آزاد الیکشن لڑنے کی وجوہات بارے رازوں سے بہت جلد پردہ کشائی کرونگا ،چوہدری نثار

مسلم لیگ(ن) یا تحریک انصاف کیساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی بات نہیں چل رہی ،میں کسی بس کی جانب نہیں دیکھتا ،یہ بات ہضم کرلی جائے میں چار سیٹوں پر آزاد الیکشن لڑرہاہوں ڈان لیکس چند ذہنوں کی اختراع تھی ،آج بھی بات پر اٹل ہوں وزیراعظم ہائوس میٹنگ کے بعد ڈان لیکس کا معاملہ اٹھایا گیا ملک نازک صورتحال سے دو چار ہے،ہم سب کو اپنے سے زیادہ ملک کی فکر کرنی چاہیے ،پہلے بھی کہ چکا ہوں کہ پاکستان کے خلاف بڑی سازش ہو رہی ہے آرمی چیف افغانستان گئے تو دوسرے دن مولانا فضل اللہ امریکن نشانے پر آگیا، اس سے قبل تین سال تک افغان اور امریکن فورسز نے نشانہ کیوں نہیں بنایا ، مجھ سے منسوب جعلی خبر میڈیا کے ایک چھوٹے حصے پر چلائی گئی

جمعہ جون 21:09

آزاد الیکشن لڑنے کی وجوہات بارے رازوں سے   بہت جلد  پردہ کشائی کرونگا ..
.اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) سابق وفاقی وزیرداخلہ و مسلم لیگ(ن) کے رہنما چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ آزاد الیکشن لڑنے کی وجوہات بارے اہم رازوں سے بہت جلد پردہ کشائی کرونگا ، مسئلہ ٹکٹ کا ہوتا تو جاکر انٹرویو دے دیتا ، مسلم لیگ ن کا ٹکٹ نہ لینا ہوتا تو پی ٹی آئی کا لے لیتا ،میں سیاست عزت کی خاطر کرتا ہوں، میں کسی بس کی جانب نہیں دیکھتا جس پر سوار ہوں اسی کی منزل مقصود تک پہنچنے کی دعا کرتا ہوں، نوازشریف کو دوبارہ صدر بنانے کیلئے دل پر بوجھ تھا لیکن پارٹی قرض کی وجہ سے ووٹ دیا ، ڈان لیکس چند ذہنوں کی اختراع تھی ، وزیراعظم ہائوس میں یہ معاملہ ڈسکس ہی نہیں ہوا تو سکیورٹی بریچ کیسے پیدا ہو گئی آج بھی بات پر اٹل ہوں کہ وزیراعظم ہائوس میٹنگ کے بعد ڈان لیکس کا معاملہ اٹھایا گیا،پارٹی سروے میں مجھے اول اور دوم اور پھر سوئم کا رزلٹ آیا ، ٹکٹ دوم یا سوئم کو ملے تو اندازہ لگائیں سروے کتنا معتبر ہو گا ،مسلم لیگ(ن) یا تحریک انصاف کیساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی بات نہیں چل رہی،یہ بات ہضم کرلی جائے میں چار سیٹوں پر آزاد الیکشن لڑرہاہوں ،ملک نازک صورتحال سے دو چار ہے،ہم سب کو اپنے سے زیادہ ملک کی فکر کرنی چاہیے ،پہلے بھی کہ چکا ہوں کہ پاکستان کے خلاف بڑی سازش ہو رہی ہے آرمی چیف افغانستان گئے تو دوسرے دن مولانا فضل اللہ امریکن نشانے پر آگیا، اس سے قبل تین سال تک افغان اور امریکن فورسز نے نشانہ کیوں نہیں بنایا ۔

(جاری ہے)

