امر یکی ڈرون حملے میں در ندہ صفت دہشت گرد ملا فضل اللہ ہلاک

ملا فضل اللہ کنڑ میں ہونے والے امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے ہیں، افغان وزارت د فا ع طا لبان کا تصد یق سے گر یز ، نیا امیر چنے جانے کے بعد ہی طا لبان ملا فضل اللہ کی ہلا کت کی تصد یق کر یں گے، غیر ملکی میڈ یا

جمعہ جون 18:38

کا بل (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 جون2018ء) افغان وزارتِ دفاع کے حکام نے صوبہ کنڑ میں امریکی فوج کی کارروائی میں پاکستانی طالبان کے سربراہ ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔ جمعہ کو وزارتِ دفاع کے ترجمان محمد ردمنیش نے غیر ملکی میڈ یا کو بتایا ہے کہ ملا فضل اللہ 13 جون کو کنڑ میں ہونے والے امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے ہیں۔۔افغانستان میں امریکی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل مارٹن اوڈونل کی جانب سے جمعرات کی شب ایک بیان جاری گیا تھا جس میں کہا گیا کہ 13 اور 14 جون کی شب امریکی فوج نے پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں انسدادِ دہشت گردی کی ایک کارروائی کی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کارروائی کا ہدف دہشت گرد قرار دی گئی ایک تنظیم کا سینیئر رہنما تھا تاہم اس وقت امریکی فوج کی جانب سے کارروائی اور اس میں نشانہ بنائے جانے والے افراد کے بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔

(جاری ہے)

تاہم جمعے کی صبح افغان حکام نے ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق کر دی۔ یاد رہے کہ ملا فضل اللہ کا ایک بیٹا بھی رواں برس مارچ میں ڈرون حملے میں ہی مارا گیا تھا۔

ادھر پاکستانی انٹیلیجنس کے ذرائع نیغیر ملکی میڈ یا کو بتایا ہے کہ 13 جون کو ملا فضل اللہ کنڑ کے ضلع مروارہ میں واقع بچائی مرکز میں منعقدہ افطار پارٹی میں گئے تھے۔ اطلاعات ہیں کہ رات دس بج کر 45 منٹ پر جب وہ اپنی گاڑی میں بیٹھے تو اس پر ڈرون حملہ ہوا۔ اس وقت ان کے ہمراہ ان کے تین ساتھی بھی موجود تھے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے جن کی لاشیں جل گئیں اور انھیں 13 جون کی شب ہی بچائی میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

تاحال طالبان کی جانب سے ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی گئی ہے تاہم خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ طالبان شوری کی جانب سے نئے امیر کا نام چننے پر اتفاق رائے کے بعد ہی تحریک طالبان ملا فضل اللہ کے مرنے کی تصدیق کرے گی۔خیال رہے کہ ماضی میں بھی کئی مرتبہ ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں تاہم بعدازاں ان کی تردید کر دی گئی تھی۔

ملا فضل اللہ امریکی ڈرونز سے چلائے جانے والے میزائلوں کا نشانہ بننے والے طالبان کے پہلے سربراہ نہیںیہ پہلی مرتبہ نہیں کہ تحریک طالبان پاکستان کی قیادت امریکی ڈرون حملوں کا نشانہ بنی ہو۔ سنہ 2007 میں قائم کی جانے والی تنظیم کے بانی رہنما اور پہلے امیر بیت اللہ محسود اور ان کے جانشین حکیم اللہ محسود جیسے کئی اہم ترین رہنماں کی ہلاکت امریکی ڈرون حملوں میں ہی ہوئی ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ یہ ڈرون حملہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب افغانستان میں حکومت نے عید کے موقع پر عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا ہوا ہے اور طالبان نے بھی اسے قبول کیا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق فضل اللہ 1974میں سوات میں پیدا ہو، اس کا تعلق یوسفزئی قبیلے کی بابوکارخیل شاخ سے تھا اور وہ ایک پائوں سے معمولی معذور بھی تھا،اسے 2013میں حکیم اللہ محسود کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد تحریک طالبان پاکستان کا سربراہ چنا گیا تھا،وہ سوات میں طالبان کے دور میں بڑے پیمانے پر قتل و غارت کا بھی ذمہ دار سمجھا جاتا ہے اوراس نے امن کا نوبیل انعام حاصل کرنے والی پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی پر بھی قاتلانہ حملہ کروایا تھا۔

امریکی حکومت نے فضل اللہ کو عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر رکھا تھا اور پاکستانی طالبان کے سربراہ کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر 50لاکھ ڈالر کے انعام کا اعلان بھی کر رکھا تھا۔پاکستانی حکام 2014میں پشاور میں آرمی پبلک سکول پر طالبان شدت پسندوں کے حملے کا ماسٹر مائنڈ بھی ملا فضل اللہ کو ہی قرار دیتے ہیں،اس حملے میں 148افراد ہلاک ہوئے جن میں اکثریت بچوں کی تھی۔