قابض انتظامیہ کی کشمیری عوام اور حریت پسندوں کے خلاف انتقامی کارروائیوںکی شدید مذمت

جمعرات جون 17:30

سرینگر۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) مقبوضہ کشمیر میںکل جماعتی حریت کانفرنس نے بھارتی قابض انتظامیہ کی طرف سے نہتے کشمیری عوام، حریت پسند قائدین اور کارکنوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کرنے کی کاروائیوں کو بد ترین سرکاری دہشت گردی اور انتظامیہ کی بوکھلاہٹ قراردیا ہے۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں عید کے روز کشتواڑ میں عبدالقیوم متو اور آٹھ دیگر افراد کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے افسوس ظاہر کیاکہ جموںوکشمیر کے اطراف و اکناف میں عام لوگوں کی اظہار رائے کی آزادی پرقدغن عائد ہے اور انتظامیہ فوجی طاقت کے بل پر مقبوضہ علاقے میں قبرستان کی خاموشی قائم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

انہوں نے حریت چیئرمین سید علی گیلانی،، میرواعظ عمر فاروق،محمدیاسین ملک اور محمد اشرف صحرائی کی گھروں اور تھانوں میں مسلسل نظر بندی کی بھی شدید مذمت کی۔

(جاری ہے)

انھوں نے کہاکہ قابض انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ بھارتی فورسز انسانی حقو ق کی سنگین خلاف ورزی میں ملوث ہیں۔انھوں نے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ نہیت کشمیریوں پر ڈھائے جانیوالے مظالم کا سنجیدہ نوٹس لیں۔

دریں اثنا ء حریت رہنمائوں عمر عادل ڈار ،اشفاق احمد اور عبدالرشید بیگ پر مشتمل حریت کانفرنس کے ایک وفد نے حال ہی میں بھارتی فورسز کی طرف سے پر امن مظاہرین پر پیلٹ گن کی فائرنگ کے نتیجے میں شدید زخمی ہونیوالے کشمیری نوجوان عبدالمجید کی عیادت کیلئے صورہ ہسپتال سرینگر گیا۔ انہوںنے زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا نوجوان کی عیادت کی اور اس کی فوری صحت یابی کیلئے دعا کی۔