Live Updates

بجٹ زمینی حقائق کے مطابق نہیں بلکہ اس میں بلنڈروں کی سنچری کی گئی ‘سابق چیئرمین چیمبر آف کامرس سرگودھا

چینی گھی مشروبات سمیت روزمرہ کے استعمال کی اشیاء ضروریہ کی قیمتوں ھوشرباء اضافے سے عام آدمی کی زندگی اجیرن ہوگی

بدھ جون 17:44

سرگودھا(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 12 جون2019ء) سرگودھا میں سابق چئرمین لوکل ٹیکس کمیٹی سرگودھا چیمبر آف کامرس وسابق جنرل سیکرٹری انجمن تاجران ضلع سرگودھا میاں عبدالخالق نے وفاقی بجٹ کو عقل سے مآوراء اور پی ٹی آئی کے منشور سے انحراف قرار دیتے ھوئے کہا کہ بجٹ زمینی حقائق کے مطابق نہیں بلکہ اس میں بلنڈروں کی سنچری کی گئی ھے بادی النظر میں یہ بجٹ کسی ایسے ملک کا بجٹ محسوس ھوتا ہے جسکی حکومت کو عوام سے کوئی سروکار نہیں چینی گھی مشروبات سمیت روزمرہ کے استعمال کی اشیاء ضروریہ کی قیمتوں ھوشرباء اضافے سے عام آدمی کی زندگی اجیرن ھوگی۔

انہوں نے بجٹ پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس بجٹ سے بیروزگاری میں اضافہ ھوگا ایک بہت بڑی تعداد مزید خط غربت سے نیچے چلی جائے گی۔

(جاری ہے)

بجلی گیس پٹرولیم مصنوعات پرپے درپے اضافے سے معاشی سرگرمیاں مفلوج ھو کر رہ جائیں گئیں اور عوام کے گرد ٹیکس کے نظام کے شکنجے کسنے کیلے عملی اقدامات کا آغاز کر دیا گیا جسکی بدولت بنکنگ سیکٹر جو پہلے ہی مشکلات کا شکار ھے مفلوج ھو کر رہ جائیگا۔

انہوں نے کہا کہ فارن ریمنٹس کو مشکل بنانے سے حکومت کو کچھ حاصل نہی ھوگا لوگ متبادل ہنڈی و غیرقانونی زرائع فروغ پانے سے عوام کی زندگیاں اور مال واسباب سیکورٹی رسک پہ ھوں گے۔اعلی سطح پر ٹیکس کے حصول کیلیے قومی جزبہ بیدار کرنیکی بجائے ہراسمنٹ دھونس دھاندلی اور جبرواستبداد کا مظاہرہ کیا گیا ھے جس کی بدولت چھوٹے تاجروں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد مجروح ھوگا تنخواہ دار طبقہ کرنسی ڈیویلیویشن سے مشکلات کا شکار تھا ان پہ مزید بوجھ لاد کر اندھیروں میں دھکیل دیا گیا ھے اس بجٹ کو نا ہی عوام دوست نہی کہا جاسکتا چھوٹے کاروباری طبقہ کو ہراسمنٹ کانشانہ بنانے کی سعی کی گء ھے وطن عزیز میں کاروبار کی حالت پہلے ہی ناگفتبہ ھے ایسے میں اضافی بوجھ مرے کو مزید مارنے کے مترادف ھوگا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو کاروبار کے فروغ کیلئے اقدامات کی ضرورت تھی جن کو یکسر نظرانداز کردیا گیا ھے جب کاروبار ہی نہی چلے گا تو ٹیکس زمین نہی اگلے گء۔ گریٹ 21اورگریٹ 22 کی تنخواہوں میں عدم اضافے کا اعلان مضحکہ خیز ھے وزراء کی تنخواھوں میں دس فیصد کٹوتی سے تمسخر اڑایاگیا ھے کیونکہ ان کی تنخواہیں ہزاروں سے بڑھا کر لاکھوں میں انگریز کردی گئیں تھیں دس پرسنٹ کمی اونٹ کے منہ سے زیرہ واپس لیکر مزاق کیا گیا ھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس موقع پر مسلح افواج لائق تحسین ہیں کہ انہوں وطن سے محبت کا آج بھی خراج ادا کیا جبکہ ممبران پنجاب اسمبلی اور چیف منسٹر کے دس گنا مراعاتی ازخود اضافہ میں کوئی کمی نہی کی گی اہداف پورا نہ ھونیکی وجوھات سے آگاہ نہی کیا گیا بجٹ تقریر میں واپڈہ بلوں میں وصول شدہ انکم ٹیکس کی مد نہیں بتائی گی بجٹ میں منشور سے انحراف کرتے ھوئے کسی ایک نوکری کی نوید بھی نہی دی گئی نئے ٹیکس گزاروں کی تلاش کیلیے کوئی سروے واقدامات کی بجائے پہلے ٹیکس ادا کرنیوالے ٹیکس گزاروں پہ عرصہ حیات تنگ کرنیکی سعی ھے بجٹ مجموعی نہی کلی طور پر غیر متوازن ھے پاکستان بھر کے کسی چیمبر کسی انجمن یا کسی بھی کاروباری فرد نے حمایت نہی کی یہ ایک اجتماعی ریجیکشن ھے اگر بجٹ پہ بحث کرکے جٹکے سے پاس کروانے کی بجائے مکمل ھم آہنگی کیلیے ترامیم کی جائیں بصورت دیگر یہ انارکی کاسبب بنے گا بجٹ کی مقبولیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ھے کہ پرائمنسٹر کی اکانومی ٹیم عوام کے مسائل سمجھنے اور بجٹ کوعوامی بنانے میں ناکام رہی ھے اسی لیے محترم وزیراعظم کو بار بار ویڈیو پیغام ھول سیل ٹویٹس اور قوم سے خطاب کا سہارا لینا پڑ رہاھے انہوں نے حکومتی زعماء سے استدعا کی کہ وہ بجٹ کو قابل عمل اور قابل نافذ کروانے کیلے زمینی حقائق کے مطابق ترامیم سجسٹ کریں بصورت دیگر نتائج اندھی بوڑھیا کے چکی پیسنے سے مختلف نہی ھونگے۔

بجٹ 20-2019ء سے متعلق تازہ ترین معلومات