افغان حکومت کی شرکت کے بغیر مذاکراتی عمل بے سود ثابت ہوگا،امیر حیدر خان ہوتی

روس،چین و امریکہ سمیت پاکستان کو امن مذاکراتی عمل میں کلیدی کردار ادا کرنا چاہئے، سرحد کے دونوں جانب پختونوں کا بہت خون بہہ چکا ہے، یہ سلسلہ بند ہونا چاہئے،مرکزی سینئر نائب صدر عوامی نیشنل پارٹی

اتوار ستمبر 19:40

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 15 ستمبر2019ء) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کیلئے مذاکراتی عمل کی بحالی ضروری ہے اور روس،چین و امریکہ سمیت پاکستان کو اس مذاکراتی عمل میں کلیدی کردار ادا کرنا چاہئے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے شیرین کوٹو نوشہرہ میں نجی پروگرام میں شرکت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے اکابرین نے چالیس سال قبل افغان جنگ کو روس اور امریکہ کی جنگ قرار دیتے ہوئے متنبہ کیا تھا کہ یہ جہاد نہیں فساد ہے ،لیکن بدقسمتی سے ان پر کفر اور غداری کے فتوے لگائے گئے لیکن آج دنیا انہی کے بیانیے کی معترف ہے،انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن کے بغیر پاکستان میں امن کا قیام ممکن نہیں ،دونوں ملکوں کا امن ایک دوسرے سے جڑا ہے، امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ سرحد کے دونوں جانب پختونوں کا بہت خون بہہ چکا ہے لہٰذا اب یہ سلسلہ بند ہونا چاہئے ، انہوں نے امن مذاکرات میں اصل فریق افغان حکومت اور افغانستان کی دیگر نمائندہ قوتوں کی شرکت پر زور دیا اور کہا کہ مذاکرات میں امریکہ فریق بننے کی بجائے ثالث کا کردار ادا کرے ،انہوں نے کہا کہ افغان حکومت کی شرکت کے بغیر مذاکراتی عمل بے سود ثابت ہوگا،ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ،کشمیر میں کرفیو ختم کر کے کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جائے، انہوں نے کہا کہ بھارت نے جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی تو ملک کے دفاع کیلئے حکومت سے پہلے اپوزیشن جماعتیں میدان میں ہونگی، اکتوبر میں ہونے والے احتجاج بارے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب ملک میں انصاف کا نظام نہ ہو اورسیاسی روابط کی بجائے سیاسی انتقام کا وطیرہ اپنا لیا جائے تو احتجاج کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہتا، امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ ہمارا احتجاج جمہوری اور پر امن ہوگا، ،حکومت منتخب ہو کر نہیں آئی اسے عوام پر زبردستی مسلط کیا گیا ہے اور ان مسلط کردہ کٹھ پتلی حکومت کی پالیسیوں سے تمام طبقہ فکر کے لوگ پریشان ہیں ،معاشی صورتحال تشویشناک ہے ، غریب دو وقت کی روٹی کو ترس رہا ہے جبکہ تاجر طبقہ ذہنی کرب میں مبتلا ملک چھوڑنے کو ترجیح دے رہا ہے، انہوں نے کہا کہ ملک کے اہم ستون آزاد نہیں رہے ، میڈیا کی آزادی سلب کر لی گئی حالانکہ جمہوریت میں ایسا نہیں ہوتا، انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ریفرنس کی تیاری جسٹس فائز عیسیٰ کے سلسلے کی کڑی ہے، ملک میں انصاف کے تقاضے پورے کرنے والوں کیلئے کوئی جگہ نہیں، انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے لئے خود مسائل پیدا کر رہی ہے اسے کسی دشمن کی ضرورت نہیں۔