سید علی گیلانی کا کشمیر بارے اقوام متحدہ کی رپورٹ کا خیر مقدم

بھارتی فورسز کی وجہ سے کشمیری سخت عدم تحفظ کا شکار ہیں، حریت رہنماء

جمعہ جون 16:40

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 جون2018ء) مقبوضہ کشمیر میںکل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں کے بارے میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی رپورٹ کا خیر مقدم کیا ہے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سید علی گیلانی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ مسئلہ کشمیر ایک انسانی ہے جو گزشتہ ستر برس سے حل طلب ہے جس کی وجہ سے ڈیڑھ کروڑ کے لگ بھگ کشمیریوں کی زندگیاں شدید خطرات سے دوچار ہیں ۔

حریت راہنما نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کو چاہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے کشمیر ،،فلسطین اور دیگر مسائل کو حل کرنے کے لیے عدل وانصاف کے تقاضوں کو پورا کرے۔انہوں نے اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کو حقائق پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر کے 8لاکھ بھارتی فورسز کی وجہ سے جان ومال اور عزت کے حوالے سے شدیدعدمِ تحفظ کا شکار ہیں ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں اس وقت انسانی حقوق کی پامالیاں عروج پر ہیں۔سید علی گیلانی نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہمیں اُمید ہے کہ یہ معتبر عالمی ادارہ مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے عملی اقدامات کا آغاز کرے گا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی ہٹ دھرمی، ضد اور فوجی غرور کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوسکتا ہے کہ یہ ملک اقوامِ متحدہ جیسے غیر جانبدار ادارے کی رپورٹ کو بھی کسی خاطر میںنہیںلا رہا۔

سید علی گیلانی نے امید ظاہر کی کہ اقوامِ متحدہ بھارت کی ضد اور ہٹ دھرمی کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر روک لگانے کے لیے اپنا سفارتی دباؤ بڑھائیگا۔دریں اثنا کل جماعتی حریت کانفرنس کے ایک بیان کے مطابق کٹھ پتلی انتظامیہ نے سید علی گیلانی ایک بار پھر نماز جمعہ ادا کرنے کیلئے اپنی رہائش گاہ سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی ۔ حریت ترجمان نے قابض انتظامیہ کی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سید علی گیلانی کو کم وبیش گزشتہ 8برسوں سے نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے اورسرینگر میں انکے گھر کو مستقل طور پر ایک قید خانے میں بدل دیا گیا ہے۔