
خاشقجی قتل، سعودی فرمانروا نے شہزادہ محمد بن سلمان کی حمایت کردی
ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کیساتھ ہوں، ریاست انصاف اور مساوات کے اسلامی اصولوں کی بنیاد پر قیام عمل میں آئی تھی ،ہمیں انصاف اور پبلک پراسیکیوشن کی موجودہ کوششوں پر فخر ہے، ہم اس امر کو یقینی بناتے ہیں ملک میں اللہ کے قانون کو بغیر امتیاز کے نفاذ سے کبھی انحراف نہیں کرینگے، سعودی فرمانروا شاہ سلمان کا شوریٰ کونسل کے سالانہ اجلاس سے خطاب
منگل 20 نومبر 2018 23:10

(جاری ہے)
جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق پراسیکیوٹر نے 5 افراد کی سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا جبکہ11 افراد کیخلاف مقدمے کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ مجموعی طور پر اس قبل میں 21 افراد میں ملوث تھے۔
82 سالہ سعودی فرمانروا نے شوریٰ کونسل کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست انصاف اور مساوات کے اسلامی اصولوں کی بنیاد پر قیام عمل میں آئی تھی اور ہمیں انصاف اور پبلک پراسیکیوشن کی موجودہ کوششوں پر فخر ہے۔انہوں نے اپنی تقریر میں جمال خاشقجی کے قتل کا براہ راست حوالہ دیئے بغیر کہا کہ ہم اس امر کو یقینی بناتے ہیں کہ ملک میں اللہ کے قانون کو بغیر امتیاز کے نفاذ سے کبھی انحراف نہیں کریں گے۔خیال رہے کہ سعودی عرب کے شاہی نظام میں صرف بادشاہ کے پاس اختیار ہے کہ وہ ولی عہد شہزادے محمد بن سلمان کو بے دخل کردے جنہیں جمال خاشقجی کے قتل پر شدید عالمی تنقید کا سامنا ہے لیکن انہوں نے بارہا یہ اشارہ دیا ہے کہ ان کا ایسا کوئی ارادہ نہیں۔العربیہ ٹیلی ویژن کے مطابق جمال خاشقجی کے قتل کے بعد پہلی مرتبہ محمد بن سلمان ارجنٹائن میں منعقد ہونیوالے 20 ممالک کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔30 نومبر سے شروع ہونیوالے دو روزہ اجلاس میں محمد بن سلمان ، ترکی ، امریکا اور دیگر یورپی ممالک کے رہنماؤں سے براہِ راست ملاقات کریں گے۔امریکہ کی رائس یونیورسٹیز بیکز انسٹیٹیوٹ کے کرسٹین رچسن نے کہا ہے کہ ولی عہد محمد بن سلمان نے عالمی برادری کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ جمال خاشقجی کے معاملے میں کچھ بھی کہیں یا کریں اس کا اثر سعودی عرب کے فیصلے پر نہیں ہوگا۔استنبول میں سعودی قونصل خانے میں جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق ترکی اور امریکہ کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں، اس کیساتھ ہی سعودی عرب کو عالمی برادری کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا بھی ہے۔2 روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے حوالے سے ان کی انتظامیہ کی رپورٹ اگلے 2 روز میں جاری کی جائیگی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ سعودی ولی عہد کے حوالے سے اب تک ہمیں یہ کہا گیا ہے کہ ان کااس میں کوئی کردار نہیں تھا تاہم اصل بات کی کھوج لگا رہے ہیں۔علاوہ ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جمال خاشقجی کے قتل کی آڈیو ریکارڈنگ پر مکمل بریف کیا گیا تھا لیکن وہ خود اس ٹیپ کو نہیں سننا چاہتے۔مزید بین الاقوامی خبریں
-
مودی کے روئیے سے ٹرمپ مشتعل، پاکستان امریکا کا پسندیدہ ملک بن گیا
-
ایران یورینیم افزودگی پرخدشات دورکرے، برطانیہ، جرمنی، فرانس
-
عمان کا غیرملکی سرمایہ کاروں کیلئے گولڈن ریزیڈنسی کا اعلان
-
بھارت، کارڈئیک سرجن دوران ڈیوٹی دل کا دورہ پڑنے سے چل بسا
-
تھائی عدالت نے فون کال لیک ہونے پروزیراعظم کو برطرف کردیا
-
امریکی کورٹ نے ٹرمپ کے زیادہ ترٹیرف کو غیرقانونی قرار دے دیا
-
اطالوی وزیرِاعظم جارجیا میلونی کی ایڈٹ شدہ تصاویر وائرل، ردعمل سامنے آگیا
-
جنگی جنون میں مبتلا مودی سرکار نئی کمانڈو بٹالینز بنانے میں مصروف
-
یورپی ممالک نے ایران کو 3 شرائط پوری کرنے پر پابندیوں میں تاخیرکی پیشکش کردی
-
زیلنسکی، پیوٹن اب بھی صرف جنگ جاری رکھنے کے خواہاں ہیں
-
ایران کی جوہری پروگرام پر مذاکرات کی بحالی کے لیے آمادگی
-
امریکی ووٹرز کی اکثریت نے اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے قتل عام کو نسل کٴْشی قرار دیدیا
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2025, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.