کلثوم نوازکی بیماری ڈھونگ ہے،ہمارےبھی وہاں ذرائع ہیں،نعیم الحق

کلثوم نوازتیزی سےصحتیاب ہورہی ہیں، ہماری دعائیں ان کیساتھ ہیں،دعا ہے کہ کلثوم نوازجلدازجلد صحتیاب ہوکر وطن واپس آئیں۔بنوں میں میڈیا سے گفتگو

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ اتوار جون 20:50

کلثوم نوازکی بیماری ڈھونگ ہے،ہمارےبھی وہاں ذرائع ہیں،نعیم الحق
بنوں(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔24 جون 2018ء) : پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء نعیم الحق نے کہا ہے کہ کلثوم نواز کی بیماری ڈھونگ ہے،ہمارےبھی وہاں ذرائع ہیں،کلثوم نوازتیزی سےصحتیاب ہورہی ہیں، ہماری دعائیں ان کیساتھ ہیں،دعا ہے کہ کلثوم نوازجلدازجلد صحتیاب ہوکر وطن واپس آئیں۔ تحریک انصاف کے رہنماء نعیم الحق نے بنوں میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم کی اہلیہ کلثوم نوازتیزی سےصحتیاب ہورہی ہیں۔

کلثوم نواز کی بیماری ڈھونگ ہے،ہمارے بھی وہاں ذرائع ہیں۔ لیکن ہماری دعا ہے کہ کلثوم نوازجلد ازجلد صحتیاب ہوکر واپس آئیں۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ عمران خان بنوں سے الیکشن جے یو آئی کی کرپشن کےخلاف لڑ رہے ہیں۔ نعیم الحق نے کہا کہ نگراں وزیراعلیٰ دوست محمد اور انکی کابینہ قانون توڑ رہی ہے۔

(جاری ہے)

کےپی کابینہ لوگوں کو جے یوآئی کی جانب راغب کر رہی ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ چیف الیکشن کمشنرنوٹس لیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے کشمیرکازکو نقصان پہنچایا۔ 2013ء میں بھی انتخابات دھاندلی کا شکار ہوگئے تھے۔ نعیم الحق نے کہا کہ کراچی میں ایم کیوایم اور پنجاب میں ن لیگ نےدھاندلی کی۔ اس الیکشن میں پاک فوج کی جانب سے دھاندلی نہ ہونےکی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔ واضح رہے مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز لندن میں زیرعلاج ہیں۔

کلثوم نواز کینسر کے مرض میں مبتلا ہیں۔ کلثوم نواز لندن کے اسپتال میں وینٹی لیٹر پر تشویشناک حالت میں زیرعلاج ہیں۔ مریم نواز نے آج میڈیا کو بتایا کہ ابھی والدہ ہوش میں نہیں ہیں۔ مریم نواز نے کہا کہ میں نے امی کو آواز دی تو انہوں نے کچھ ردعمل کا اظہار کیا، مجھے لگتا ہے والدہ ہماری باتیں سن رہی ہیں۔۔مریم نواز نے کہا کہ وینٹی لیشن کم کرنے پر والدہ ردعمل ظاہر کرتی ہیں اور پھر کچھ نہ کچھ ایسا ہوجاتا ہے کہ وینٹی لیشن کا لیول بڑھانا پڑتا ہے۔۔مریم نواز کے مطابق ایک دو مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ انہوں نے والدہ کو آواز دی تو انہوں نے کچھ حرکت کی تاہم ڈاکٹروں سے جب ان کی طبیعت کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو وہ واضح جواب نہیں دیتے۔