ہارون بلور کی شہادت افسوس ناک اور قابل مذمت ہے، مولانا فضل الرحمان

بے گناہوں کی جان لینا انتہائی غیر اسلامی فعل ہے، ہمارے کلچر کو تباہ کرنے کیلئے یہودی لابی کے ایجنٹ سرگرم ہیں،سربراہ جے یو آئی کاخطاب

بدھ جولائی 20:54

ہارون بلور کی شہادت افسوس ناک اور قابل مذمت ہے، مولانا فضل الرحمان
ڈیرہ اسما عیل خان(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جولائی2018ء) متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ہارون بلور کی شہادت کو افسوس ناک قابل مذمت اور ملک دشمن عناصر کی سازش قرار دیتے ہوئے اسے حکومت کے سیکورٹی انتظامات پر بڑا سوالیہ نشان قرار دیا۔ان خیالات کااظہار انہوں نے ڈیرہ اسماعیل خان میں جے یو آئی کے رہنما چوہدری اشفاق ایڈوکیٹ کی جانب سے دیئے گئے استقبالیہ سے خطاب کے دوران کیا ۔

پاکستان مسلم لیگ کے صوبائی نائب صدر راجہ اختر علی۔ سٹی ون سے صوبائی اسمبلی کے امیدوار ملک مشتاق احمد ڈار۔چوہدری اشفاق ایڈوکیٹ ۔ مولانا قاری اعجاز فاروقی نے بھی خطاب کیا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بدامنی معاشی بدحالی ریاستوں کو تباہی کی جانب لے جاتی ہیں اسلام امن کا دین ہے بے گناہوں کی جان لینا انتہائی غیر اسلامی فعل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک سازش کے تحت جہاں ملک میں بدامنی کرائی جارہی ہے وہیں ہمارے کلچر کو بھی تباہ کرنے کے لیئے یہودی لابی کے ایجنٹ سرگرم ہیں عمران خان لندن میں میئر کے انتخابات میں پاکستانی مسلمان کے بجائے کنزرویٹو فرینڈز آف اسرائیل کے نمائندے مسٹر ذیک کی انتخابی مہم چلا کر ثابت کرچکے ہیں یہ وہ یہودی لابی کے حامی ہیں غیور عوام الیکشن میں انکو مسترد کرکے اپنی مذہبی شناخت پر حملہ آور بیرونی ایجنڈے کے حامیوں کو ناکام بنائیں اپنے شاندار مستقبل صوبہ کی ترقی کے لیئے قومی اور صوبائی اسمبلی کاووٹ متحدہ مجلس عمل کے امیدواروں کو دیں یم ایم اے کو حکومت دیں ملک سے کرپشن ختم ہوجائے گی، کسی این آر او،، کسی دشت گرد تنظیم، کسی آف شور میں ہمارا نام نہیں ہے ،انہوں نے کہا کہ حق و باطل کی جنگ ماضی میں تیر تلوار ، توپ بندوق سے لڑی جاتی تھی اور آج ووٹ کی پرچی اسی مقصد کیلئے استعمال ہوتی ہے پوری قوم کو ایک بار پھر عام انتخابات کے ذریعے پاکستان کے لیئے اپنی قیادت کا چناو کریں اس لحاظ سے یہ بہت اہم مرحلہ ہے ۔

ستر سال سے ملک پر زیادہ تر مذہب بے زار قوتیں برسر اقتدار رہیں نعرہ کلمہ طیبہ کا لگایا اور ملک میں اللہ اور اسکے رسول کی ناراضگی کو دعوت دینے والی پالیسیاں چلائیں اور جب ہم ملک کو اسلامی ملک عدل و انصاف کا ملک بنانے کا کہتے ہیں تو سیاستدانوں کاایک مخصوص طبقہ ہے جو ملک کے اسلامی تشخص کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، ہمارا مقابلہ ان قوتوں سے ہیں جو پاکستان کا مذہبی تشخص ختم کرنا چاہتے ہیں اور ایسی سوچ کے مناظر آپ ماضی میں اسلام آباد کی ڈی چوک میں دیکھ چکے ہیں اور ہمیں سوچنا ہوگا کہ کہیں ہم غلطی سے ان لوگوں کو تو ووٹ نہیں دے رہے جو مغربی تہذیب کے نمائندے ہیں اس پر فخر کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں سے غلطیاں ہوتی ہیں۔

تمام مسائل حل بھی نہیں ہوتے مگر ووٹ ڈالتے وقت یہ معیار نہیں ہونا چاہیئے بلکہ دین اور اسلام کی سربلندی کو مدنظر رکھنا چاہیئے،انہوں نے کہا کہ عوام کے آج کے مسائل کا بھی مجھے اداراک ہے ، ہم نے آپ کی آنے والی نسلوں کے مستقبل کو تابناک بنانے کے لیئے بھی عملی کام کیا ، سی پیک روٹ کو ڈیرہ سے گزارنے کی جنگ مجھے علم ہے میں نے کیسی لڑی، انہوں نے کہا کہ میں بڑے بول نہیں بولتا، ارادہ ہے اللہ کی مدد شامل حال ہوتی ہے حکومت سے ہم حکمت عملی سے مطالبات منوالیتے ہیں۔ آنے والے دور میں ان شا اللہ ترقی کا یہ سفر جاری رہے گا۔

Your Thoughts and Comments