پی ٹی ایم وہ لائن کراس نہ کرےکہ طاقت کا استعمال کرنا پڑے،پاک فوج

ہماری تحقیقات چل رہی ہیں کہ پی ٹی ایم کیسے چل رہی ہے؟ پی ٹی ایم نے تشدد کا راستہ نہیں زہرافشانی کی، برداشت کررہے ہیں، لیکن اب وہ دوسرے راستے پرچل پڑے ہیں، بہترہے واپس آجائیں، پی ٹی ایم کے تین مطالبات پرعمل کیا جارہا ہے۔ترجمان پاک فوج میجرجنرل آصف غفور کی پریس بریفنگ

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات دسمبر 15:46

پی ٹی ایم وہ لائن کراس نہ کرےکہ طاقت کا استعمال کرنا پڑے،پاک فوج
راولپنڈی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔06 دسمبر 2018ء) ترجمان پاک فوج میجرجنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پی ٹی ایم وہ لائن کراس نہ کرے کہ طاقت کا استعمال کرنا پڑے، ہماری تحقیقات چل رہی ہیں کہ پی ٹی ایم کیسے چل رہی ہے؟ پی ٹی ایم نے تشددکا راستہ نہیں زہرافشانی کی، برداشت کررہے ہیں،لیکن اب وہ دوسرے راستے پرچل پڑے ہیں، بہترہے واپس آجائیں، پی ٹی ایم کے تین مطالبات پرعمل کیا جارہا ہے۔

انہوں نے آج یہاں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی صورتحال پر بات چیت کرنا چاہتا ہوں۔آج سرحدوں اور ملکی صورتحا ل سے آگاہ کروں گا۔جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں میں اضافہ ہورہا ہے۔سرحدوں پر ملٹری کو نشانہ نہیں بنایا جارہا ہے۔بھارتی فورسز جان بوجھ کرشہری آبادی کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

(جاری ہے)

2017اور 2018ء میں سیز فائرمعاہدے کی زیادہ خلاف ورزیاں ہوئیں۔

2018ء میں 2593بار سیز فائر کی خلاف ورزی کی گئی۔2018ء میں55شہری شہید اور 300سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔حکومت پاکستان نے بھارت کے ساتھ امن کیلئے بہت سارے معاملات پر پہل کی ہے۔لیکن بھارت کی جانب سے مذاکرات پر رضامندی کا مظاہرہ نہیں کیا جاتا۔انہوں نے کہا کہ بھارت کرتارپورکو منفی اندازمیں پیش کررہا ہے۔کرتارپور راہداری سے پاکستان سے کوئی بھارت نہیں جاسکے گا۔

روزانہ کی بنیاد پر4ہزار سکھ یاتری آجاسکیں گے۔سکھ برادری کیلئے ایک راستہ ہوگا۔راستے پر خاردار تاریں لگائی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ 2لاکھ سے زائد فورسز فاٹا میں تعینات ہیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں رینجرز نے قربانیاں دے کرپچھلے سالوں میں کراچی کی روشنیاں لوٹائی ہیں۔اس کے ساتھ دیگرسیکیورٹی اداروں نے بھی بڑا احسن کام کیا ہے۔کراچی میں 99فیصد دہشتگردی میں کمی آئی ہے۔

کراچی ایک معاشی انجن ہے۔کراچی ایک زما نے میں جرائم میں نمبر6جبکہ آج 67نمبر پر ہے۔حکومت پاکستان کا فوکس بلوچستان پر ہے تاکہ وہاں امن مستحکم ہو۔دہشتگردی کیخلاف زیادہ جنگ کے پی میں لڑی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ردالفساد کے تحت 44بڑے آپریشن کیے ہیں۔42ہزار دوسرے کیے ۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی ایم کی تین ڈیمانڈ تھیں۔ جن میں چیک پوسٹوں میں کمی، مسنگ پرسنز، اور بارودی سرنگوں میں کمی کرناشامل ہیں۔

جیسے جیسے حالات بہترہوئے ہیں افواج پاکستان نے چیک پوسٹوں میں کمی کی ہے۔2016ء میں 469چیک پوسٹ تھیں۔لیکن آج 300سے زائد ہیں۔لیکن وہاں جوچیک پوسٹ لگی ہوئی ہیں وہاں جو بھی سپاہی کھڑا ہوا ہے وہ ملک کے کسی بھی حصے سے تعلق رکھتا ہے لیکن وہ وہاں کی آبادی کی حفاظت کیلئے کھڑا ہے۔43ٹیمیں انجینئرزکی ہیں جو بارودی سرنگوں کو کلیئر کرہی ہیں۔ظاہر ہے وہاں جنگ ہوئی ہے اس سے اس علاقے کو کلیئر کرنا ضروری ہے۔

بارودی سرنگوں میں ہمارے فوجی بھی شہید ہوئے اور زخمی بھی ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جسٹس رجاوید اقبال کی سربراہی میں 2011ء میں کمیشن کام کررہا ہے۔ایک کمیشن میں کیسز چل رہے ہیں دوسرا عدالتوں میں کام ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن اور عدالتوں میں 7ہزار کے قریب کیسز آئے۔ یہ کیسز روزانہ کی بنیاد پر سنے جارہے ہیں۔ان کیسز میں 4ہزار کیسز حل ہوچکے ہیں۔

جبکہ3ہزار سے زائد کیسز عدالت یا کمیشن کے پاس ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم دیکھیں توجنگ ہوئی ہے۔ جنگ میں بہت سارے لوگ شہید اور لاپتا بھی ہوسکتے ہیں۔جنگ میں 70ہزارسے زائد جانیں گئی ہیں۔ہم نے پی ٹی ایم کے ساتھ تاحال ماں جیسا سلوک کیا ہے۔بہت سارے لوگوں نے کہا کہ آپ پی ٹی ایم کیخلاف ایکشن کیوں نہیں لیتے؟ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ ان علاقوں میں جنگ ہوئی انہوں نے بہت برداشت کیا۔

تاہم ابھی تک انہوں نے کوئی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی بلکہ زبان ضرور استعمال کی ہے۔لیکن اب یہ لوگ جس طرف جارہے ہیں وہ تشویش ناک ہے۔ہم درخواست کرتے ہیں کہ وہ واپس آجائیں۔ہماری تحقیقات چل رہی ہیں کہ پی ٹی ایم کیسے چل رہی ہے؟پی ٹی ایم وہ لائن کراس نہ کرے جس سے اس کا نقصان ہو۔اور طاقت کا استعمال کرنا پڑے۔