جمعہ کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ ایک مکمل طور پر جعلی خبر چلائی گئی اس میں کوئی حوالہ نہیں تھا کہ یہ خبر کہاں سے آئی اور وہاں پر کوئی میڈیا پر سن موجود تھا یا نہیں ، مجھ سے منسوب کر کے بیان چلایا گیا کہ اگر پی ٹی آئی میں دس غلطیاں ہیں تو ن میں سو ہیں ، اگر میں زبان کھول دوں گا تو میاں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے ، جیسے ہی مجھے اس خبر کا پتا چلاتو میں نے فوری طور پر تردید جاری کرتے ہوئے بیان جاری کیا اور تمام ٹی وی چینلز نے یہ تردید جاری کر دی لیکن اس کے باوجود بھی ٹی وی چینلز پر پروگرامز ہوتے رہے اور الگے روز اخبارات میں آرٹیکلز چھاپے گئے ۔

ان کا کہناتھا کہ بہت ساری جعلی خبریں نظر انداز کی جاسکتی ہیں لیکن اس وقت الیکشن مہم میں ہوں تو اس وقت اس کی وضاحت ضروری ہے ، میں اپنا موقف واضح کر وں گا اور عوام کے سامنے اپنا نقطہ رکھوں گا کہ اختلافا ت کی نوعیت کیاہے ۔جس طرح کے بیانات چلائے گئے یہ میرا طرز سیاست ہی نہیں ہے ، کہ میں نے اگر زبان کھول دی تو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے ، یہ میرا طرز کلام ہی نہیں ہے حتی کے سیاسی مخالفین کے خلاف بھی میں ایسی زبان استعمال نہیں کرتا ۔

ایک الیکشن بھی لڑنا آسان کام نہیں ہے اورمیں چار سیٹوں پر لڑرہاہوں ، ٹکٹ کے ساتھ بھی آسان نہیں ہوتا میں چاروں پر آزاد لڑ رہاہوں ، میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے حوالے سے کوئی خبر پہنچے تو اس کو مجھ سے تصدیق کروا لیا کریں ، ایسی خبروں کی تشہیر نہیں ہونی چاہیے ۔چوہدر ی نثار کا کہناتھا کہ نوازشریف کو میں نے 34 سال جو کچھ میرے دل نے کہا میں نے مشورہ دیا ، اختلافات کی بنیاد یہ ہے کہ جو میرا ایک رول تھا ڈیول ایڈوکیٹ کا وہ 33 سال سے تھا لیکن اس دفعہ وہ تعلقات کو متاثر کر گیا ، میرے لیے میرے معیار میں وفاداری یہ نہیں ہے کہ آپ ہاتھ باندھ کر اپنے لیڈر کی ہاں میں ہاں ملا ، اصل ایمانداری یہ ہے کہ جو آپ کے جو دل میںہے اور جو زمینی حقائق ہیں وہ ان کے سامنے رکھواور میں نے یہی کیاہے ۔

انہوں نے کہاکہ سینٹ میں بندر بانٹ پر بھی خاموش رہا ۔چوہدر ی نثار کا کہناتھا کہ میں الیکشن کیوں آزاد لڑ رہا ہوں سب کے سامنے رکھوں گا ، اس حوالے سے بھی پریس کانفرنس میں بتاں گا لیکن جب تک بیگم کلثوم نواز کی صحت بہتر نہیں ہو جاتی اس وقت تک نہیں کروں گا ، میں نے کسی کی تضحیک نہیں کرنی ، میں نے حقائق اور دلائل سامنے رکھنے ہیں کہ میرا موقف یہ ہے اور یہ موقف نوازشریف کا ہے ۔

میں ان کی بیٹی کی بات نہیں کر رہاہے میں نوازشریف کی بات کر رہاہوں کیونکہ وہ بطور لیڈرذمہ دار ہیں ، میرا دل مطمئن ہے کہ جب اختلافات ایک ڈگر سے آگے بڑھ گئے تو میں ایک طرف ہو کر نہیں بیٹھ گیا میں نے اپنے آپ کو وزارت سے الگ کر دیا ، شاہد خاقان اور شہبازشریف آئے اور کہا کہ آپ نے کابینہ کا حلف کیوں نہیں لیا ،میں نے کہا کہ شاہد صاحب آپ کے اور پارٹی کے ساتھ ہوں لیکن کابینہ میں نہیں آں گا ، میں نے وہ وعدہ نبھایا ، کونسی قانون سازی ہے جہاں میں نے حکومت کا ساتھ نہیں دیا ۔

