احسن اقبال کا چیف الیکشن کمشنر کے خلاف حکومتی ریفرنس کے حوالے سے خبروں پر سخت تشویش کااظہار

فاسشٹ حکومت نے اپنے چہرے سے ایک اور پردہ اتار دیا،ہمارے اراکین کے پروڈکشن آر ڈر جاری نہیں کئے جارہے ہیں ، ہم اراکین پارلیمنٹ کے حقوق کی حفاظت کرینگے ،حکومت نے مشیروں اور وزیروں کے لئے کئی سو ارب کا نیا پیکیج جاری کر دیا ہے،حکومت کی طرف سے میڈیا سینسرشپ قابل مذمت ہے، میڈیا سے گفتگو صدر مملکت کے خطاب کے دور ان ہائوس مکمل نہیں تھا، آصف زر داری کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے جانے چاہئیں تھے ، راجہ پرویز اشرف صدر مملکت نے آئین کی خلاف ورزیاں کی ہیں، موجودہ صدر تقریر کرتے ،سابق صدر سنتے تو پارلیمان کی عزت میں اضافہ ہوتا، میڈیا سے گفتگو ہمیں اندر ڈالنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں ،ملک موجودہ حکومت کے ہاتھوں مقبوضہ ہے، اکتوبر کا مہینہ اس حکومت سے آزادی کا مہینہ ہوگا ، مولانا اسعدمحمود

جمعرات ستمبر 23:02

احسن اقبال کا چیف الیکشن کمشنر کے خلاف حکومتی ریفرنس کے حوالے سے خبروں ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 12 ستمبر2019ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف حکومتی ریفرنس کے حوالے سے خبروں پر سخت تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ فاسشٹ حکومت نے اپنے چہرے سے ایک اور پردہ اتار دیا،ہمارے اراکین کے پروڈکشن آر ڈر جاری نہیں کئے جارہے ہیں ، ہم اراکین پارلیمنٹ کے حقوق کی حفاظت کرینگے ،حکومت نے مشیروں اور وزیروں کے لئے کئی سو ارب کا نیا پیکج جاری کر دیا ہے،حکومت کی طرف سے میڈیا سینسرشپ قابل مذمت ہے۔

پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہاکہ دوسرے پارلیمانی سال کے موقع پر صدر مملکت کا خطاب تھا،ہمیں پارلیمنٹ میں اتفاق رائے کی ضرورت تھی مگر صدر مملکت نے آخری وقت میں ایسے اقدامات اٹھائے جس سے اس عہدے مرال بھی کم ہوا۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ حکومت نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف بھی ریفرنس تیار کر کے بھیج دیا ہے۔

انہوںنے کہاکہ حکومت نے پہلے ججز اور اب چیف الیکشن کمیشنر کے خلاف ریفرنس بھیجے۔انہوںنے کہاکہ فاسشٹ حکومت نے اپنے چہرے سے ایک اور پردہ اتار دیا۔انہوںنے کہاکہ آخری وقت میں اسپیکر کو اسیران جمہوریت کے پروڈکشن آرڈر ودڈرا کرنے پر مجبور کیا گیا۔انہوںنے کہاکہ ہمیں اراکین پارلیمنٹ کے حقوق کی حفاظت کرنی ہے، گزشتہ ایک ہفتے میں کرپشن کے دو بڑے سکینڈل سامنے آ چکے ہیں۔

انہوںنے کہاکہ حکومت نے تین سو ارب اپنے لوگوں کو دینے کی کوشش کی، حکومت نے مشیروں اور وزیروں کے لئے کئی سو ارب کا نیا پیکج جاری کر دیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ حکومت کی طرف سے میڈیا سینسرشپ قابل مذمت ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہم آئین کی خلاف ورزی کے مرتکب صدر مملکت سے وضاحت طلب کرنا چاہتے تھے ۔ سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ صدر مملکت نے پارلیمان سے خطاب کرکے پارلیمانی سال کا آغاز کرنا تھا، ہم نے اسپیکر سے گزارش کی کہ صدر کے خطاب سے پہلے چند نقاط اپوزیشن پیش کرنا چاہتی ہے۔

راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ صدر مملکت نے آئین کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔ راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ صدر مملکت کے خطاب کے دور ان ہائوس مکمل نہیں تھا ،آصف علی زرداری راولپنڈی میں تھے انہیں پروڈکشن آدر دینا چاہئے تھا ۔ انہوںنے کہاکہ موجودہ صدر تقریر کرتے اور سابق صدر تقریر سنتے تو پارلیمان کی عزت میں اضافہ ہوتا۔راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ آج جو کچھ بھی ہوا اس کی ذمہ دار حکومت ہے۔

انہوںنے کہاکہ ہم جب بھی عوام کے مسائل ہر بات کرتے ہیں یہ اس طرح کی حرکتیں کرتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ گزشتہ روز چیف جسٹس نے بھی کہا سلیکٹڈ احتساب انتہائی خطرناک ہے۔ انہوںنے کہاکہ حکومت کراچی کو قبضے میں لینا چاہ رہی ہے ، کچرہ اٹھانا تو میونسپل والوں کا کام ہے۔راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ یہ کچرے کے بہانے کراچی پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ آج کراچی تو کل پورے سندھ پر قبضہ کریں گے۔

انہوںنے کہاکہ آپ آگ کے ساتھ کھیل رہے ہیں ملک کی سالمیت کے خلاف مت کھیلیں۔ مولانا اسعد محمود نے کہاکہ تمام فیصلے صدارتی محل سے آرڈیننس کے تحت صادر کیے جاتے ہیں، یہ حکومت چور دروازے سے آئی ہے۔مولانا اسد محمود نے کہاکہ ہم اس پارلیمان کو نہیں مانتے، ہمیں اندر ڈالنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں ،ملک موجودہ حکومت کے ہاتھوں مقبوضہ ہے۔انہوںنے کہاکہ اکتوبر کا مہینہ اس حکومت سے آزادی کا مہینہ ہوگا۔