چوہان سے 'ن' نکال دیں تو کیا بنتا ہے؟

صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان کا مشاہد اللہ کو مناظرے کا چیلنج،ن لیگی رہنما مناظرے سے بچنے کے لیے فیاض الحسن چوہان کے نام کی بے حرمتی کرنے لگ گئے

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان پیر نومبر 12:29

چوہان سے 'ن' نکال دیں تو کیا بنتا ہے؟
لاہور ر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 نومبر2018ء) صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت فیاض الحسن چوہان نے سینیٹر مشاہد اللہ کو مناظرے کا چیلنج کیا تھا اور کہا تھا کہ میں آپ کو کسی بھی ٹی وی پر مناظرے کا چیلنج کرتا ہوں مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ جو آپ کا کالج روڈ پر تین چار مرلے کا گھر ہوتا تھا۔جس پر اینکر منصور علی خان نےمشاہد اللہ کو کہا کہ اگر آپ تحریک انصاف کے رہنما کے ساتھ چیلنج کرنا چاہیں تو میرا پروگرام اور چینل آپ کے لیے حاضر ہے۔

جس پر مشاہد اللہ کا کہنا تھا کہ جن ملکوں میں مناظرے ہوتے ہیں وہاں خون خرابہ بھی ہوتا ہے اور سروں کے مینار بھی بنتے ہیں۔ارو یہ جو فیاض الحسن چوہان ہیں اگر ان کے نام سے 'ن' نکال دیں تو جو بچتا ہے ان کو وہ سمجھ لینا چاہئیے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جب فیاض الحسن چوہان وزیر بنے تھے تو دوسرے دن ہی فلمسٹار میگا نے انہیں الٹا لٹکا دیا تھا اور اپنا بیان واپس لینے پر مجبور کر دیا تھا بلا ایسے لوگ میرے ساتھ کیا مناظرہ کریں گے۔

(جاری ہے)

واضح رہے صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ میں نے تین دن پہلے سینیٹر مشاہد اللہ خان سے ایک پریس کانفرنس کے دوران چند سوال پوچھے تھے میں اب تک ان کے جوابات کے انتظار میں ہوں۔یہ بات انہوں نے مشاہد اللہ خان کے ایک بیان کے ردعمل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ہماریاپوزیشن جماعتوں کے قائدین خواہ وہ آصف زرداری ہو، نواز شریف ہو، شہباز شریف ہو یا حمزہ شہباز ہو، نے اپنا نام جمہوریت،جمہوری اقدار یا جمہوری روایات رکھا ہوا ہے۔

لہزا جب ان کی کرپشن کی لمبی تاریخ کا حساب مانگا جائے تو ساتھ ہی جمہوریت اور جمہوری اقدار خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔ ایسے موقع پر مشاہد اللہ جیسے لوگ منظر عام پر آکر اپنے لیڈران کی بے لاگ کرپشن پر پردہ ڈالنے لگتے ہیں۔ مشاہداللہ صاحب کو سینیٹر کی سیٹ ان کی ایسی خدمات کے عوض ہی عطا کی گئی ہے۔میرا ابھی بھی مشاہد اللہ سے مطالبہ ہے کہ میرے ان سوالات کے جوابات دیں کہ کس منہ سے وہ سینیٹ کے فلور پر کھڑے ہو کر وزیر اعظم عمران خان اور پی ٹی آئی پر کرپشن اور اقربا پروری کا الزام لگاتے ہیں کیا انہوں نے اپنے دو بھائیوں کو گزشتہ پچیس سالوں میں پی آئی اے میں غیر قانونی ترقیاں نہیں دلوائیں اپنی بیٹی کو ایم این اے نہیں بنوایا کیا انہوں نے 80 لاکھ روپے کے سرکاری خرچے سے اپنا علاج نہیں کروایا اور سب سے بڑھ کے کراچی کے رہائشی ہونے کے باوجود پنجاب کے کوٹے پر سینیٹر نہیں بنی اس سب کے باوجودکرپشن اور اقربا پروری کا الزام عمران خان اور پی ٹی آئی پر لگاتے ان کو شرم آنی چاہیے۔

فیاض الحسن چوہان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے اس لئے ان کو مناظرے کا چیلنج دیا تھا کیونکہ میں مشاہد اللہ کا سارا کچہ چٹھہ جانتا ہوں۔ میرا دعوی ہے کہ یہ کسی حلقے سے کونسلر کی سیٹ بھی نہیں جیت سکتے۔ میں ان کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ جب یہ وزیر ماحولیات تھے تو بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے ریاستی اداروں کے خلاف رقیق الزامات لگائے تھے۔