سندھ پولیس نے کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والی3 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا

منگل جون 20:04

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جون2018ء) سندھ پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے مبینہ طور پر کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے 3 مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا جن میںسے 2 کے حوالے سے بتایا گیا کہ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) سی ٹی ڈی جنید احمد شیخ کا کہنا تھا کہ گرفتار افراد میں سے ایک ڈیرہ اسمٰعیل خان میں عوامی یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبر ہیں، دوسرے نے کراچی کی نامور یونیورسٹی سے گریجویشن کر رکھی ہے اور تیسرے مشتبہ شخص مذہبی اسکالر ہیں جو آن لائن قرآن پڑھاتے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ یونیورسٹی کے استاد افغانستان میں نیٹو میں حملے، پاکستان میں سیکیورٹی فورسز پر حملے اور فرقہ وارانہ فسادات میں ملوث ہیں۔

(جاری ہے)

ایس ایس پی شیخ کا کہنا تھا کہ تینوں ملزمان شاہسوار، مجیب الرحمٰن اور خالد پرویز کو کراچی میں جوبلی کے علاقے سلطان آباد میں سی ٹی ڈی کی جانب سے چھاپے کے دوران گرفتار کیا گیا جن کے قبضے سے چندے کی پرچیاں بھی بر آمد ہوئیں۔

سینیئر حکام نے دعویٰ کیا کہ ملزمان رمضان کے دوران شہر کے مختلف علاقوں سے چندہ جمع کیا کرتے تھے۔گرفتار مجیب الرحمٰن جن کا تعلق کالعدم لشکر جھنگوی سے بتایا گیا کو سی ٹی ڈی کی جانب سے گزشتہ دنوں بھی گرفتار کیا گیا تھا تاہم جیل سے رہائی پانے کے بعد وہ دوبارہ سے فرقہ پرست تنظیم کے ساتھ کام کرنے لگے تھے اور چندہ اکٹھا کرنے کے علاوہ وہ نوجوانوں کو بھی ورغلارہے تھے۔

دوسرے مشتبہ شخص خالد پرویز آئی ٹی کے ماہر ہیں جو کراچی کے ایک نجی ادارے میں ملازم ہیں اور انہوں نے ایک نامور یونیورسٹی سے ایم بی اے کی ڈگر بھی لے رکھی ہیں،ان کا تعلق داعش سے بتایا گیا ہے۔دریں اثناء انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ شاہسوار ڈیرہ اسمٰعیل خان میں سرکاری یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبر ہیں اور وہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے اہم رکن ہیں۔مشتبہ افراد نے ساتھیوں کے ہمراہ افغانستان میں نیٹو فورسز کو نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں کئی جانیں ضائع ہوئی تھیں، شاہسوار کے کئی ساتھی افغانستان میں مارے بھی جاچکے ہیں۔سی ٹی ڈی افسر نے انکشاف کیا کہ شاہسوار ٹی ٹی پی کی شوریٰ کمیٹی کے بھی رکن ہیں۔