جواد احمد نے عمران خان اور خواجہ سعد رفیق کے خلاف الیکشن لڑنے کی وجہ بتا دی

پتہ تھا کہ جہاں سے بھی الیکشن لڑیں گے ہار جائیں گے اس لیے بڑے سیاسی رہنماؤں کے خلاف الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا تا کہ ایک بڑی خبر تو بن سکے،برابری پارٹی کے سربراہ جواد احمد کی گفتگو

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان منگل جون 12:40

جواد احمد نے عمران خان اور خواجہ سعد رفیق کے خلاف الیکشن لڑنے کی وجہ ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 جون2018ء) برابر پارٹی کے سربراہ اور معروف گلوکار سے ایک پروگرام کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان اور ن لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق کے خلاف الیکشن لڑنے کی وجہ پوچھی گئی کہ آپ کو ایسے حلقے سے الیکشن لڑنا چاہئیے تھا جہاں آپ کے لیے جیتنا آسان ہوتا لیکن عمران خان اور خواجہ سعد رفیق جیسے مضبوط امیدواروں کے خلاف ہی الیکشن لڑنے کا مشکل فیصلہ کیوں فیصلہ کیا؟۔

جس کا جواب دیتے ہوئے جواد احمد کا کہنا تھا کہ مجھے پتہ تھا یہاں سے میں نے الیکشن ہار جانا ہے۔لیکن فرض کریں میں کسی عام آدمی سے الیکشن لڑتا تو کہ اتنا جانا پہچانا نہ ہو تو ان کے خلاف الیکشن لڑ کر بھی میں ہارتاہوں تو انہوں نے تو الیکشن لڑنے کے لئے چار چار کروڑ روپے لگائے ہوں گے۔

(جاری ہے)

لیکن میں تو اتنے پیسے نہیں لگا سکتا۔اس لیے میری پارٹی نے فیصلہ کیا کہ ہمیں بڑے سیاسی رہنماؤں کے خلاف الیکشن لڑنا چاہئیے تا کہ ایک بڑی خبر تو بن سکے۔

کیونکہ ہم نے لانگ ٹرم چلنا ہے اور ہم اس ملک میں ایک ایسی پارٹی بنانا چاہتے ہیں جو عام طبقے کا تحفظ کرے اور انہی کو الیکشن لڑوا کر پارلیمنٹ میں لے کر جانا چاہئیے۔یاد رہے برابری پارٹی پاکستان قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے 15حلقوں سے الیکشن میں حصہ لے گی۔ چیئرمین برابری پارٹی جواد احمدلاہور سے قومی اسمبلی کے 2حلقوں این اے 131 ،132 اور کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقہ این ا ے 246 لیاری سے جنرل الیکشن میںحصہ لے رہے ہیں جبکہ راولپنڈی سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 62سے غلام مصطفی،جہلم سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 66 سے سید علی عباس،این اے 78نارووال سے ابوزر خالد،این اے 110 فیصل آباد سے ایم ندیم پاشا،این اے 121 شیخوپورہ سے محمد عثمان اور این اے 133لاہور سے نعمان حسین قریشی پارٹی ٹکٹ پر قومی اسمبلی کا الیکشن لڑیں گے جبکہ صوبائی اسمبلی پنجاب کے حلقوں پی پی 50 نارووال سے نجم الحسن ، پی پی 54گوجرانوالاسے مسز مدثر اقبال،پی پی 63 نوشہرہ ورکاں سے نثار احمد بزمی اور پی پی 136 مرید کے سے ذوہیب احمدجبکہ سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 7شکار پور سے زیب الرحمان مہر اور بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 28 کوئٹہ سے محمد عالم کاسی پارٹی ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں اس حوالے سے پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان تمام امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کو منظور کیا جاچکا ہے ان کا تعلق مڈل کلاس اور محنت کشوں سے اور یہ اپنے حلقہ انتخاب میں معروف ہیں اور یہی وجہ ہے کہ نوجوانوں کی کثیر تعداد انہیں ووٹ ڈالے گی تاکہ یہ منتخب ہوکر اسمبلیوں میں اپنے حقوق کے حوالے سے ہونے والی قانون سازی میں شریک ہوں ۔