لاہور ،قبائلی علاقے تاحال متبادل نظام اور بجٹ سے محروم ہیں،سینیٹر سراج الحق

وفاقی اور صوبائی حکومتیں فوری طور پر قبائلی عوام کی آبادکاری اور بنیادی سہولتوں پر توجہ دیں ، خیبر پختونخواہ میں انضمام کے بعدسے حکومتی اعلانات پر عملدرآمد کے منتظر ہیں،امیر جماعت اسلامی

جمعرات دسمبر 23:05

لاہور ،قبائلی علاقے تاحال متبادل نظام اور بجٹ سے محروم ہیں،سینیٹر ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 13 دسمبر2018ء) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سر اج الحق نے کہاہے قبائلی علاقے خیبر پختونخواہ میں انضمام کے بعدسے حکومتی اعلانات پر عملدرآمد کے منتظر ہیں ۔قبائلی علاقے تاحال متبادل نظام اور بجٹ سے محروم ہیں ۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں فوری طور پر قبائلی عوام کی آبادکاری اور بنیادی سہولتوں پر توجہ دیں ۔

قبائلی علاقے اب باقاعدہ خیبر پختونخواہ کا حصہ بن گئے ہیں مگر حکومت نے اب تک ان علاقوں کو متبادل نظام دیا ہے نہ بجٹ میں قبائلی علاقوں کو کوئی حصہ دیا گیاہے ۔ سالہاسال سے جاری بدامنی اور آپریشنوں کی وجہ سے یہ علاقے معاشی طور پر تباہ ہوچکے ہیں ۔ تعلیمی ادارے ، ہسپتال ، پل ، سڑکیں اور مارکیٹیں اب کھنڈرات بن چکی ہیں لیکن حکومت نے اب تک قبائلی عوام کی آباد کاری اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کی طرف کوئی توجہ نھیں دی جس سے قبائل دوبارہ مایوسی کی طرف جارہے ہیں ۔

(جاری ہے)

ان خیالات کااظہار انہوںنے باجوڑ ایجنسی میں اجتماع ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ قبائلی علاقوں سے ایف سی آر کے نظام کے خاتمہ کے بعد ان علاقوں کے خیبر پختونخواہ میں انضمام کے موقع پر ہی ان علاقوں کے انتظام و انصرام کے لیے متبادل نظام دینا حکومت کی ذمہ داری تھی جسے اب تک پورا نہیں کیا گیا یہی وجہ ہے کہ اب تک ان علاقوں میں بلدیاتی اور صوبائی انتخابات کے لیے کوئی تیاری نہیں اور لوگ پریشانی اور مایوسی کا شکار ہیں ۔

سینیٹر سراج الحق نے مطالبہ کیاکہ حکومت قبائلی علاقوں کو فوری طور پر وفاقی و صوبائی قوانین کی عملداری کو یقینی بنائے اور قبائلی عوام کو ان کے وہ تمام شہری حقوق دیے جائیں جو اسلام آباد ، لاہور اور کراچی کے عوام کو حاصل ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ وفاقی و صوبائی حکومتیں مل کر قبائلی علاقوں میں انفراسٹرکچر کی بحالی کی طرف توجہ دیں ۔ سڑکوں اور پلوں کی بحالی ، تعلیم و صحت کے اداروں کی تعمیر اور بحالی ، مارکیٹوں دکانوں کی تعمیر اور جن لوگوں کے گھر مسمار کر دیے گئے ہیں ، ان کے لیے گھروں کی ہنگامی بنیادوں پر تعمیر نہ کی گئی تو بہت بڑا انسانی المیہ پیدا ہوسکتاہے ۔