ہماری حکومت معیشت کو بحال کرنے کے لئے ترجیحی بنیادوں پرتوانائی اور انفراسٹرکچر میں بہتری لائی، احسن اقبال

جمعہ جون 07:10

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) پاکستان مسلم لیگ (ن)کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ2013 سے قبل ملک کا ہر شعبہ تباہی کا شکار تھا ، ہماری حکومت معیشت کو بحال کرنے کے لئے ترجیحی بنیادوں پرتوانائی اور انفراسٹرکچر میں بہتری لائی، اقتصادیترقی کی شرح 3 فیصد سے بڑھا کر 6 فیصد، ملک کو اندھیر وں سے نکال کر ابھرتی ہوئی معیشت میں تبدیل کیا،،عمران خان نے تبدیلی کے نام پرخیبر پختونخوا کے عوام کو دھوکا دیااور اب ایک کروڑ نوکریاں اور 100دن کا پلان دوسرا ڈرامہ ہے،ملکی ترقی اور خوشحالی اور سرمایہ کاری کی لاگت کو برقرار رکھنے کے لئے پالیسیوں میں تسلسل ضروری ہے ۔

جمعرات کوڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور انجم عقیل خان کے ہمراہ نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ نوے کی دہائی میں ہماری ترقی کی رفتار بھارت اور بنگلہ دیش سے بہت بہتر تھی ، پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہتا توآج بھارت اور بنگلہ دیش پاکستان سے آگے نہ ہوتے۔

(جاری ہے)

سابق وفاقی وزیر احسن اقبال اور سابق وفاقی وزیر کیڈ طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ پچھلے 66سالوں میں 18ہزار میگا واٹ بجلی پید کی گئی تھی جبکہ (ن)لیگ کی حکومت نے 4سال میں 10ہزار میگا واٹ بجلی کی اضافی پید اوار قومی گرڈ میں شامل کی ہے آج بجلی کا دو تین گھنٹے کا تعطل پرانی ٹرانسمیشن لائنوں کی وجہ سے ہے جس کی ترقی کا آغاز بھی ہم کر چکے ہیں اور جلد یہ کام بھی پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا اور مزید توانائی کے پیداواری منصوبے بھی جاری ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اگر پالیسیوں کا تسلسل برقرار نہ رہا تو یہ منصوبے التواء میں جانے اور مزید بحران پیدا ہونے کا خدشہ پیدا ہوجائے گا کیونکہ تعمیراتی لاگت بڑھنے سے ملک کو نقصان ہوتا ہے جس طرح کے ماضی میں ہوتا آیا ہے۔انھوں نے کہا کہ انفراسٹرکچر ،توانائی اورٹرانسپورٹ کی ترقی کے بعد اب اگلا مرحلہ صنعتی زونز کا ہے جس سے ملک میں معاشی انقلاب آئے گا۔

انھوں نے کہا کہ ملک میں سی پیک کے تحت 45 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری میں سے 30سے 35ارب کی سرمایہ کاری روڈ انفراسٹرکچر،ٹرانسپورٹ اور توانائی کے منصوبوں پر خرچ کر چکے ہیں کیونکہ ان چیزوں کے بغیر صنعتی انقلاب ممکن نہیں۔انھوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے 17500 کلومیٹر سڑکوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا،لواری ٹنل جیسے عرصہ سے التواء کا شکار منصوبوں کو بھی پایا تکمیل ک پہنچایا اور وژن 2025 تک پاکستان کو خطے کو دنیا کی بڑی معیشت بنانا ہماری ذمہ داری ہے۔بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے عمران خان کے پاس کے پی کے میں یونیورسٹیاں بنانے کے سوال کا کوئی جواب نہ تھا۔