سوسائٹی ایکٹ کی خلاف ورزی :وفاقی دارالحکومت میں قانونی و غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیز کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

وزیراعظم نے وزیرمملکت داخلہ کو ہائوسنگ سوسائٹیز میں کرپشن اور اس میں سہولیات لینے والے اسلام آباد انتظامیہ اور وفاقی پولیس کے افسران کی فہرست تیار کرکے ان کیخلاف سخت ترین اقدامات کی ہدایت کردی

اتوار نومبر 19:20

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 نومبر2018ء) وزارت داخلہ نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں قانونی و غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیز میں اسلام آباد انتظامیہ کے افسران کی ملی بھگت سے کرپشن اور سوسائٹی ایکٹ کی خلاف ورزیوں پر بھرپور کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔چیف کمشنر اسلام آباد نے آئی سی ٹی جبکہ آئی جی اسلام آباد نے پولیس افسران سے متعلق فہرست کی تیاری مکمل کرلی ہے ۔

انتہائی معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے وزیرمملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کو ہدایت کی ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں قانونی و غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیز میں کرپشن اور اس میں سہولیات لینے والے اسلام آباد انتظامیہ اور وفاقی پولیس کے افسران کی فہرست تیار کرکے ان کیخلاف سخت ترین اقدامات کیے جائیں ۔

(جاری ہے)

ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر یار آفریدی نے چیف کمشنر اسلام آباد اور آئی جی اسلام آباد کو ہدایت کی ہے کہ ایک ہفتہ کے اندر مذکورہ افسران کی فہرست مرتب کرکے دی جائے تاکہ ان کیخلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے ۔

وزارت داخلہ کو بتایا گیا ہے کہ کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی ایکٹ 1925ء کی دفعہ 10 کے تحت رجسٹرڈ ہونیوالی سوسائٹیز میں غیر قانونی اقدامات اس وقت شروع کیے جب انہیں آئی سی ٹی کے افسران کی پشت پناہی حاصل تھی جبکہ دوسری جانب زمینوں پر قبضہ کے حوالے سے وفاقی پولیس نے قرضہ مافیا کی بھرپور معاونت کی اور اس کے بدلے میں انہوں نے قیمتی پلاٹوں کیساتھ بھاری رشوت بھی وصول کی ۔اس حوالے سے چیف کمشنر اسلام آباد نے ایسے افسران کی فہرست تیار کرلی ہے جنہوں نے اعلیٰ عہدیداران کی آشیر باد سے اہم عہدے بھی حاصل کررکھے ہیں ۔