26 اپریل 2018 کو حسن عسکری نے آرٹیکل میں الیکشن میں تاخیر کی بات کی اور کہا گرمی کی وجہ سے الیکشن میں تاخیر ہوسکتی ہے، نگراں وزیراعلیِ کا فیصلہ پورے الیکشن کو شبہ میں ڈال دے گا الیکشن ہم نے لڑنا ہے نگران حکومت نے نہیں الیکشن کمیشن سے فیصلے پر نظر ثانی کا مطالبہ کرتے ہیں، ایسے شخص کو نگران وزیراعلی بنایا جائے جس پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ہم حسن عسکر ی کی عزت کرتے ہیں لیکن وہ نگران وزیر اعظم کے عہدے کیلئے اہل نہیں کیونکہ وہ نہ صرف تحر یک انصاف کے سپوٹر بلکہ (ن) لیگ کے خلاف ہیںاس لیے بہتر ہوگا وہ خود ہی نگران وزیر اعلی کی ذمہ داریوں سے معذرت کر لیںکیونکہ انکی موجودگی میں شفاف انتخابات نہیں ہوسکتے ۔

احسن اقبال نے کہا کہ اس حکومت نے سی پیک کی صورت میں وہ پودا لگایا جس کا پھل پاکستانی قوم آئندہ تیس سالوں میں کھائیں گے اس ملک میں ہر صورت25جولائی کو عام انتخابات ضروری ہے اور اگر ملک میں شفاف انتخابات نہیں ہوں گے تو ملک میں سیاسی بحران پیدا ہوں گے جسکے لیے ملک اور قوم کیلئے خطر ناک نتائج ہوں گے اور پاکستان ایسے حالات کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