عام انتخابات 2018ء نزدیک۔۔۔۔

پیپلز پارٹی نے باغیوں کو پُرکشش پیکجز دے کر منانیں کی کوششیں شروع کر دیں

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر جون 12:49

عام انتخابات 2018ء نزدیک۔۔۔۔
کراچی (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 25 جون 2018ء) : عام انتخابات 2018ء میں ایک ماہ کا وقت رہ گیا ہے،عام انتخابات کے پیش نظر سیاسی جماعتوں نے جہاں ٹکٹس جاری کر کے اپنے اُمیدواروں کو روکا وہیں باغی رہنماؤں کو روکنے کے لیے بھی کوششیں تیز کر دی ہیں، گذشتہ کچھ عرصے میں پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن کے اندرونی اختلافات کی خبریں سامنے آئیں تاہم اب پیپلز پارٹی بھی اندرونی اختلافات کا شکار ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ انہی اختلافات کی وجہ سے پیپلز پارٹی نے اپنے باغی رہنماؤں کو روکنے کے لیے پُر کشش پیکجز دینے کا منصوبہ بنایا ہے۔

قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی زیرِ صدارت پارٹی کی سینئر قیادت کی بلاول ہاؤس کراچی میں اہم بیٹھک ہوئی جس میں پارٹی کی انتخابی حکمت عملی، پارٹی ٹکٹ کی تقسیم پر ناراض اورباغی رہنماؤں کومنانے کے علاوہ سیاسی مخالفین کے انتخابات پر اثر انداز ہونے کے حربوں کا جائزہ لیا گیا۔

(جاری ہے)

اس اجلاس میں باغی رہنماؤں کو پُرکشش پیکیج دے کر منانے کی کوششوں پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس میں فریال تالپور، قائم علی شاہ، مراد علی شاہ، شیری رحمان، نوید قمر اور مصطفیٰ نواز کھوکھر دیگر شریک ہوئے اور پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو نے گھوٹکی کے مہر سرداراور دھاریجو، جامشورو سے ڈاکٹر سکندر شورو، بدین میں کمال چانگ اور پپو شاہ جبکہ میرپور خاص میں علی نواز شاہ، حیدر آباد میں 4 حصوں میں تقسیم پارٹی رہنماؤں، لیاری میں نبیل گبول کی مخالفت کرنے والے شاہ جہان بلوچ، دادو میں بریگیڈیئر طارق لاکھیر کی مخالفت میں سرگرم عمران ظفر لغاری اور فیاض بھٹ، نواب شاہ میں ڈاہری گروپ ،نوشہرو فیروزسے عبد الحق بھرٹ، تھرپارکر میں مہیش کمار ملہانی، کھٹو مل جیون، باغی امیدوار شیرمحمد، کراچی کے ضلع ملیر میں نظیر بھٹو اور حاجی مظفرشجرہ، قمبر شہداد کوٹ میں چانڈیو برادری کی ناراض اہم شخصیات کوہرقیمت پرمنانے کا ٹاسک پیپلزپارٹی سندھ کے صدرنثارکھوڑو اور دیگررہنماؤں کوسونپ دیا۔

ذرائع کے مطابق ناراض گروپوں نے پارٹی کی جانب سے پیش کیے جانے والے پُرکشش پیکج پرفی الحال غوراورمشاورت کے لیے مہلت طلب کی ہے تاہم تھرمیں ڈاکٹرمہیش ملانی اورشیرمحمد کے تحفظات دورکرلیے گئے ہیں۔ پیپلز پارٹی ذارئع کا کہنا ہے کہ مخصوص اور پُر کشش پیکجز دے کر پارٹی نے ناراض اور باغی رہنماؤں کو منانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس معاملے پر رہنماؤں کا رد عمل دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ باغی رہنما پارٹی چھوڑ کر نہیں جائیں گے اور قیادت ان کو منانے میں کامیاب ہو جائے گی۔