ان کا کہناتھا کہ میں سیاست عزت کی خاطر کرتاہوں اور اسی لیے وزارت سے استعفی دیا ،میں نے آخری وقت تک پارٹی کا ساتھ دیا ،کوئی بغاوت نہیں کی ، میں ناراض نہیں ہوں ، میں نے اختلاف کیا ، اختلاف نوازشریف کے فائدے میں کیا ، اگر اظہار اختلاف ایک پارٹی میں بغاوت ہے تو اسے جو کوئی مرضی سمجھ لے میں اسے کوئی بغاوت نہیں سمجھتا ، میں پارٹی کو نقصان پہنچانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا ، میرا ن لیگ کے لیڈرز اور ورکرز کے ساتھ دوستی سے بڑھ کر تعلق ہے تو میں نقصان کس طرح پہنچا سکتاہوں ، اگر میں نے بغاوت کی ہوتی تو میں اس ایشو کے علاوہ بھی بولتا ، جب مجیب الرحمان کو محب وطن قرار دیا تو میں نہیں بولا ،، جب سینٹ کے الیکشن کی بند ر بانٹ ہو ئی تو میں نہیں بولا ، مبئی حملوں کے بیان پر بہت سوچ بچار کی لیکن میں نے ایک ایک لفظ سوچ کر سمجھ کر بیان دیا ، جس میں نوازشریف اور میرے کردار کا ذکر ہی نہیں تھا ،،ممبئی حملوں کے حوالے سے جو پاکستان کی عدالتوں میں کیس آگے نہیں بڑھا وہ ہندوستان کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے آگے نہیں بڑھا ۔

ان کا کہناتھا کہ میں نے سیاسی اختلاف کیاہے ، میں آج بھی سمجھتاہوں کہ نوازشریف کے فائدے میں کیاہے ، میں غلط ہو سکتاہوں لیکن کیا سیاسی جماعتیں اختلاف قبول نہیں کر سکتیں ۔یہ رول میرے لیے نیا نہیں تھا جن لوگوں کو گراں گزرا یا جنہوں نے ناراضگی کی انتہا تک پہنچا دیا ، یہ ذمہ دار ی ان کی ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ آرمی چیف افغانستان گئے تو مجھے لگا کہ کچھ ہونے والا ہے اور وہ ہو گیا ،،ملا فضل اللہ پر ڈرون حملہ تو بہت پہلے بھی ہو سکتا تھا ،،آرمی چیف کے افغانستان دورے کے بعد ہی کیوں مارا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مگر کسی کو فکر نہیں کہ ملک کو بند گلی میں دھکیلا جا رہا ہے،،میاں نواز شریف اس خطرے سے آگاہ ہیں انکو چاہیے کہ قوم کو بتائیں اور ملک کو اس خطرے سے نکالنے پر دھیان دیں،وطن کی فکر کر ناداں کہ مصیبت آنے والی ہے۔ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر مسئلہ ٹکٹ کا ہوتا جاکر انٹرویو دے دیتا ،انٹرویو نئے لوگوں کے ہوتے ہیں آٹھ آٹھ بار وزیر رہنے والوں کے نہیں،اگر مسلم لیگ ن کا ٹکٹ نہ لینا ہوتا تو پی ٹی آئی کا لے لیتا ،میں سیاست عزت کی خاطر کرتا ہوں،ہم سب کو اپنے سے زیادہ ملک کی فکر کرنی چاہیے ،پہلے بھی کہ چکا ہوں کہ پاکستان کے خلاف بڑی سازش ہو رہی ہے۔

ایک اور سوال پر چوہدری نثار نے کہا کہ پارٹی کے کرائے گئے تمام سرویز کے نتائج میرے حق میں رہے ،ایک حلقے میں سروے 88 لوگوں نے کہا کہ ہم صرف چوہدری نثار کو جانتے ہیں ،دوسرے حلقے میں 90 فیصد لوگوں نے کہا کہ ووٹ صرف چوہدری نثار کا ہے ،ٹیکسلا کے حلقے میں مسلم لیگ ن 2 فیصد پی ٹی آئی سے آگے ہے۔